ترقی لاپتہ، عوام بے حال - کیا صرف گمراہ سیاست اور زبانی جمع خرچ کے بھروسے چلے گا شہر؟ ازقلم : وسیم رضا خان۔
ترقی لاپتہ، عوام بے حال -
کیا صرف گمراہ سیاست اور زبانی جمع خرچ کے بھروسے چلے گا شہر؟
ازقلم : وسیم رضا خان۔
مالیگاؤں مہانگر پالیکا کے انتخابات بیت گئے، اقتدار کی نئی بساط بچھ گئی اور شہر کی کمان اسلام پارٹی کے ہاتھوں میں آ گئی۔ تبدیلی کی امید لگائے بیٹھی عوام کو لگا تھا کہ شاید اب شہر کی صورت بدلے گی۔ لیکن اقتدار سنبھالتے ہی جو تصویریں اور فیصلے سامنے آئے، انہوں نے شہر کے بیدار شہریوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ آج مالیگاؤں کی سیاست ترقی کے مسائل سے بھٹک کرخاندانی سیاست اور بیان بازی کے ارد گرد سمٹ کر رہ گئی ہے۔ دونوں دوست پارٹیوں کے خاندان کارپوریشن میں اپنی اپنی کرسیاں سنبھالے ہوئے ہیں. یہی معاملہ ایم آئی ایم کے کچھ لوگوں کا بھی ہے.
اسلام پارٹی کے بانی آصف شیخ نے مہانگر پالیکا میں اقتدار پاتے ہی میئر کی کرسی پر اپنے بھائی کی بیوی کو بٹھا دیا۔ سیاست سے دور دور تک واسطہ نہ رکھنے والی ایک خاتون کو سیدھے شہر کا پہلا شہری بنا دینا عوام کے گلے نہیں اتر رہا ہے۔ چرچے تو یہاں تک ہیں کہ ایک ہی خاندان اور رشتہ داری کے قریب 7 ارکان مہانگر پالیکا کے ایوان میں منتخب ہو کر پہنچے ہیں۔ مالیگاؤں کی عام عوام کے بیچ اب یہ سوال زور پکڑ رہا ہے کہ کیا یہ جمہوریت ہے یا پھر کسی ایک خاندان کی نجی جاگیر؟ جب فیصلے زمین سے جڑے کارکنوں کے بجائے خاندانی گلیاروں میں ہونے لگیں، تو ترقی کی امیدیں دم توڑنے لگتی ہیں۔ مخالف جماعتوں کا الزام ہے کہ اسلام پارٹی نے اقتدار میں آتے ہی صرف تجاوزات ہٹانے کو ہی اپنی سب سے بڑی کامیابی مان لیا ہے۔ یقینی طور پر شہر کو منظم کرنا ضروری ہے، لیکن کیا تجاوزات ہٹانا ہی واحد ترقی ہے؟ اس کے علاوہ شہر میں کوئی بھی بڑا یا بنیادی ترقیاتی کام شروع ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا ہے۔ عوام پوچھ رہی ہے کہ نئے پروجیکٹس، نئے روزگار اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے منصوبے کہاں ہیں؟ اس پورے منظر نامے میں اہم اپوزیشن پارٹی اے آئی ایم آئی ایم کا کردار بھی بے حد مایوس کن رہا ہے۔ اپوزیشن کے کارپوریٹرز صرف اقتدار والوں پر انگلی اٹھانے یا وارڈوں میں جا کر فوٹو کھنچوانے کے لیے کچرا اٹھانے کی سیاست تک محدود رہ گئے ہیں۔ مہاپالیکا کے دائرہ اختیار میں آنے والے بڑے ترقیاتی کاموں کو لے کر اپوزیشن کے پاس بھی کوئی ٹھوس حکمت عملی یا وژن نظر نہیں آتا۔ آج مالیگاؤں مہانگر پالیکا میں اقتدار اور اپوزیشن، دونوں ہی صرف باتوں کی سیاست کر رہے ہیں۔ عوام کو گول مول وعدوں اور زبانی جمع خرچ کے جال میں پھنسا کر اصلی مسائل سے دھیان بھٹکایا جا رہا ہے۔ ہر سال کارپوریٹرز کو اپنے وارڈ کی ترقی کے لیے لاکھوں کروڑوں روپے کا فنڈ ملتا ہے۔ لیکن تعجب کی بات ہے کہ نہ تو اقتدار اور نہ ہی اپوزیشن کے کسی کارپوریٹر نے آج تک اپنے فنڈ اور اس سے ہونے والے کاموں کا کوئی شفاف بیورہ عوام کے سامنے پیش کیا ہے اور ایسا کئی دہائیوں سے ہوتا آ رہا ہے. آخر یہ پیسہ کہاں جا رہا ہے؟
کاغذی دعووں اور بیانات سے ہٹ کر مالیگاؤں کی زمینی حقیقت بے حد دردناک ہے۔ تہواروں کے سیزن میں، جب گھروں میں پانی کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، تب عوام بوند بوند پانی کے لیے ہاہاکار مچاتی ہے۔ شہر کی سڑکیں گڈھوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ ان خراب سڑکوں کی وجہ سے آئے دن حادثات ہو رہے ہیں اور معصوم لوگ اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔ صفائی کا نظام پوری طرح چرمرا چکا ہے۔ چوک پڑی ڈرینیج لائنیں اور سڑکوں پر بہتا گندا پانی شہر کی پہچان بنتا جا رہا ہے۔ ان سنگین مسائل کے بیچ، میئر کی کرسی پر بیٹھیں شہر کی پہلی شہری اپنے سپریمو کی لکھی ہوئی اسکرپٹ کو پڑھنے میں مصروف دکھائی دیتی ہیں، تو دوسری طرف ڈپٹی میئر صرف بیان بازی کر کے اپنی سیاست چمکا رہی ہیں۔ عوام کی سدھ لینے والا کوئی نہیں ہے۔ مالیگاؤں کی عوام نے جس تبدیلی کے لیے ووٹ دیا تھا، وہ تبدیلی اب ان کے لیے ایک چھلاوا ثابت ہو رہی ہے۔ شہر کو زبانی جمع خرچ کی نہیں، تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اقتدار والے خاندانی سیاست کے موہ سے باہر نکلیں اور اپوزیشن صرف مخالفت برائے مخالفت کرنا بند کرے۔ اگر جلد ہی بنیادی مسائل پر توجہ نہیں دی گئی، تو عوام کا یہ غصہ آنے والے وقت میں اس سیاسی ڈرامے کا انت کرنے کے لیے کافی ہوگا۔ لیکن اس کے لیے پہلے عوام کو خود سیاست اور ان کے ساتھ ہونے والے دھوکے کی پینترے بازی کو سمجھنا ہوگا۔
Comments
Post a Comment