دل کے جھروکے میں۔ازقلم : مسرورتمنا


دل کے جھروکے میں۔
ازقلم : مسرورتمنا۔

وہ بے پناہ حسین تھی دل میں بہت سے ارمان جاگ رہے تھے
جنہیں وہ چاہ کر بھی پورا نہیں کرسکتی تھی کیونکہ وہ غریب تھی آماں دوسروں کے کام کرکے کھانا اور انکے اترن لا کر سکینہ کو دیتی تو وہ پورا گھر سر پر اٹھا لیتی آماں پیدا ہی کیوں کیا
مجھے . . تیری طرح غریبی کی آگ میں جل جل مروں 
چپ کر سکینہ لوگ ہم پر ہنسینگے آماں نے کہا 
تبھی ا ماں کی سہیلی آ گئ اور پتہ نہیں 
کیا کہا اماں کا چہرہ کھل اٹھا...
...............
سکینہ ابھی نہا کر نکلی تھی 
آماں نے اسے پراٹھے دیے اور کہا
آج شآم کو تیرا نکاح ہے
اس نے ناشتہ نہیں کیا
سن سکینہ میری ناک مت کٹانا
تجھے اچھا گھر ملا ہے بڑے گھروں کی لڑکیاں بھی بن بیاہی بیٹھی رہـتی ہیں تو پھر غریب کو کون پوچھے میں کل کو مر گئ
تو دوسروں کے گھر میں کام کرنا اور اپنی حفاظت کرنا تجھ سے نہ ہو پاے گا اسلیے میرا حکم مان اور ہاں اپنی یہ گز بھر لمبی ذبان بند رکھ
..........................
سکینہ نے دیکھا بہت شاندار بنگلہ تھا شجاعت علی اسکے قریب اے تو وہ انہیں دیکھتی رہ گئ انہوں نے ابھی کچھ کہنا تھا تبھی ایک خوبصورت معصوم سی بچی اگی 
پاپا یہ ہماری مما ہیں نا اور اسکے گود میں بیٹھ گی
سکینہ نے چینخ کر کہا آپ اسکے باپ ہیں ہمارے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ. بچی کو ملاذمہ آکر لے گئ .. چپ کرو سکینہ ہم نے کوی دھوکہ نہیں دیا تمہاری اماں سب جانتی ہیں میرے دو اور بیٹے بھی ہیں جو ہوسٹل میں رہتے ہیں
آپکو شرم نہیں آی مجھ سے شادی کر لی میں کل چلی جاو نگی......
سکینہ شادی تو میں نے اپنی بچی کے لیے کیا ہے اسے ماں چاہیے تھی کل تمہاری اماں آیں تو جو فیصلہ کرنا ہو کر لینا
وہ دوسرے کمرے میں جاتے ہوے بولے اور ہاں یہاں تیز آواز میں بات نہ کرنا...
.................
دوسرے دن ولیمہ تھا سکینہ نے 
بہت سارے ذیور اور عمدہ کپڑے پہنے ہوے تھے آماں خوش ہویں تو وہ بولی تمہیں یہ تین بچوں کا باپ میرے لیے ملاہے نا برباد کردیا ماں تو نے مجھے وہ رونے لگی
سکینہ چپ ہو جا اور میری بات سن میں نےتجھے آباد کیا ہے ٹیرا گھر بسا کرتو کیا گھر گھر کام کرتی گھر کے مالکوں سے اپنے آپ کو بچا سکتی یہاں چیل کی نظریں رکھنے والے لوگ ہیں
پتہ ہے داماد جی نے میرے حج پر جانے کا بندوبست کیا ہے
اماں تم چلی جاوگی تو یہ شجاعت مجھ پر ظلم.....
چپ کر بہت اچھا انسان ہے وہ
پھر واپس آکر میں تیرے ساتھ رہونگی ایک بات یاد رکھنا
انکے بچوں کو اپنا سمجھنا
پیار کرنا وہ چلی گی
............
شجاعت علی نے دیکھا تو حیران رہ گیے وہ ننھی پری کو اپنے ہاتھوں سے کھانا.کھلا رہی تھی
انہیں دیکھ کر شرماگی
سکینہ انہوں نے پیار سے کہا
شکریہ میری بچی کو اپنا یا
آپکا بھی شکریہ مجھے اپنا بنایا
اور شجاعت علی نے اسے گلے سے لگالیا.   

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔