ہم بے خودی میں تم کو پکارے چلے گئے۔(افسانچہ)۔ از قلم : محمود علی لیکچرر۔
ہم بے خودی میں تم کو پکارے چلے گئے۔
(افسانچہ)
از قلم : محمود علی لیکچرر۔
8055402819
بارش کی ہلکی ہلکی بوندیں فضا میں رقص کر رہی تھیں۔ محلے کے کونے والے پرانے مکان کے برآمدے میں نانا جان بیٹھے تھے۔ سارا محلہ انہیں نانا جان کہتا تھا۔ سفید بال گورا چہرہ، آنکھوں پر موٹا چشمہ ہاتھ میں لکڑی کی چھڑی اور منہ میں پان کی گلوری۔ ان کی شخصیت میں ایک ایسا وقار تھا جو برسوں کی زندگی اور تجربے سے پیدا ہوتا ہے۔
برآمدے کے ایک کونے میں رکھا پرانا ریڈیو اچانک جاگ اٹھا۔ چند لمحوں بعد محمد رفیع کی درد بھری آواز فضا میں پھیل گئی
"ہم بے خودی میں تم کو پکارے چلے گئے......
نانا جان کے ہاتھ میں تھما پان جیسے رک سا گیا۔ نگاہیں آسمان کی وسعتوں میں کہیں کھو گئیں۔ بارش کی بوندیں اب بھی گر رہی تھیں مگر ان کے دل میں یادوں کا ایک اور موسم اتر آیا تھا۔
پچاس برس پہلے............
شہر کے قدیم کالج کی لائبریری میں ایک لڑکی اکثر کھڑکی کے پاس بیٹھی کتابیں پڑھا کرتی تھی۔ اس کی بڑی بڑی آنکھیں، سنجیدہ لہجہ اور ہلکی سی مسکراہٹ نانا جان کے دل میں خاموشی سے گھر کر گئی تھیں۔ اس کا نام سلیمہ تھا۔ وہ روز اسے دیکھتے اس کے قریب سے گزرتے اور پھر ایک دن ہمت کرکے اپنے دل کی بات بھی کہہ دی۔
وقت گزرا، خاندانوں کی رضامندی ہوئی اور سلیمہ ان کی شریکِ حیات بن گئی۔ زندگی کے سفر میں دونوں نے خوشیوں اور غموں کے بے شمار موسم ساتھ گزارے۔ نانا جان سرکاری ملازمت میں مصروف رہے اور سلیمہ ہر موڑ پر ان کا سہارا بنی رہی
مگر زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔
چند برس پہلے سلیمہ اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔ اس کے بعد گھر تو وہی رہا مگر گھر کی رونق چلی گئی۔ برآمدہ ریڈیو بارش اور شامیں سب ویسی ہی رہیں صرف سلیمہ نہ رہی۔
ریڈیو پر گیت آگے بڑھا
"ساغر میں زندگی کو اتارے چلے گئے..."
نانا جان کی آنکھوں کے کنارے بھیگ گئے۔ اچانک انہیں یوں محسوس ہوا جیسے سامنے والی گلی سے سلیمہ سفید دوپٹہ اوڑھے چلی آ رہی ہو۔ وہی مسکراہٹ وہی محبت بھری نگاہیں۔
"سلیمہ..." ان کے لبوں پر بے اختیار نام آیا۔
مگر اگلے ہی لمحے منظر دھندلا گیا۔ گلی خالی تھی، صرف بارش تھی اور شام کا اداس اجالا۔
اتنے میں محلے کے بچے دوڑتے ہوئے آ گئے۔
"نانا جان! کیا سوچ رہے ہیں؟"
انہوں نے چونک کر بچوں کی طرف دیکھا آنکھوں کی نمی چھپائی اور ہنسنے کی کوشش کی
کچھ نہیں بھئی... بس تمہاری نانی یاد آ گئی۔
بچے کھیل میں مصروف ہو گئے مگر نانا جان جانتے تھے کہ یادیں کبھی بوڑھی نہیں ہوتیں۔
گیت ختم ہونے لگا۔ انہوں نے اپنی چھڑی اٹھائی آسمان کی طرف دیکھا اور دھیرے سے بولے
"کچھ محبتیں بچھڑ کر بھی ختم نہیں ہوتیں وہ دعا بن کر زندگی بھر ساتھ چلتی ہیں
ایک ہوا کا جھونکا آیا، ٹوٹی ڈالی سے ایک پھول زمین پر آ گرا۔ ریڈیو خاموش ہو گیا۔ برآمدے میں صرف بارش کی آواز باقی رہ گئی۔
اور نانا جان، اپنی زندگی کی اس خوبصورت مگر اداس داستان کے آخری منظر میں، سلیمہ کی یاد کو دل سے لگائے آہستہ آہستہ گنگناتے رہے
"ہم بے خودی میں تم کو پکارے چلے گئے..."
Comments
Post a Comment