ڈاکٹر محمد سمیع الدین۔ تدریس سے محبت کاآدمی - محمدیوسف رحیم بیدری۔
ڈاکٹر محمد سمیع الدین۔ تدریس سے محبت کاآدمی -
محمدیوسف رحیم بیدری۔
ڈاکٹر محمدسمیع الدین یکم جون 1980ء کو تاریخی شہر اور ضلع بیدر کے ایک معروف قریہ بگدل میں پید اہوئے۔ وہ بگدل جس کو کبھی باغِ عدل کہاجاتاتھا۔چھٹی اور ساتویں دہائی کے بعدجہاں کے بیشتر نوجوانوں پر تعلیم حاصل کرنے کا اس قدر جنون سوا رہواکہ آج بگدل جیسے قریہ میں دس سے زیادہ ڈاکٹر اور لیکچرر مل جاتے ہیں۔ میڈیکل ڈاکٹر بھی علیحدہ سے اپنانام روشن کررہے ہیں۔ بگدل کے واسیوں کی ایک شناخت یہ ہے کہ وہ اپنے نام کے آگے بگدلی ضرور لکھتے ہیں لیکن ڈاکٹر محمد سمیع الدین نے ایسا کبھی نہیں کیا۔
ڈاکٹر محمد سمیع الدین یاروں کے یار ہیں۔ عشق کے طرفدار ہیں۔ تعلیم کوضروری سمجھتے ہیں اور اپنے پیشہ کے ساتھ وفاداری کو جزو ایمان تصور کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنے اساتذہ جیسے پروفیسر حمیدالدین سہروردی، حبیب نثار اور عبدالرب استاد وغیرہ کاذکر اور ان کی قدر کو اپنااوڑھنا بچھونا بنا رکھاہے تو حیرت نہیں ہوتی کہ استاد کے بغیر دنیا تپتا ہوا صحرا ہے۔ تاریخی شہر بید رکے’داما د‘ ہیں۔ جب کہ ایک اور تاریخی شہر بیجاپور میں برسرِ روزگار ہیں جہاں گھر کی تعمیرمکمل ہوچکی ہے مگر کہتے ہیں ”وظیفہ یابی کے بعد میں بیجاپور سے بھلے وطن واپس جاناچاہوں گالیکن میرے بچوں کولگتاہے کہ انھیں بیجاپورہی میں رہنا چاہیے“ جنریشن کی پسند کا معاملہ ہے۔ ایسی ہی صورتحال سمیع اللہ خان بازؔ کے ساتھ بھی پیش آئی تھی۔ وہ مع اہل وعیال بیدر واپس آنا چاہتے تھے لیکن بچوں کوشیواموگہ (شیموگہ) پسندتھا۔
ڈاکٹر محمد سمیع الدین اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے سکیاب اے آرایس انعامدار ڈگری کالج کے شعبہ ء اردو میں درس وتدریس کی ذمہ داری نبھانے میں لگے ہیں۔ بقراط ٹائپ کے پروفیسر نہیں ہیں۔خاموشی کے ساتھ بیٹھے رہنا، یا غوروفکر ٹائپ کے ہتھکنڈوں کو استعمال کرتے ہوئے چپکے چپکے سامنے والے پر رعب ڈالنا جیسی دھاکڑاورپررعب صفات سے وہ عاری ہیں۔ بولتے ہیں اور مسلسل بولتے ہیں۔اردو ادب پر بولتے ہیں، شعراء کی سادہ لوحی پر بولتے ہیں۔انجمنوں کے ذمہ داران کی غیرذمہ دار ی پر بولتے ہیں، تدریس پر بولتے ہیں، موجودہ سیاست پر (کم سہی لیکن) بولتے ہیں اور بولتے چلے جاتے ہیں۔بے لاگ بات کرتے ہوئے انھیں کسی قسم کا کھٹکا نہیں ہوتا لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جس بات کا انہیں نہیں پتہ، وہ کھلے دل سے تسلیم کرلیتے ہیں کہ میں یہ بات نہیں جانتا۔
پچھلے دِنوں ڈاکٹرحافظ عبدالمقیم کے ساتھ خاکسار سے ملنے مکان تشریف لا ئے اور باتوں باتوں میں معروف افسانہ نگار محترمہ رخسانہ نازنین کے افسانوں کی بات چل نکلی تو انھوں نے صاف کہہ دیاکہ میں رخسانہ نازنین کونہیں جانتا۔ فوری طورپر رخسانہ نازنین سے موبائل پر بات کرائی گئی۔ توافسوس کرتے رہے کہ واقعی میرے اپنے ضلع کی ایک معروف خاتون افسانہ نگارکی بابت پتہ نہیں تھا۔ افسانوں کامجموعہ بھیجنے کی استدعا کی تو محترمہ رخسانہ نازنین نے وعدہ کرلیاکہ وہ اپنے افسانوں کے تین مجموعے ضرور ارسال کریں گی۔
ڈاکٹر محمد سمیع الدین کو تدریس کا بے حدشوق ہے۔ طلبہ (زیادہ تر طالبات) کو نصاب ذہن نشین کرانے میں اپنی پوری طاقت لگانا ان سے متعلق پہلا تاثر ہے۔ میر ے خیال میں وہ نصاب پڑھاکر بات ختم نہیں کرتے۔ نصاب کی اہمیت بھی سمجھانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تاکہ یہ نصاب طلبہ کی زندگی کے ساتھ ساتھ چلتارہے۔ (چلتاتو استاد بھی زندگی کے ساتھ ہے)
ڈاکٹر محمد سمیع الدین کے تحقیقی مضامین اردو دنیا، سب رس، ادیب اورقومی زبان وغیرہ میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔یہ وہی مضامین ہیں جو قومی اور بین الاقوامی سیمیناروں میں انھوں نے پیش کیاہوتاہے۔ ان کی ایک اہم کتاب ”سوغات ِ ادب“ کے نام سے 2020ء کو منظر عام پر آئی ہے جس میں ان کے علمی وادبی مضامین شامل ہیں۔ قطب مشتری، سب رس، ابراہیم نامہ، مسد س حالی،اور غبار خاطر کا انھوں نے تحقیقی وتنقیدی مطالعہ پیش کیاہے۔ اسی طرح نظیراکبر آبادی، اقبال اور گاندھیائی فکرپر بھی لکھاہے۔ اردو میں خاکہ نگاری، سفرنامہ، اردو صحافت اور انٹرنیٹ پر اردو جیسے موضوعات پر بھی خامہ فرسائی کی ہے۔ حالیہ ادبی شخصیات میں جیلانی بانو، حمیدسہروردی، ڈاکٹر سید سجاد، عتیق اللہ رؤف خوشتر،اور رفیع بھنڈاری پر مضامینبھی شامل ہیں۔اسی طرح مزید دوکتابیں میٹھا لہجہ کڑواسچ (2014)اور ادب شناسی (2019) انھوں نے ترتیب دی ہیں۔
ان کی 46ویں سالگرہ (یکم جون 2026ء) پر دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر محمد سمیع الدین کو علم کے حصول اور علم کی تبلیغ وتشہیرکے تمام مراحل سے گزارے۔ ان کے صاف ستھرے مزاج کو سادگی اور خاکساری کے مزید پیکر عطا کرے۔ان سے اردو اور دکنی زبان کی خدمت کاکام لے۔ ہر بلا سے وہ اور ان کے اہل وعیال اور ان کاپوراقبیلہ محفوظ رہے۔وہ اپنے طلبہ کے لئے نہایت شفیق اور رحیم استاد (پروفیسر)ثابت ہوں۔ آمین ثم آمین
Comments
Post a Comment