مرزا چشتی صابری نظامی کایومِ پیدائش یکم جون - محمدیوسف رحیم بیدری۔


مرزا چشتی صابری نظامی کایومِ پیدائش یکم جون -   محمدیوسف رحیم بیدری۔
موبائل:9845628595  

 کون کس تاریخ کو پیدا ہواہے، اس کی گوکہ اہمیت نہیں ہے، مگر تاریخ پیدائش کا ایک سلسلہ اکیسویں صدی میں یوں بھی اہمیت اختیار کرگیاہے کہ ہندسوں کی بنیاد پر AIاپنی کارکردگی دکھاتاہے اور پوری دنیا اسی الگورتھم پر چل رہی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھاجائے تو بیدر کے صوفی شاعر جناب مرزاؔچشتی صابری نظامی کا یوم ِ پیدائش یکم جون ہے۔
  ان کے والد ِمحترم اور جدامجد کے بارے میں بھی جاننا ضروری ہوجاتاہے۔”مرزا محمودعلی بیگ مرزاؔشہر بیدر کے محلہ نورخاں تعلیم میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والدِ بزرگوار حضرت مرزا باقر علی بیگؒ (موظف پولیس انسپکٹر) تادمِ زیست مسجد شاہ خاموشؒ میں پیش امام کے فرائض بحسن و خوبی انجام دیتے رہے۔ حضرت اعظم علی صوفی قادری چشتیؒ (کوہیر) اور حضرت عبداللہ شاہ صاحب قبلہؒ کے دستِ حق پرست پر بیعت تھے۔ والدہ محترمہ جن کی عمر اس وقت 108 (ایک سو آٹھ) برس ہو رہی ہے، وہ بھی حضرت اعظم علی صوفیؒ (کوہیر) کے دستِ مبارک پر بیعت ہیں۔ مرزا صاحب کو بیعت و خلافت والد کے علاوہ حضرت سید قمر الدین صاحبؒ سے حاصل ہے۔ آپ کا طریقی نام نور اللہ شاہ چشتی صابری نظامی قادری نقشبندی وسہروردی ہے۔ان کے خاندان کے جدِ اعلیٰ حضرت مرزا علی بیگؒ شہرِ بے بہان ملکِ ایران سے ملکِ ہند تشریف لائے اور اجمیر شریف میں حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ سے فیض یاب ہوئے اور انہیں کے حکم پر جانبِ دکن روانہ ہوئے۔ اور موضع وڈی (جو کہ شہر بیدر سے 12 کلو میٹر جانبِ مشرق ہے) مستقل قیام فرمایا۔ ان کی درگاہ آج بھی زیارت گاہِ خاص و عام ہے۔ ہر برس عرس بڑے اہتمام سے منایا جاتا ہے، اس درگاہ کے موجودہ سجادہ نشین مرزا صاحب ہی ہیں۔ مرزا صاحب کو گھر کے ماحول کے علاوہ اوائلِ عمر ہی سے تصوّف سے قدرتی طور پر شدید لگاؤ ہے چنانچہ ان کے کلام میں مکمل تصوّف کا رنگ ہے اور سارا کلام عشقِ حقیقی پر ہے۔ ان کے کلام کی پہچان یہ ہے کہ ہر مقطع میں حضرت ”خواجہ“ کا نام لازمی آتا ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انہیں حضرت خواجہؒ سے کس قدر عشق ہے“(بحوالہ کتاب ”باقہ“مرتبہ:محمدیوسف رحیم بیدری، صفحہ نمبر198، اشاعت:26/جنوری 2009؁ء) 
 حضرت والا مرز اؔ کی غزلیں تصوف سے اس قدرمملو ہیں کہ کوئی صوفی شارح ہی ان کی غزلوں کی عمدہ شرح لکھ سکتاہے لیکن یہ غزلیں غزلوں کے عنوان سے بھی نہیں ہیں اور نہ ہی حمد ونعت یا منقبت کا عنوان انھیں دیاگیاہے۔ ایک دریائے رحمت ونعمت بہتا ہوامل جاتاہے، اپنے علمی وعملی ظرف کے مطابق اس دریاسے پیاسا فیض پائے۔ حضرت مرزا ؔصاحب کہتے ہیں ؎
چشم ِ پروردگار ہوتے ہیں 
جوبھی ان پر نثار ہوتے ہیں 

جو بھی دیکھاہے خود اپنے کو ہی پاتا دیکھا
حق کی نظروں نے فقط حق کے سوا کیادیکھا 

نہاں دیکھتاہوں، عیاں دیکھتاہوں 
میں وحدت میں دریا رواں دیکھتاہوں 

دل ہے بے چین پھر اس کے دیدار کو
مل کے جب سے گیا دوگھڑی کے لیے 

تعریف حسن ِ یار کی کس کی مجال ہے 
جس کا ہے جتنا ظرف بس اتنا خیال ہے 

جن کے دِل میں بسا ہے میں اور تو 
پھول بھی ہوں تو خار ہوتے ہیں 

مست و بے خود بنایاجاتاہے 
رُخ سے پردہ اُٹھایاجاتاہے 

سنا ہے جب سے تمہیں دیکھنا عبادت ہے 
تمہارے چہرے پہ، نظر یں جمائے بیٹھے ہیں 

یار کوجان کے قربان ہوئے 
آج ہم صاحب ِ ایمان ہوئے 

دیکھنے والوں نے اس دنیا میں کیاکیادیکھا
ہم نے بس یار کو ہر رنگ میں یکتا دیکھا

ہونہ ہو آج ان کی آمد ہے 
نورورحمت کے تانے بانے ہیں 

پسار اہے یہ کنتُ کنزاً کاسار ا
عجب عشق کی داستاں دیکھتاہوں 

دیوانے ان کے ہیں کرنے دو، دیوانوں کا ہی تو کام ہے یہ 
کرتے ہیں طوافِ نقشِ قدم اک اس کے سواسب بھول گئے 

ہویار میں فنا تو فنایارتجھ میں، پھر 
تیراخیال یار کا اپنا خیال ہے 

آنسوؤں کے دِئے جلائے ہیں 
گل ِ دل جابجابچھائے ہیں 

وجودِ محبت سجاتارہوں گا
دوئی کو میں اپنی مٹاتا رہوں گا

جان ِ جاناں کو نہیں جانے جو 
بس وہی لوگ پریشان ہوئے 

جوآیادِل میں وہ ویسا ہی کردئے صاحب 
صراحی، جام اورپیمانہ کردیا مجھ کو 

کہاسن کے خواجہ نے مرزاؔ دہائی 
میں ہرسانس میں تیری آتارہوں گا

اُن کادستِ کرم جب دراز ہوگیا
میں جو بے چارہ تھاچارہ ساز ہوگیا

یہ کالی کملیا، یہ چادر، یہ زلفیں 
یہ آیات ِ قرآن پڑھاتارہوں گا

نقش پائے قدم رہ گئے 
ان کے دیوانے کم رہ گئے 

ہاں ذکر اور اس کا ہی پیرِ مغاں سے پوچھ 
وصل ونظر کی بات، کسی بے نشاں سے پوچھ 

خواجہ ؒ کاترے مرزاؔ، آباد ہے میخانہ 
کیابندہ نوازی ہے سرکار نرالے ہیں 

 شاعری کے علاوہ مرزاؔصاحب کو تحقیق سے بھی حددرجہ لگاؤ ہے۔ جس وقت کتاب ”تذکرہ حضرت ملتانی بادشاہ ؒ “کے لئے تحقیق شروع کی تو کھانے پینے کاہوش نہ تھااور نہ ہی وقت پر سونے کاخیال۔جب کہ مرزا صاحب ان دونوں معاملات میں وقت کے سختی سے پابند ہیں۔اس کتاب کے بارے میں خاکسار نے لکھاتھاکہ ”کتاب ”تذکرہ حضرت ملتانی بادشاہ رحمتہ اللہ علیہ“ کی ضرورت کو اہلیانِ بیدر ہی نہیں یہاں آنے والا ایک ایک زائر محسوس کرتا رہا ہے۔ بڑی اور عظیم الشان درگاہیں (مع گنبد) بیدر میں نظر آتی ہیں لیکن ان درگاہوں (اور صاحبِ مزار) کے تذکرے (اس طرح) عام نہیں ہیں۔ جیسا کہ تاریخی شہروں اور اولیائے کرام کے شہروں میں اولیائے کرام کے قصے زبان زدِ خاص و عام ہوتے ہیں۔ بزرگانِ دین کا تذکرہ نہ ہونا دراصل اپنے اسلاف کے تذکرے سے محروم ہونا ہے جو ہر دو جہاں کے حساب سے بدبختی کی بات کہلائے گی۔ غالباً اسی کے پیشِ نظر (اور روحانی تصرفات کے بین بین) حضرت مرزا چشتی صابری نظامی نے کئی دہائیوں کی خاموش تحقیق (اور کچھ عرصہ پر مشتمل سرگرم جستجو و تحقیق) کے بعد اپنی تحقیق کے نتائج کتابی شکل میں بنام ”تذکرہ حضرت ملتانی بادشاہ رحمتہ اللہ علیہ“ پیش کرتے ہوئے اہلیانِ بیدر پر احسانِ عظیم کیا ہے۔ مولانا محمود عالمؒ کہا کرتے تھے کہ کتاب کی اشاعت سے علم کی آمد آمد ہوتی ہے۔ اور صاحبِ کتاب ہماری جانب سے پذیرائی اور شکریہ کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ متعلقہ کتاب کا علم اپنے بزرگانِ دین اور اسلاف سے متعلق ہے، جس کی بڑھ چڑھ کر پذیرائی وہی کرتے ہیں جن کے حصہ میں علمی خوش بختی آئی ہو(بحوالہ کتاب ”تذکرہ حضرت ملتانی بادشاہ ؒ، تالیف وتحقیق:حضرت مرزاؔچشتی صابری نظامی، صفحہ 12، اشاعت:5/نومبر2022؁ء بروزہفتہ)
 جس وقت میں اپنی کتاب ”شخصیات“ کی تالیف میں لگاہواتھا، میں نے مرزاؔصاحب کی دلچسپی اور ان کے مقصدِ حیات کے پیش نظر ان سے جب بید رکے اولیاء اللہ کامختصر تذکرہ لکھ کردینے کے لئے کہاتب وہ”فضائل ِ اہل ِ بیت اطہار ؑ“نامی کتاب کی تصنیف میں منہمک تھے۔ باوجود اس یکسوئی کے انھوں 
نے ”چند اولیاء اللہ بیدرکاتذکرہ“ عنوان سے ایک تحقیقی مضمون میرے حوالے کیا۔ جوکتاب”شخصیات“ میں صفحہ 12تا 25پر درج ہے۔جس میں 13اولیائے کرام کا ذکر ہے۔ جناب مرزا ؔچشتی صابری نظامی کی کئی ایک کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ جیسے مراۃ (دیوان مرزاؔ)، عظمت اہل ِ بیت اطہار۔ قرآن مجید اور احادیث کی روشنی میں، ماں باپ۔ قرآن واحادیث کی روشنی میں اور تذکرہ حضرت ملتانی بادشاہ رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ۔کئی ایک کتابوں پر انھوں نے تقاریظ تحریر کی ہیں۔ان میں ادبی کتابیں بھی شامل ہیں۔ جناب عبدالکریم کریم ؔ کاشعری مجموعہ ”مسر“ کے پیش لفظ میں وہ کہتے ہیں 
 ”نعت گوئی اتنا آسان مشغلہ تو نہیں کہ ہر کس و ناکس کی زبان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں لب کشائی ہو، یہ چشمے تو ان ہی دلوں کے تہہ خانوں میں پھوٹتے ہیں جو حبِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے لبریز ہوتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح وثنا، عظمت و رفعت، تعظیم و توقیر نعت کے مرکزی عناصر ہیں۔ بہ لحاظِ موضوع نعت کی تقدیس اور وسعتِ منفرد شان کی حامل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس سے محبت اور سچی وابستگی کی سب سے واضح علامت تقدیس و تعظیم اور احترام ہے۔ نعت نگاری کا پہلا قرینہ آدابِ رسالت کا مکمل التزام ہے۔ اس سلسلہ میں فکر و خیال کی پاکیزگی، صداقتِ مضمون، سلیقہء اظہار، بیان میں احترام، لفظوں کے انتخاب میں شایانِ شان کاوش اور فنی تقاضے کہیں آداب کو متاثر نہ کر دیں اس پر خاص توجہ ضروری ہے۔ دراصل نعت نگاری یا نعت گوئی انہیں کا مقدر ہے جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اپنے محبوب خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی دولت سے سرفراز کرے۔ اور عرفانِ ذاتِ رسولؐ کی نعمت، توفیقِ مدحت، علم و آگہی، فکر کی پاکیزگی، خیال کی بلندی، زبان و بیان کی قوت اور اظہار کی کماحقہ صلاحیت سے مالامال کرے۔صوفیاء کے نقطہ نظر سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت شریف کی ایک خاص اہمیت یہ بھی ہے کہ آپؐ کی تعریف و توصیف میں سارے انبیاء کرام کی تحسین و نعت شامل ہے۔ یعنی نعتِ احمدمیں سارے انبیاء کی نعت ہے۔ صوفیاء کے نزدیک معرفت و اتباعِ رسولؐ ہی عرفان و رضائے حق کا وسیلہ ہے۔ دراصل عرفانِ رسولؐ عرفانِ حق کا وسیلہ ہے۔“
 آگے لکھتے ہیں ”سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو نظم و نثر میں پیش کرنے کا سلسلہ قرونِ اولیٰ سے جاری و ساری ہے۔ عموماً نثر سے زیادہ نظم اثر انداز ہوتی ہے۔ ایک طویل مضمون ایک شعر میں جب ظاہر ہو جاتا ہے تو قلوب میں وجدانی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔ اولیائے کرام، صوفیائے کرام نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اتباع میں اشعار کے ذریعہ تبلیغ و رشد و ہدایت کا کام کیا۔ بالخصوص نعتیہ کلام مقبولِ بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ حضرت حسان بن ثابتؓ، حضرت کعب بن مالکؓ، حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ اور دیگر صحابہ کرام سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بذاتِ خود نعت سماعت فرمایا اور اظہارِ خوشنودی کیا۔محمد عبد الکریم کریم کا کلام گو کہ بیشتر مقامات پر قانونِ نعت گوئی وغیرہ سے آزاد نظر آتا ہے مگر ان کی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آل سے (خصوصاً مرثیے تو دل کو چھو لیتے ہیں) اولیاء اللہ سے والہانہ عقیدت و محبت مسلمہ ہے۔ جس کا انہوں نے اپنی شاعری میں نہایت سادگی، عاجزی اور انکساری سے برملا اظہار فرمایا ہے۔ بابِ غزل میں کم وبیش تمام غزلوں میں عارفانہ خیال ہے اور اندازِ صوفیانہ ہے۔ کتاب کے آخری حصے میں ”حصہ ء نظم“ کے عنوان کے تحت جو کلام پیش کیا گیا ہے اس میں وطن، حالاتِ حاضرہ اور مسلمانوں کے تئیں شاعر کے احساسات واضح ہیں۔آخر میں ہماری یہ دعا ہے کہ اس مجموعہء کلام کو پروردگارِ عالم قبول فرمائے اور اس کو قبولیتِ عام کی سند حاصل ہو جائے اور یہ مجموعہء کلام (جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آلِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روحانی لگاؤ اور والہانہ محبت و عقیدت کا اظہار ہے) صاحبِ کلام کے لئے ذریعہء نجات بن جائے۔ آمین(بحوالہ شعری مجموعہ ”مسر“، مرتبہ:نوشاد بیگم ایم اے، صفحہ 16اور 17، اشاعت:جون 2010؁ء)
 چند کتابیں ایسی بھی ہیں جن کی جانب حضرت مرزا ؔچشتی صابری نظامی نے التفا ت نہیں کی۔وہ کتابیں کافی دورسے آئی تھیں یامسودے آئے تھے۔ مرزا صاحب اردو، ہندی، دکنی،،انگریزی، اور فارسی پر عبو ررکھتے ہیں۔ فارسی کلام سے حددرجہ لگاؤ ہے۔ جب کہ فارسی شعراء کے تخیل اور ان کے علمی قد کے قائل ہیں۔ اللہ اور رسول اللہ سے ہر پل تعلق میں اضافے کو ایک مومن کیلئے وہ لازمی قرار دیتے ہیں۔ انہیں بزرگان ِ دین سے بڑی عقیدت ہے۔ اُن کے درپر حاضر ی دیاکرتے ہیں۔ چوں کہ صوفی ہیں اس لئے وسیع المشربی کے ساتھ حیات ِدنیا کوگزارلینا ضروری سمجھتے ہیں، دیگرمسلک والوں کوانھوں نے اپنے سے دور نہیں رکھا۔ اہل غرض بھی ان کے ہاں آتے ہیں اور اہل حال وقال بھی۔ سب کے لئے ان کے دِل کے دروازے کھلے ہیں اوراسی سلسلہ ء محبت واحترام کی اپنے مریدین کو بھی برابر تلقین کرتے رہتے ہیں۔حضرت مرزاؔچشتی صابری نظامی کی سالگرہ کے موقع پر میں اپنی مسرت کااظہار کرتاہوں اور توقع ہے کہ وہ اپناعلمی وتحقیقی کام جاری رکھیں گے۔دعاگو ہوں کہ یہ دِن ہزاروں بارآئے۔ اور ایک دنیا ان کے علم، ان کے اخلاص اوران کے فضلِ محبت ونور سے مستفید ہوتی رہے۔ آمین

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔