ایک نرم لہجے کی تہذیب کا رخصت ہونا- (بشیر بدر کے سانحۂ ارتحال پر) منظور احمد دکنی


 ایک نرم لہجے کی تہذیب کا رخصت ہونا- 
(بشیر بدر کے سانحۂ ارتحال پر) 

           منظور احمد دکنی
Email:drmnzrd@gmail.com
Cell:   9964801454

بعض شخصیتیں محض افراد نہیں ہوتیں بلکہ ایک عہد کی تہذیبی، جمالیاتی اور فکری شناخت بن جاتی ہیں۔ ان کے رخصت ہو جانے سے یوں محسوس نہیں ہوتا کہ صرف ایک شخص دنیا سے اٹھ گیا، بلکہ ایسا لگتا ہے جیسے زبان کے آنگن سے ایک مانوس صدا خاموش ہو گئی، شام کی تنہائی سے ایک چراغ کم ہو گیا، اور دل کی بستی میں بیٹھا کوئی دیرینہ ہم سخن اچانک خاموشی اوڑھ کر کہیں دور نکل گیا ہو۔ وہ اردو غزل کے ایسے ہی صاحبِ دل شاعر تھے جنھوں نے غزل کو محض صنفِ سخن نہیں رہنے دیا بلکہ اسے انسانی رفاقت، داخلی کرب، تہذیبی لطافت اور محبت کی نرم حرارت سے آشنا کیا۔

راقم کو بشیر بدرکی حیات، شخصیت اور فکر و فن کا نسبتاً قریب سے مطالعہ کرنے کا موقع اُس وقت ملا جب طالبہ شایستہ ترنم نے ایم۔اے کے لیے ان کے مجموعۂ کلام “آس” کے تنقیدی جائزے پر مقالہ تحریر کیا۔ اس علمی مشغلے کے دوران یہ احساس بار بار شدت سے ابھرتا رہا کہ بشیر بدر جدید اردو غزل کی ایک غیر معمولی اور توانا آواز تھے؛ ایسی آواز جس کی بازگشت محض اپنے عہد تک محدود نہیں بلکہ دیر تک سنائی دینے اور دور تک محسوس کیے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ان کی شعری شخصیت کا امتیاز یہ تھا کہ وہ شعری روایت کے شناسا بھی تھے اور جدید غزل کے ادا شناس بھی۔ انہوں نے کلاسیکی غزل کی لطافت، رمزیت اور تہذیبی وقار کو برقرار رکھتے ہوئے جدید انسان کے داخلی اضطراب، شہری تنہائی، بکھرتے رشتوں اور محبت کی نئی نفسیات کو اپنے شعری اظہار میں اس خوبی سے جذب کیا کہ روایت اور جدت میں ایک حسین توازن پیدا ہوگیا۔ ان کے یہاں نہ روایت جمود کا شکار ہوتی ہے اور نہ جدت محض تجربہ آرائی میں تبدیل ہوتی ہے۔

بشیر بدر کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی شاید یہی ہے کہ اس میں درد ہے مگر شور نہیں، غم ہے مگر خود ترحمی نہیں، اداسی ہے مگر ویرانی نہیں۔ وہ انسان کے زخموں کو فقط بیان نہیں کرتے بلکہ ان پر نرمی سے ہاتھ بھی رکھتے ہیں۔ ان کا مشہور شعر:

ہم تو کچھ دیر ہنس بھی لیتے ہیں
دل ہمیشہ اداس رہتا ہے

انسانی باطن کی اس دائمی اداسی کا ترجمان ہے جو زندگی کی ظاہری مسکراہٹوں کے پس منظر میں خاموشی سے سانس لیتی رہتی ہے۔ اسی طرح ان کے یہاں اعتماد، شکستگی اور انسانی رشتوں کی نزاکت بھی ایک تہذیبی احساس کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے:

یاروں کی محبت کا یقیں کر لیا میں نے
پھولوں میں چھپایا ہوا خنجر نہیں دیکھا

یہ شعر محض فریبِ تعلق کا بیان نہیں بلکہ انسان دوستی اور اعتماد کے اخلاقی تصور کی عکاسی بھی ہے۔ ان کی رومانوی اور تخیلی جہت کو دیکھیے:

اجالوں کی پریاں نہانے لگیں
ندی گنگنائی خیالات کی

گویا روشنی، خواب، خیال اور احساس ایک جمالیاتی وحدت میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ اور جب تعلقات کی شکست یا بچھڑن کی اذیت کا سوال آتا ہے تو ان کے لہجے میں شکوہ کم اور تفہیم زیادہ محسوس ہوتی ہے:

کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی
یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا

یہی انسانی ہمدردی، یہی نرم اخلاقی بصیرت ان کے فن کی شناخت ہے۔ ان کے یہاں محبت الزام نہیں بنتی، فہم اور درگزر کا استعارہ بن جاتی ہے۔ اسی طرح حسرت اور محرومی کا وہ نرم احساس جو ان کی شاعری کا خاص وصف ہے، اس شعر میں پوری آب و تاب سے جلوہ گر ہوتا ہے:

نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی
بڑی آرزو تھی ملاقات کی

یہ محض ملاقات کی ناکامی نہیں، انسانی خواہش کے ادھورے پن کی جمالیات ہے۔

آج ان کی جدائی پر دل بجھا بجھا سا محسوس ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے غزل کی بزم میں ایک نرم گفتار، دردمند اور تہذیب آشنا آواز خاموش ہو گئی ہو۔ مگر یہ کیسی خاموشی ہے کہ ان کے مصرعے آج بھی کتابوں کے اوراق سے جھانکتے ہیں، چائے خانوں کی گفتگو میں سانس لیتے ہیں، اور کسی تنہا شب میں دل کے دروازے پر آہستہ سے دستک دیتے ہیں۔ بعض لوگ رخصت ہو کر بھی کہاں رخصت ہوتے ہیں؛ وہ اپنے لہجے، فکر، محبت اور یاد کی صورت زمانے کے حافظے میں زندہ رہتے ہیں۔

بشیر بدر! آپ نے اردو غزل کو محبت کی نرمی، آنسو کی شفافیت، انسانی رشتوں کی لطافت اور تہذیبی وقار عطا کیا۔ آپ کا فراق اہلِ ادب کے لیے یقیناً ایک بڑا خسارہ ہے، مگر آپ کا فن اردو ادب کے جمالیاتی حافظے میں ایک روشن باب کی حیثیت سے ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، اور ان کے لفظوں کی خوشبو دیر تک اردو کے آنگن میں مہکتی رہے۔ آمین۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔