اردو زبان کے فروغ کے لیے نوجوانوں کو آگے آنا ہوگا - صدر اردو ساہتیہ اکیڈمی مہاراشٹر اسٹیٹ سید حسین اختر سے عبدالرازق کی خصوصی گفتگو۔


انجنگاؤں سورجی (ضلع امراوتی) / خصوصی نمائندہ عبدالرازق
اردو ساہتیہ اکیڈمی مہاراشٹر اسٹیٹ کے صدر جناب سید حسین اختر نے کہا ہے کہ اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے نوجوان نسل کی شمولیت ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکیڈمی مہاراشٹر بھر میں خصوصاً ودربھ کے اضلاع اکولہ، امراوتی، ناگپور، بلڈانہ، واشم اور برار کے علاقوں میں ادبی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عبدالرازق سے ایک خصوصی گفتگو کے دوران کیا۔
سوال: اردو ساہتیہ اکیڈمی کی موجودہ ترجیحات کیا ہیں؟
سید حسین اختر: ہماری اولین ترجیح اردو زبان و ادب کا فروغ ہے۔ اس مقصد کے لیے مشاعرے، ادبی نشستیں، سیمینار، تربیتی پروگرام اور ثقافتی سرگرمیاں منعقد کی جا رہی ہیں تاکہ اردو سے وابستہ افراد کو بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
سوال: کیا ودربھ کے علاقوں کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے؟
جواب: جی ہاں، ودربھ میں بے شمار باصلاحیت شاعر، ادیب اور نوجوان موجود ہیں۔ اکیڈمی کی کوشش ہے کہ ان علاقوں میں زیادہ سے زیادہ ادبی پروگرام منعقد ہوں اور مقامی صلاحیتوں کو ریاستی سطح پر متعارف کرایا جائے۔
سوال: مشاعروں اور ادبی پروگراموں کے لیے اکیڈمی کس طرح تعاون کرتی ہے؟
جواب: اکیڈمی مختلف ادبی و ثقافتی پروگراموں، مشاعروں اور کانفرنسوں کے لیے امداد اور تعاون فراہم کرتی ہے تاکہ ادبی سرگرمیوں کا دائرہ مزید وسیع ہو اور زیادہ سے زیادہ لوگ اردو سے جڑ سکیں۔
سوال: کتابوں کی اشاعت اور ادیبوں کی حوصلہ افزائی کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
جواب: اردو کتابوں کی اشاعت، معیاری کتابوں کی طباعت، نئے قلمکاروں کی رہنمائی اور ادبی خدمات پر انعامات و اعزازات دینا ہماری اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ باصلاحیت لکھنے والوں کو مناسب پلیٹ فارم اور مواقع حاصل ہوں۔
سوال: اکیڈمی کی سرگرمیوں کی تشہیر اور عوامی رابطے کے حوالے سے آپ کا کیا منصوبہ ہے؟
جواب: ہماری کوشش ہے کہ اکیڈمی کے کاموں کی زیادہ سے زیادہ تشہیر ہو تاکہ اردو سے محبت کرنے والے افراد، تنظیمیں اور نوجوان اس سے جڑ سکیں۔ اردو کی ترقی اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔
سوال: نوجوان نسل کے لیے آپ کا کیا پیغام ہے؟
جواب: نوجوان اردو زبان و ادب سے اپنا رشتہ مضبوط کریں، مطالعہ کریں، لکھنے کی عادت اپنائیں اور ادبی سرگرمیوں میں حصہ لیں۔ اردو کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے اور اکیڈمی ان کی ہر ممکن رہنمائی اور حوصلہ افزائی کے لیے تیار ہے۔
اختتامیہ:
گفتگو کے اختتام پر سید حسین اختر نے یقین ظاہر کیا کہ اردو ساہتیہ اکیڈمی کی مختلف اسکیموں اور ادبی سرگرمیوں کے ذریعے مہاراشٹر خصوصاً ودربھ میں اردو زبان و ادب کو مزید فروغ ملے گا۔ ان کی گفتگو سے واضح ہوتا ہے کہ اکیڈمی اردو کے فروغ، نوجوانوں کی حوصلہ افزائی، کتابوں کی اشاعت اور ادبی ماحول کی تشکیل کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔