قیاس کی ضرورت کیوں؟۔ - ازقلم : ابرارالحق مظہر حسناتی۔


قیاس کی ضرورت کیوں؟۔ -  
 ازقلم : ابرارالحق مظہر حسناتی۔

کیا واقعی قرآن و حدیث کی موجودگی میں قیاس کی کوئی حاجت باقی رہتی ہے، یا یہ محض فقہی موشگافی ہے جس نے دین کو مشکل بنا دیا؟ یہ سوال آج کے ذہن میں شدت سے ابھرتا ہے، خصوصاً جب یہ کہا جاتا ہے کہ “دین مکمل ہے، ہر چیز نص میں موجود ہے، پھر نئے اصول کیوں گھڑے جائیں؟” بظاہر یہ بات بڑی وزنی محسوس ہوتی ہے، مگر ذرا ٹھہر کر سوچیے: کیا نصوص ہر آنے والی نئی صورت کو لفظ بہ لفظ بیان کرتی ہیں، یا وہ ایسے اصول دیتی ہیں جن کی روشنی میں نئی صورتوں کو سمجھا جاتا ہے؟ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ہمیں صرف الفاظ کافی ہیں، تو وہ دراصل اس حقیقت سے چشم پوشی کر رہا ہے کہ الفاظ ہمیشہ اپنے پیچھے ایک علت، ایک مقصد، اور ایک حکمت رکھتے ہیں۔ انہی علتوں تک پہنچنے اور انہیں نئی صورتوں پر منطبق کرنے کا نام قیاس ہے۔ یوں قیاس نص کا بدل نہیں بلکہ نص کے فہم کا ذریعہ ہے۔ایک سادہ مثال لیجیے جسے ہر شخص سمجھ سکتا ہے: حدیث میں مکھی کے بارے میں آیا کہ اگر وہ برتن میں گر جائے تو اسے ڈبو کر نکال دو، کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے میں شفا ہے۔ اب کوئی یہ کہے کہ یہ حکم صرف مکھی تک محدود ہے اور کسی دوسرے کیڑے پر لاگو نہیں ہوگا، تو یہ نص کے مقصد کو محدود کرنا ہے۔ عقل فوراً سمجھتی ہے کہ یہاں اصل علت وہ جراثیمی اثر ہے، نہ کہ صرف “مکھی” کی ذات۔ اسی علت کی بنیاد پر دوسرے مشابہ کیڑوں کا حکم سمجھا جاتا ہے۔ یہی قیاس ہے: لفظ سے آگے بڑھ کر اس علت کو پکڑنا جو حکم کی بنیاد ہے۔ اگر قیاس نہ ہو تو ہم الفاظ کے قیدی بن جائیں گے اور نص کے مقصد تک کبھی نہ پہنچ سکیں گے۔
وضو کی مثال اور بھی واضح ہے۔ نص کہتی ہے کہ پانی سے وضو کرو، مگر وہی نص یہ بھی بتاتی ہے کہ اگر پانی نقصان دے تو تیمم کرو۔ اب اگر کوئی کہے کہ تیمم صرف ریگستان کے لیے تھا، آج کے زمانے میں اس کی ضرورت نہیں، تو یہ نص کے مقصد کو نظر انداز کرنا ہے۔ مقصد طہارت ہے اور ضرر سے بچاؤ ہے۔ یہی علت جب سامنے آتی ہے تو ہر وہ صورت جس میں پانی نقصان دے، تیمم کے حکم میں داخل ہو جاتی ہے۔ یہ اضافہ نہیں بلکہ نص کی روح کو زندہ رکھنا ہے۔ قیاس دراصل اسی روح کی تلاش کا نام ہے۔موجودہ دور میں جب نت نئے مسائل سامنے آ رہے ہیں ایسے معاملات جن کا نام و نشان صدیوں پہلے نہ تھا تو اگر قیاس کا دروازہ بند کر دیا جائے تو نصوص محض تاریخی جملے بن کر رہ جائیں گی۔ حالانکہ دین قیامت تک کے لیے ہے۔ قیاس ہی وہ ذریعہ ہے جو نصوص کو ہر دور میں قابلِ اطلاق بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہؓ جب کسی نئے مسئلے سے دوچار ہوتے تو نص کی علت تلاش کر کے اسی پر فیصلہ کرتے۔ انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ چونکہ یہ مسئلہ نص میں لفظاً موجود نہیں اس لیے ہم خاموش رہیں گے۔اب سوال یہ نہیں رہا کہ قیاس کیا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اگر قیاس کو ماننے سے انکار کر دیا جائے تو دین کے فہم پر کیا اثر پڑتا ہے؟ بظاہر یہ کہا جاتا ہے کہ “ہم صرف قرآن و حدیث کو مانتے ہیں”، مگر عملاً جب کوئی نیا مسئلہ سامنے آتا ہے تو یا تو انسان الفاظ کو اس قدر جامد بنا دیتا ہے کہ نص کا مقصد فوت ہو جاتا ہے، یا پھر وہ مسئلہ بے حکم رہ جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قیاس کی عدمِ قبولیت شریعت کی تعطیل کا سبب بننے لگتی ہے۔ کیونکہ نصوص اصول دیتی ہیں، اور اصولوں کا اطلاق ہمیشہ علت کے فہم پر موقوف ہوتا ہے۔ جب علت کو نظر انداز کیا جائے تو حکم محض لفظی سانچے میں قید ہو جاتا ہے۔اسی حقیقت کو اگر مکھی کی مثال پر دوبارہ دیکھیے تو بات اور واضح ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی شخص یہ اصرار کرے کہ حکم صرف “مکھی” کے ساتھ خاص ہے، تو وہ دراصل حدیث کے مقصد کو محدود کر رہا ہے۔ اس طرزِ فکر کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جیسے ہی کوئی دوسرا جراثیمی کیڑا برتن میں گرے، انسان حیران کھڑا رہ جائے کہ اب کیا کیا جائے، کیونکہ نص میں اس کا ذکر نہیں! یہاں قیاس نہ ہو تو نص رہنمائی دینے کے باوجود رہنمائی نہیں دے پاتی۔ قیاس نص کو وسعت دیتا ہے، اور اس کی حکمت کو نئی صورتوں تک پہنچاتا ہے۔
وضو اور تیمم کی مثال اس سے بھی زیادہ فیصلہ کن ہے۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ تیمم صرف اسی وقت کے لیے تھا جب پانی نایاب تھا، تو وہ نص کی روح کو نظر انداز کر رہا ہے۔ اصل مقصد طہارت کے ساتھ ضرر سے بچنا ہے۔ جب یہی علت سامنے رہتی ہے تو ہر وہ صورت جس میں پانی نقصان دے، تیمم کے حکم میں داخل ہو جاتی ہے۔ اگر قیاس نہ ہو تو نص ایک تاریخی واقعہ بن کر رہ جائے، حالانکہ وہ ایک دائمی اصول دے رہی ہے۔صحابہؓ کا طرزِ عمل بھی یہی تھا۔ جب نئے مسائل پیش آتے تو وہ نص کے الفاظ سے آگے بڑھ کر اس کی علت کو سمجھتے اور اسی بنیاد پر فیصلہ کرتے۔ انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ چونکہ یہ صورت لفظاً موجود نہیں اس لیے ہم خاموش رہیں گے۔ ان کا منہج یہی تھا کہ نص کی روشنی میں نئی صورتوں کو سمجھا جائے۔ یہی قیاس ہے، اور یہی منہجِ فہمِ دین ہے جو ابتدا ہی سے جاری ہے۔
لہٰذا قیاس دین میں اضافہ نہیں بلکہ دین کی بقا کا ذریعہ ہے۔ یہ نص کے مقابل کھڑا نہیں ہوتا بلکہ نص کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چلتا ہے۔ اگر قیاس کو ہٹا دیا جائے تو یا تو انسان الفاظ کو اس قدر جامد کر دے گا کہ نص کا مقصد فوت ہو جائے گا، یا پھر مسائل کو بے حکم چھوڑ دے گا۔ قیاس وہ پل ہے جو لفظ اور صحیح مفہوم کے درمیان قائم رہتا ہے۔آخرکار حقیقت یہ ہے کہ قیاس کو ماننا دراصل نص کی حکمت کو ماننا ہے، اور قیاس کا انکار الفاظ کو حکمت پر ترجیح دینا ہے۔ قیاس دین میں اضافہ نہیں، بلکہ دین کی بقا کا ذریعہ ہے۔ یہ وہ پل ہے جو نص کو ہر زمانے کے انسان سے جوڑتا ہے۔ اگر یہ پل ہٹا دیا جائے تو نصوص رہ جائیں گی، مگر ان کی روشنی زمانے تک نہیں پہنچ پائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ قیاس شریعت کے فہم میں ناگزیر ہے، اور اسی کے ذریعے دین ہر دور میں زندہ، متحرک اور قابلِ اطلاق رہتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔