کاش اِس عید پر ہم اپنی ’’انا‘‘ذبح کردیتے۔محسن رضا ضیائی،پونے۔


کاش اِس عید پر ہم اپنی ’’انا‘‘ذبح کردیتے۔
محسن رضا ضیائی،پونے۔
رابطہ:  9921934812

عیدالاضحیٰ مسلمانوں کا ایک عظیم اور مقدس تہوارہے،جسے اسلام میں تین دن تک منانا مشروع ہے،ہر سال ۱۰؍ذی الحجہ سے لے کر ۱۲؍ذی الحجہ تک پوری دنیا میں منایاجاتاہے ۔ہمارے ملک ہندوستان میں عیدِ قرباں کایہ عظیم الشان تہوار امن و شانتی ،مسرت و خوشی اور اتحادویکجہتی کے ساتھ منایاگیا ۔ملک میںکہیں سے بھی کسی ناخوشگوار واقعے کی کوئی اطلاع موصول نہیںہوئی۔البتہ ملک کی تشویش ناک اور بد ترین صورت حال کولے کرکافی رنج وغم اور خوف وہراس محسوس کیا گیا۔
بہرِ حال!ہر سال کی طرح امسال بھی فرزندانِ توحید نے نہایت ہی جوش وخروش اور تزک و احتشام کے ساتھ عیدالاضحی منایا۔شہر کی ہر چھوٹی بڑی مسجد اور عیدگاہ میں مسلمانوں کے اجتماعی قافلوں او رامڈتے ہوئے سیلاب کا پرکیف منظربھی قابل دید اورلائق رشک تھا، تکبیرو تشریق کی گونجیں ہواؤں میں تحلیل ہورہی تھیں،اجتماعی رقت انگیزذکرودعاکامنظر بھی کافی پُرسوز تھا ۔ توحید کے پر ستاروںاورمتوالوںکے لبوں سے نکلے ہوئے لفظِ آمین سے ہوائیں لطف اندوز ہورہی تھیں۔راہِ خدا میںقربانی کے جانوراور بندگانِ خدا کے اعمال و افعال حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی اس تاریخی قربانی کی یاد تازہ کررہے تھے ،جو آپ نے رب تعالیٰ کی رضا جوئی اور خوشنودی کی خاطر اپنے فرزند عزیز حضرت اسماعیل ذبیح اللہ علیہ السلام کو راہِ خدا میں قربانی کے لیے پیش کیا تھا۔
اسی طرح عیدالاضحی کی آمد سے قبل قربانی کو لے کرلوگوں میں کافی جوش وخروش بھی دیکھا گیا،بازاروں میں عیدقرباں کی تیاریاں بھی بہت زیادہ گرما گرم اور زوروں پر تھیں،جانوروں کی خریداری کا تو کیا کہنا ؟ان کی قیمتیں آسمان چھورہی تھیں،اس کے باوجود نیلامی میں لاکھوں تک کی بولیاں بھی لگ رہی تھیں۔
بہرِکیف! فرزاندانِ توحید نے عیدالاضحی کی نمازایک دوسرے کے شانہ بہ شانہ ہوکر ادا کی،مصافحہ ومعانقہ کا ایک دور چلا ،بعدازاں بندگانِ خدانے رب تعالیٰ کی رضا جوئی و خوشنودی کے لیے ،حکمِ خداوندی اور سنت ابراہیمی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے راہ خدا میں جانوروں کی قربانیاں پیش کیں۔بلکہ لوگ حرارت ایمانی ،جذبۂ ایثاروقربانی اوراداے سنت ابراہیمی کے معاملے میں بہت زیادہ حساس اور بیداردکھائی دیے۔یقینا جانوروں کی قربانی راہِ خدا میں پیش کرنا فرمانِ خداوندی کی اطاعت وبجاآوری ہے۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربانیوں کے دنوں میں جانوروں کی قربانی پیش کرنا انتہائی محبوب و پسندیدہ عمل ہے۔ان دنوں میں اس کے بغیر کوئی بھی عمل اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول ومحبوب نہیں ہے۔
اب آئیے احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں ذرا قرربانی کے مفہوم کو سمجھتے چلیے۔
چناں چہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے پیارے رسول ﷺ نے فرمایا :
اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربانی کے دن انسان کے اعمال میں سے سب سے زیادہ پسندیدہ خون بہانا ہے اور بے شک وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں ،بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور بے شک خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہوجاتا ہے تو اسے دل کی بھلائی کے ساتھ کرو۔(مشکوٰۃ)
ایک اور روایت میں ہے کہ:
’’ اللہ کے پیارے رسول ﷺ سے صحابۂ کرام نے دریافت کیا کہ یہ قربانی کیا ہے ؟آپ نے فرمایا تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ،صحابۂ عظام نے پھر پوچھا کیا اس میں ہمارے لیے اجروثواب ہے ؟آپ ﷺ نے فرمایا :ہربال کے بدلے میں نیکی ملے گی‘‘۔(ترمذی)
مذکورہ بالا احادیث سے معلوم ہوا کہ قربانی کے دنوں میں اللہ وحدہ‘ لاشریک کی بارگاہ میں جانور کا خون بہانے سے زیادہ محبوب عمل کوئی نہیں ہے۔
عیدالاضحی کے ایام تو ہمارے درمیان سے گزرگئے ،ہم نے بارگاہِ رب العزت میں جانوروں کی قربانیاں ضرورپیش کیں، سنتِ ابراہیمی کو زندہ ضرور کیا اورایک دوسرے کو مبارک بادیاں بھی پیش کیں،لیکن یہاں چند باتیں قابلِ غور وفکر ہیں،جو ہمیں دعوتِ فکر پیش کرتی ہیں:
٭ کیا ہم نے رب تعالیٰ کی رضا جوئی وخوش نودی کے لیے محض جانوروں کوذبح کیایاپھرساتھ میں اپنے اندر کے ’’اَنا‘‘یعنی غروروتکبرکوبھی ذبح کیا؟     
٭کیا ہم نے اس اہم موقع پر قربانی کے گوشت میں اپنے غریب ،مسکین،یتیم اور محتاج مسلم بھائیوں کو شریک کیا؟
٭کیا ہماری قربانیاںمحض نمود ونمائش اور ظاہری کروفر کے لیے تھیں یا خلوص وللہیت کے جذبوں سے سرشار تھیں؟
٭کیا ہم نے اس موقع پر آپسی اختلاف و نا اتفاقی ،باہمی عداوت ودشمنی اورمعاشرتی برائی پر چھری چلانے کا بھی عہدوپیمان لیا؟
٭کیا ہم نے بغض و کینہ،جلن و حسد ،غیبت و چغلی ، اس طرح کے اوردیگر ذہنی ونفسیاتی جراثیم پر بھی چھری چلائی؟
٭کیا ہم نے سنتِ ابراہیمی کو اپنانے اور جذبۂ اسماعیلی کو اپنے اندررچانے اور بسانے کی قسمیں کھائیں؟
٭حضرت اسماعیل علیہ السلام کی طرح آدابِ فرزندی اور اطاعتِ خداوندی بجالانے کا عزمِ مصمّم کیا؟
یہ وہ سوالات ہیںجودریچۂ ذہن میںباربارگردش کررہے ہیں۔خاص طور سے سب سے بڑا سوال جوذہن میںگردش کررہاہے ،وہ’’انااورمیں‘‘کا ہے ،جس کااثر پورے معاشرے میں بڑی تیزی کے ساتھ پھیل رہاہے۔ ’’انااورمیں‘‘ عربی واُردو زبان کے دو لفظ ہیں ، جو ایک دوسرے کے مترادف اور ہم معانی بھی ہیں،اس’ اناومیں‘‘کی آگ میں نہ جانے معاشرے کے کتنے افراد جھلسے ہوئے ہیں، اس کا کوئی اندازہ نہیں کرسکتا ۔اس کے زہریلے جراثیم معاشرے میں اپنا مضبوط ومستحکم مقام بنا چکے ہیں ،جوہرکہ ومہ کی رگ وپے میں رچتے اور بستے چلے جارہے ہیں ۔اس ’’اناومیں‘‘کی دوڑ میں ایک دوسرے پر سبقت وبرتری لے جانا فخر محسوس کیاجارہاہے۔
اس ’’اناومیں‘‘کا بھوت معاشرے کے اکثرافرادپرسوارہوچکاہے،چاہے وہ عالم ہویاجاہل،امیرہویا غریب،چھوٹا ہو یا بڑا، حکمراں ہو یا ملازم ،تقریباً سبھی اس ’’اناومیں‘‘کے آسیب سے بہت بری طرح متأثر ہیں۔ اگر غیر جانب دار ہوکر کہا،بولا اور لکھا جائے توبے جانہ ہوگاکہ اس ’’اناومیں‘‘ کی دوڑ میں ہمارے معاشرے کی بااثرشخصیات ،رہنما اورقائدین سب سے آگے ہیں۔
مسلم معاشرے کے حالات کا تجزیہ کرنے سے پتہ چلتاہے کہ اس ’’اناومیں‘‘ میں ملوث و مبتلا افراد میں احساسِ ابتری اور تفوق وبرتری کا غلبہ اس قدر پایا جاتا ہے کہ وہ اپنے علم وہنر،دولت وثروت،عزت و شہرت اور حسن و جمال کے آگے کسی کو کچھ نہیں سمجھتے ہیں۔وہ دوسروں کو اپنے سے ہیچ اور کم تر گمان کرتے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ ہمارے مسلم معاشرے میں اخلاص ونیکی،تواضع وانکساری اورعاجزی وفروتنی کا فقدان بڑھتاہی جارہاہے۔
یہ بھی ایک افسوس ناک بات ہے کہ انانیت و نخوت کے اثرات توآج کل مسجدوں، مدرسوں ،اسکولوں اور دیگر دینی وعصری اداروںمیں بھی بکثرت پھیل چکے ہیں،معاشرے کا یہ بھی ایک بڑا المیہ ہے کہ اگر کسی کو اخلاص کی خاطر ان جگہوں کا رکن بنادیا جائے تو وہ اپنے آپ کو منسٹراور ان مقدس جگہوں اور تعلیم گاہوں کو دارالسلطنت تصور کرنے لگتاہے،اپنی پچھلی اوقات کو پس پشت ڈال کر اربابِ علم و دانش سے اکڑکر بات کرتاہے دوسروں کا مزاق اڑاتاپھرتاہے ،اسی پر بس نہیں بلکہ اتراکرچلتاہے، اپنے آپ کو پھلے خاں سمجھتاہے۔گویاآج لوگ انانیت و نخوت کے نشے میں اس طرح مدہوش و مخمور ہوچکے کہ انہیں اپنی عاقبت وآخرت کا خیال تک نہیں رہا، وہ فرعون،ہامان ،شداداورنمرود کی عبرت ناک داستانیں بھول گیے،جنہیںانانیت و غرور نے اس طرح زمیں بوس اور ہلاک و تباہ کردیا کہ آج تک وہ نشانِ عبرت بنے ہوے ہیں۔
یادرکھو!جب کوئی اللہ تعالیٰ کی زمین پر سینہ تان کراور اکڑ کر چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس بندے سے سخت ناراضگی کا اظہار فرماتا ہے۔قرآن مجید میں جابہ جاایسے لوگوں کوسخت وعید سنائی گئی ہے:
بے شک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا۔
اور زمین میں اکڑکر نہ چل کہ نہ تو زمین کو پھاڑ سکتا ہے اور نہ لمبائی کو پہنچ سکتا ہے۔
اپنی رفتار میں میانہ روی اختیار کر۔
اسی طرح احادیث مبارکہ میں غروروگھمنڈ کرنے والوںکی مذمت اس طرح کی گئی ہے:
جو شخص اللہ عزوجل کے لیے تواضع وانکساری کرے گا،اللہ تعالیٰ اس کوبلند فرمادے گا۔وہ خود کو چھوٹا سمجھے گا مگر اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کی نگاہوں میں اس کو عظمت والا بنادے گااور جو شخص گھمنڈ اور تکبر کرے گا۔اللہ تعالیٰ اس کو پست کردے گاوہ خود کو بڑا سمجھے گامگر اللہ تعالیٰ اس کو تمام انسانوں کی نظر میں کتے اور خنزیر سے زیادہ ذلیل بنادے گا۔
حضرت ابوہریرہ ؄سے روایت ہے کہ ر سول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
جنت و دوزخ نے اپنے رب کے حضور میں جھگڑا کیا۔جنت نے کہا:اے رب!کیا حال ہے کہ مجھ میں کمزوراور گرے پڑے لوگ ہی داخل ہوگے اور دوزخ نے کہا کہ مجھ میں تو داخلے کے لیے متکبروں کو خاص کردیا گیاہے۔
متذکرہ بالا قرآن و احادیث کی روشنی میں یہ روزِ روشن کی طرح عیاں ہوگیا کہ غروروتکبر گناہِ عظیم اور رب کی ناراضگی کاکتنا بڑا سبب ہے،ساتھ ہی ساتھ جہنم میں لے جانے والا عمل بھی ہے۔لہذا اس گناہِ عظیم اورانانیت و نخوت سے خود بھی بچنا اور معاشرے کو بھی بچاناہم سب کی یہ اولین ذمہ داری ہے ۔
عیدالاضحی ٰہم سے ہر سال بار بار یہی مطالبہ کرتی ہے کہ ہم محض اللہ تعالیٰ کی راہ میں جانوروں کو ہی قربان نہ کریں، بلکہ اس کے ساتھ میں اپنی ’’اناومیں‘‘ کو بھی ذبح کریں، جس طرح ہم رب تعالیٰ کی رضا وخوش نودی کے لیے جانور کی قربان پیش کرتے ہیں ،اسی طرح ہم رب تعالیٰ کی رضا کی خاطراپنی خواہشات ونفسانیت کوبھی کو تہہ تیغ کریں،آپسی اختلافات وانتشارات کا گلا گھونٹ دیں،سماجی ومعاشرتی برائیوں کا قلع قمع کریں،اپنے درمیان اتحاد واتفاق پیداکریں،دین وشریعت پر ثابت قدم رہیں،فرامینِ خدا واحادیثِ رسول پر عمل پیرا رہیں،اپنے اندر سے ’’انااورمیں‘‘کو دودھ سے مکھی کی طرح باہر نکال پھینکیں، جس سے نہ صرف ہماری دی گئی قربانی مقبول ہوگی ،بلکہ ہمارے نفس کا بھی تزکیہ وتصفیہ ہوگا،اوریہی دراصل قربانی کا مقصدومنشابھی ہے ۔یقینا درج ذیل شعر میں ہمارے لیے ایک اہم پیغام پنہاہے :     ؎
کاش اس عید پر ہم اپنی’’ انا‘‘ذبح کردیتے
جو بات بات پہ ’’میں میں‘‘ کیا کرتی ہے

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔