خوف خدا والے دین کی ضرورت ہے۔۔ - تحریر : مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی۔


خوف خدا والے دین کی ضرورت ہے۔۔ -  
تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی۔
9881836729

 آج ہم اس دور میں یہ مشاہدہ کر رہے ہیں،کہ ہم میں کتنی تبدیلیاں، خرابیاں اور برائیاں سرایت کرچکی ہیں۔ انسانی حقوق کی پا مالی، اخلاقی اقدار کا فقدان، تہذیب و تمدن کی کمی، کسی کی عزت نفس میں کتروبیونت، اور ایک دوسرے سے الفت ومحبت یہ ہم سے آہستہ آہستہ متروک اور کھسک رہی ہیں، اور اسکی جگہ نفرت،حسد ،کینہ، قطع رحمی ، انانیت، خودنمائ، انسان میں تخلیق پارہی ہے۔ جو خدائ دین سے ہم کو دور کررہی ہے۔جو ایک لمحہ فکریہ اور تشویشناک بات ہے۔ جبکہ اسلام کی خوبصورت تعلیم اور اللہ کا فرمان ہے کہ اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاو۔ اللہ کے پاس فوقیت اور برتری اسی کو ہے جو اللہ سے ڈرتا ہو، جب امتوں میں بگاڑ اور اخلاقی اقدار کو پامال کیا جاتا ہے تو اللہ سے ڈر والا دین جاتا رہتا ہے۔ اور اسکی جگہ ( Glamour) گلیمر اور نمائشی دین جگہ لیتا ہے۔ جس سے انسانیت کی ہلاکت کے سوا اور کچھ نہیں۔ جو اللہ کا خوف نہیں رکھتا، اسے ساری دنیا ڈراتی ہے،اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، ساری دنیا اس سے ڈرتی ہے۔ ایک سنت مسواک کی ادا کرنے پر دشمنوں کے دلوں میں یہ خوف جاگتا ہے کہ وہ اب دانت تیز کرکے ہمیں کچا چبا دینگے، تو سوچیے اللہ اور اسکے رسول کی مکمل شریعت پر عمل پیرا ہونے سے کتنی سرخروئ اور کامیابی مقدر بنیگی۔ حدیث میں کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے صدقہ کی کھجور لے کر اپنے منہ میں ڈالی تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھینکنے کو کہا۔ اور فرمایا کہ کیا آپ کو نہیں معلوم کہ صدقہ کی چیز نہیں کھاتے۔ کتنا خوف خدا، کتنتی ہرہیز گاری ،اور کتنا تقوی۔ یہی اللہ کو مطلوب ہے۔ جس دین میں یہ لکھا ہو کہ انسان کی عزت نفس کا خیال رکھیں،وہیں یہ بھی درج ہے کہ مومن کی عظمت کعبہ سے بھی زیادہ ہے۔ جب قوم و ملت میں تخریب کاری جنم لیتی ہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ دین کی صورتیں اور اسکی تعلیمات مٹ جاے۔ جہاں خودنمائ اور گلیمر والا دین آجاتا ہے۔ اور جب یہ خطرناک عناصر انسان میں ( creat) تخلیق پاتے ہیں تو انسان کے پاس عمل نہیں رہتا اور خداے برتر کا خوف آہستہ آہستہ رخصت ہوتے جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان ظاہری نمائیش اور کمائ ہوی دولت کو اپنی محنت اور چالاکیوں کا نتیجہ سمجھنے لگتا ہے۔ لیکن ایسا ہرگز نہیں۔ مال و دولت اکٹھا کرنا چالاکیوں اور محنت کا سبب ہرگز نہیں ۔اللہ محنت بسیار کے باوجود مقسوم اور تقدیر میں جو لکھا ہے وہی آپ کو عطا کرتا ہے، ورنہ آج بڑے بڑے اور تعلیم یافتہ لوگ معاشی بحران کا شکار نہ ہوتے ۔ اگر رزق کا تعلق چالاکیوں سے ،تعلیم سے، یا معلومات سے ہوتا تو اللہ ( illiterate ) انپڑھ لوگوں کو اہل ثروت نہیں بناتا۔ میدان کے کھلاڑیوں کو کروڑپتی نہیں بناتا، اور کچھ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جنہیں نوٹوں کی گنتی نہیں آتی، اور نہ وہ موبائل میں ہندسوں کو سمجھتے۔ اللہ نے ایسے لوگوں کی بھی قسمت بنائ ہے۔ اور انہیں مالا مال کیا ہے۔ حدیث میں ہے نماز دین کا ستون ہے، اور جس نے اس کو قائم کیا ،اس نے دین کو قائم کیا۔ اور جس نے اس کو ڈھایا،اس نے دین کو ڈھایا۔ نماز تمام برائیوں سے روکتی ہے، اور اللہ سے ڈر والے راستہ پر ڈالتی ہے۔ جس سے خدا کا خوف پیدا ہوتا ہے۔ جو لوگ دین پر عمل پیراء نہیں ہوتے، وہ اندر سے خالی اور بڑے بڑے نمائیشی والے اعمال کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بڑا دینی فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ بلکہ وہ اللہ کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ یہی انسان جب اللہ کی طرف سے آسائیش اور راحت میں ہوتا ہے تو وہ رب کو بھول جاتا ہے۔اور جب تکلیف یا مصیبت میں ہوتا ہےتو اللہ کو یاد کرتا چناچہ فرمان الھی ہے۔ تم میں سے اللہ کے نذدیک سے سب سے بہتر وہ ہے ،جو اللہ سے ڈرتا ہو یعنی پرہیزگا اور خوف خدا رکھتا ہو۔ قربانی میں امت مسلمہ کو سب سے بڑا درس یہ ہے کہ پیارے بیٹے نے اپنے باپ کے خواب کی تکمیل کرنے کو کہا، جبکہ یہ اللہ کی عظیم آزمائیش تھی کہ ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی راہ میں قربان کریں۔ اور بیٹا اطاعت کے لیے تیار ہے۔ ہم قربانی تو کرتے ہیں ،لیکن اطاعت اور خوف خدا نہیں رکھتے، قربانی میں باپ کی اطاعت اور فرما برداری کا قوم و ملت کے نام ایک بڑا اور عظیم پیغام ہے۔ اور یہ بھی ہے کہ ہر سال لاکھوں جانور اللہ کی راہ میں اپنا سر کٹاتے ہیں ،گویا کہ وہ اپنی زبان سے امت مسلمہ کو یہ پیغام دیے جاتے ہیں کہ ہم اللہ کی راہ میں تو سر کٹاسکتے ہیں۔ کیا آپ اللہ کے سامنے اپنا سر خم نہیں کرسکتے؟ کیا آپ اپنے نفس کو قابو نہیں کرسکتے؟ گویا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی فرمابرداری اور اطاعت انسانی کے تاریخ کا روشن باب ہے۔ جس میں تسلیم ورضا اور فرزندی کا مثالی نمونہ۔ اللہ ہمیں تقوی اور پرہیزگاری عطا فرماےآمین۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔