آج ہم کس مقام پر ہیں؟ (سماجی، سیاسی، معاشی، تہذیبی، ثقافتی، ماحولیاتی، اخلاقی، عصری اور مذہبی حالات کا ایک جامع جائزہ)۔ ازقلم : محمد مسلم بن محمد ایوب کبیر، لاتور۔
آج ہم کس مقام پر ہیں؟
(سماجی، سیاسی، معاشی، تہذیبی، ثقافتی، ماحولیاتی، اخلاقی، عصری اور مذہبی حالات کا ایک جامع جائزہ)
ازقلم : محمد مسلم بن محمد ایوب کبیر، لاتور۔
انسانی تاریخ کا موجودہ دور ترقی، سہولت، تیز رفتاری اور معلوماتی انقلاب کا دور کہلاتا ہے۔ آج انسان نے سائنسی میدان میں حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کی ہیں، فاصلے سمٹ گئے ہیں، دنیا ایک گاؤں کی شکل اختیار کر چکی ہے، مگر اس ترقی کے باوجود ایک اہم سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے کہ آخر آج ہم کس مقام پر ہیں؟
کیا واقعی ہم ترقی کی بلندیوں پر ہیں یا اندر سے کھوکھلے ہو چکے ہیں؟
کیا جدیدیت نے ہمیں سکون دیا یا ہم مزید بے چینی، انتشار اور اخلاقی زوال کا شکار ہوئے؟یہ سوال صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے، قوم اور انسانیت کا سوال ہے۔
**سماجی طور پر ہم کہاں کھڑے ہیں؟
آج کا معاشرہ بظاہر ترقی یافتہ نظر آتا ہے مگر حقیقت میں رشتوں کی مضبوطی کمزور پڑتی جا رہی ہے۔خاندان جو کبھی محبت، احترام اور تربیت کا مرکز ہوا کرتا تھا، آج انتشار، بے اعتمادی اور مادہ پرستی کا شکار ہے۔والدین کے احترام میں کمی، اولاد کی بے راہ روی، ازدواجی تعلقات میں عدم برداشت، خود غرضی اور مفاد پرستی نے سماج کو اندر سے کمزور کر دیا ہے۔سوشل میڈیا نے رابطے تو بڑھائے مگر دلوں کے فاصلے بھی پیدا کر دیے۔لوگ ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہوئے بھی روحانی اور جذباتی طور پر دور ہوتے جا رہے ہیں۔
**سیاسی طور پر ہم کس حال میں ہیں؟
سیاست جو عوامی خدمت کا ذریعہ ہونی چاہیے تھی، آج اقتدار، مفاد اور ذاتی برتری کی جنگ بن چکی ہے۔اکثر سیاسی نظام عوامی مسائل کے حل کے بجائے اختلاف، نفرت اور تقسیم کا سبب بنتے جا رہے ہیں۔
عدل و انصاف کمزور ہو رہا ہے، دیانت داری ناپید ہوتی جا رہی ہے، اور عوام کا اعتماد اداروں پر کمزور پڑتا جا رہا ہے۔قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب سیاست خدمت، امانت اور اصولوں پر قائم ہو، مگر جب سیاست صرف اقتدار کی خواہش بن جائے تو معاشرہ عدم استحکام کا شکار ہو جاتا ہے۔
***معاشی طور پر ہماری صورتحال۔۔۔
آج دنیا معاشی ترقی کے دعوے کر رہی ہے، مگر غریب مزید غریب اور امیر مزید امیر ہوتا جا رہا ہے۔بے روزگاری، مہنگائی، سودی نظام، معاشی استحصال اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے عام انسان کی زندگی کو دشوار بنا دیا ہے۔رزق میں برکت کم ہوتی جا رہی ہے کیونکہ دولت جمع کرنے کی دوڑ میں حلال و حرام کی تمیز کمزور پڑتی جا رہی ہے۔معاشی ترقی صرف بلند عمارتوں اور بڑے کاروباروں کا نام نہیں، بلکہ ایسی معیشت کا نام ہے جس میں ہر فرد کو عزت کے ساتھ جینے کا حق حاصل ہو۔
**تہذیبی اور ثقافتی طور پر ہماری حالت...
آج ہم اپنی تہذیب، روایات اور اقدار سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
مغربی تہذیب کی اندھی تقلید میں ہم نے اپنی شناخت کو کمزور کر دیا ہے۔لباس، زبان، طرزِ زندگی اور فکر میں ایسی تبدیلیاں آ رہی ہیں جو ہمیں اپنی اصل سے دور لے جا رہی ہیں۔ثقافت کسی قوم کی روح ہوتی ہے، مگر جب قوم اپنی تہذیبی بنیادوں کو بھول جائے تو اس کی شناخت مٹنے لگتی ہے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جدیدیت کو اپنائیں مگر اپنی تہذیبی اقدار اور اخلاقی حدود کو نہ چھوڑیں۔
**ماحولیاتی طور پر ہم کہاں کھڑے ہیں؟
انسان نے ترقی کے نام پر فطرت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی، پانی کی کمی، موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی گرمی پوری انسانیت کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔قدرت بار بار انسان کو متنبہ کر رہی ہے کہ اگر ماحول کا تحفظ نہ کیا گیا تو آنے والی نسلیں شدید مشکلات کا شکار ہوں گی۔اسلام بھی زمین کو اللہ کی امانت قرار دیتا ہے اور اس کے تحفظ کی تعلیم دیتا ہے۔
***اخلاقی طور پر ہمارا زوال۔۔۔
اخلاق کسی بھی قوم کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔آج جھوٹ، دھوکہ، حسد، غرور، بے حیائی، بددیانتی اور عدم برداشت عام ہوتے جا رہے ہیں۔لوگ کامیابی تو چاہتے ہیں مگر کردار کی مضبوطی کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
ہم نے تعلیم تو حاصل کی مگر تربیت کھو دی۔علم بڑھ گیا مگر حکمت کم ہو گئی۔الفاظ خوبصورت ہو گئے مگر نیتیں کمزور پڑ گئیں۔ایک معاشرہ صرف عمارتوں سے ترقی یافتہ نہیں بنتا بلکہ اچھے اخلاق، انصاف اور انسانیت سے ترقی پاتا ہے۔
**عصری اور تکنیکی اعتبار سے ہماری کیفیت۔۔۔
یہ دور ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل دنیا کا دور ہے۔معلومات تک رسائی آسان ہوئی، تعلیم اور کاروبار کے نئے راستے کھلے، مگر اسی کے ساتھ انسان تنہائی، ذہنی دباؤ اور غیر ضروری مصروفیات کا شکار بھی ہوا۔موبائل اور سوشل میڈیا نے وقت، توجہ اور ذہنی سکون کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ہم معلومات کے سمندر میں ہیں مگر حکمت اور شعور کی پیاس باقی ہے۔ٹیکنالوجی اگر انسانیت، علم اور اخلاق کے ساتھ استعمال ہو تو رحمت ہے، لیکن اگر اس کا استعمال بے مقصد ہو تو یہ تباہی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
***مذہبی طور پر ہماری حالت...
آج مذہب کو رسم و رواج تک محدود کیا جا رہا ہے۔عبادات تو باقی ہیں مگر ان کی روح کمزور ہوتی جا رہی ہے۔قرآن کی تلاوت موجود ہے مگر عمل کم ہے، نماز موجود ہے مگر کردار میں اثر کم دکھائی دیتا ہے۔
فرقہ واریت، تعصب اور ظاہری نمود نے دین کی اصل روح یعنی محبت، اخلاص، عدل اور انسانیت کو نقصان پہنچایا ہے۔اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ مکمل نظامِ حیات ہے جو انسان کو اخلاق، عدل، رحم اور اعتدال کی تعلیم دیتا ہے۔اگر ہم واقعی اپنی اصلاح چاہتے ہیں تو ہمیں دین کو صرف تقریروں تک نہیں بلکہ اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنا ہوگا۔
****ہماری اصل ضرورت کیا ہے؟
آج انسان کو صرف ترقی نہیں بلکہ متوازن ترقی کی ضرورت ہے۔
ایسی ترقی جس میں:
علم ہو مگر اخلاق بھی ہوں۔۔ دولت ہو مگر انسانیت بھی ہو۔۔آزادی ہو مگر ذمہ داری بھی ہو۔۔جدیدیت ہو مگر تہذیب بھی ہو۔۔عبادت ہو مگر اخلاص بھی ہو۔۔ہمیں اپنے معاشرے، خاندان، کردار اور فکر کی اصلاح کی ضرورت ہے۔جب تک فرد اپنی اصلاح نہیں کرے گا، معاشرہ بھی درست نہیں ہوگا۔
آج ہم ایک ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں ہمارے پاس ترقی کے بے شمار وسائل موجود ہیں، مگر روحانی سکون، اخلاقی استحکام اور حقیقی انسانیت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی خامیوں کا جائزہ لیں، اپنی اقدار کو زندہ کریں، اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جو علم، اخلاق، انصاف، محبت اور اعتدال پر قائم ہو۔
اگر ہم نے آج خود کو نہ بدلا تو آنے والی نسلیں ہمیں ترقی یافتہ نہیں بلکہ اپنی اصل سے دور بھٹکی ہوئی نسل کے طور پر یاد کریں گی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح فکر، بہتر کردار اور متوازن زندگی عطا فرمائے۔ آمین۔
محمد مسلم بن محمد ایوب کبیر، لاتور
Comments
Post a Comment