خصوصی ووٹر فہرست نظرِ ثانی (ایس آئی آر) کے خلاف بیدر میں زبردست احتجاج۔
بیدر، 30 مئی (نامہ نگار): ایس آئی آر مخالف سیکولر جماعتوں اور عوامی تنظیموں کی کرناٹک فیڈریشن، آڈیلو کرناٹک تنظیم اور دیگر ترقی پسند و سیکولر جماعتوں کے اتحاد کی جانب سے ووٹر فہرست کی خصوصی نظرِ ثانی (ایس آئی آر) کے خلاف بیدر شہر میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر سرکل پر اجتماع منعقد کرتے ہوئے ایس آئی آر کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔
بعد ازاں احتجاجی ریلی کی شکل میں اسسٹنٹ کمشنر دفتر تک مارچ کیا گیا اور وزیر اعلیٰ کرناٹک اور ریاستی چیف الیکشن افسر کے نام ایک یادداشت اسسٹنٹ کمشنر پرکاش کدرے کے حوالے کی گئی۔
مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایس آئی آر ایک غیر آئینی، غیر سائنسی، ناقص اور بدنیتی پر مبنی عمل ہے جس کے ذریعے عام ووٹروں خصوصاً غریبوں، مزدوروں، دیہی عوام، اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے حق رائے دہی کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر فہرست پر نظرِ ثانی کے نام پر عوام میں الجھن اور بے یقینی پیدا کی جا رہی ہے، جبکہ الیکشن کمیشن کو آئینی اصولوں اور شفاف عوام دوست طریقۂ کار پر عمل کرنا چاہیے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ جمہوریت مخالف اور عوام دشمن ایس آئی آر کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور اس کی جگہ ایک شفاف، سائنسی اور عوام دوست نظام نافذ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہجے یا تاریخ جیسی معمولی غلطیوں کی بنیاد پر کسی شہری کو ووٹ کے حق سے محروم کرنا ناقابلِ قبول اور جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
یادداشت میں مطالبہ کیا گیا کہ ابتدائی ووٹر فہرست کو ایسی قابلِ مطالعہ اور قابلِ تلاش شکل میں عوام کے لیے دستیاب بنایا جائے جس سے ہر ووٹر آسانی سے اپنے نام کی جانچ کرسکے۔ مزید برآں ہر گرام پنچایت اور وارڈ میں مسودۂ ووٹر فہرست شائع کرکے عوامی جانچ پڑتال کا موقع فراہم کیا جائے اور اس پورے عمل کے لیے کم از کم ایک سال کی مدت مقرر کی جائے۔
مقررین نے شادی شدہ خواتین، مہاجر مزدوروں، طلبہ، خانہ بدوش برادریوں، قبائلیوں، دلتوں اور غریب اقلیتوں کے لیے خصوصی سہولتیں فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی شہری دستاویزی مسائل کے باعث جمہوری عمل سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے ہر گرام پنچایت اور وارڈ میں ووٹر رہنمائی مراکز قائم کرنے اور دستاویزات سے محروم افراد کو فوری طور پر رہائشی تصدیقی اسناد جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
احتجاجی شرکاء نے متنبہ کیا کہ اگر مذکورہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ریاست بھر میں احتجاجی تحریک کو مزید شدت دی جائے گی۔
اس احتجاج میں انڈین نیشنل کانگریس، عام آدمی پارٹی، ویلفیئر پارٹی آف انڈیا، آر پی آئی، سی پی آئی، کرناٹک ریاستی کسان سنگھ، سمیتا کسان مورچہ، کرناٹک راشٹرا سمیتی، جاگرتا کرناٹک، کرناٹک ریاستی دلت سنگھرش سمیتی، وشواکرانتی، اسلامی تنظیموں، خانہ بدوش برادریوں، کرناٹک سماجی ترقی ایسوسی ایشن، آل انڈیا لنگایت مہاسبھا اور دیگر متعدد سماجی و عوامی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اس موقع پر بسواراج جباشیٹی، ماروتی بڈھے، اوم پرکاش روٹے، مہیش گورنالکر، بابوراؤ ہونا، نظام الدین، امرت راؤ چیمکوڈ، جگدیشورا برادار، گوپال سنگھ ٹھاکر، ونئے کمار ملاگے، سدپا پھولاری، محمود عباسی، اسماء سلطانہ، بھیم سنگم، وجئے کمار، فراست علی، مولانا عبدالغفار، درگاپا، رامپا اور دیگر رہنماؤں و کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
Comments
Post a Comment