رنگ اور روشنی - ازقلم : ڈاکٹر سراج انوار، امراؤتی، مہاراشٹر۔


رنگ اور روشنی - 
ازقلم : ڈاکٹر سراج انوار، امراؤتی، مہاراشٹر۔
موبائل: 8668323359

شہر کا یہ وہی مصروف ترین علاقہ تھا جہاں بڑے بڑے اپارٹمنٹ کے سائے ایک دوسرے پر پڑ رہے تھے۔ قریب سے گزرنے پر یہاں اتنا شور ہوتا کہ کسی کو کسی کی آواز بھی سنائی نہ دیتی۔ انہی کے درمیان ایک پرانے اپارٹمنٹ کے تیسرے فلور پر دو کمرے آمنے سامنے تھے۔ ان کے بیچ بس ایک پتلی سی دیوار تھی۔ مگر دیوار کے دونوں طرف دو الگ الگ دنیائیں آباد تھیں۔
دائیں طرف نورہ اور بائیں طرف ثمر۔
صبح کی پہلی کرن جب کھڑکی سے چھن کر آتی تو نورہ پہلے سے جاگ رہی ہوتی۔ اس کے ہاتھوں پر مختلف رنگوں کے نشان ہوتے۔ نیلا، سبز، خاکی، اور کبھی کبھی گہرا سرخ جو خون جیسا لگتا مگر تھا فقط رنگ۔ یہ سب اس کی رات بھر کی گئی محنت کی گواہی کے لیے کافی تھے۔
اس کا کمرہ کافی چھوٹا تھا۔ ایک کونے میں لکڑی کا پرانا ایزل کھڑا تھا جس پر ان دنوں پہاڑوں کا منظر سجا ہوا تھا۔ برف سے ڈھکی چوٹیاں، نیچے سبز جنگل، اور بیچ سے گزرتا ہوا ایک نیلا دریا جو پتھروں سے ٹکراتا ہوا آگے بڑھتا دکھائی دے رہا تھا۔ فرش پر برشوں کا ڈھیر تھا، مختلف رنگوں کی ٹیوبیں بکھری ہوئی تھیں، کپڑے کے پرانے ٹکڑے جن پر ہزاروں رنگ ایک دوسرے میں گھلے ہوئے تھے۔
نورہ برش اٹھاتی، کینوس کو تھوڑی دیر گھورتی، پھر بہت آہستہ سے اس میں رنگ بھرتی۔  
پینٹنگ کرتے وقت وہ اتنی محو ہو جاتی کہ اسے اپنے آس پاس کی بھی کوئی خبر نہ رہتی ۔ اسے دیکھ کر ایسا لگتا جیسے کوئی ایسی کہانی لکھ رہی ہوجو ایک بار پڑھی جائے تو شاید کبھی بھلائی نہ جا سکے ۔ اس دن اس کی بنائی گئی ایک پینٹنگ پر تیس لائکس آئے تھے۔اس نے فون رکھا اور واپس کینوس کی طرف مڑ گئی۔
ثمر کا دن اس کے برعکس بالکل مختلف طریقے سے شروع ہوتا تھا۔
سب سے پہلے آئینہ۔ پھر دیوار کا وہ حصہ جہاں اسے روشنی کا زاویہ مناسب لگے۔ اور پھر اپنے مہنگے موبائل کا کیمرہ۔
ثمر خوبصورت تھی۔ یہ بات وہ خود بھی جانتی تھی اور اس کے دس لاکھ فالوورز بھی۔ گھنگریالے سرخ بال، تراشی ہوئی کمر، اور وہ ہنسی جو ہمیشہ بالکل صحیح وقت پر آتی۔ یہ سب اس کے لیے کسی سرمایہ سے کم نہیں تھے۔
اس کا کمرہ بھی چھوٹا تھا مگر بہت ساری چیزوں سے سجا ہوا۔ رنگ برنگی روشنیاں، ریلس بناتے وقت پس منظر کے لیے سبز دیوار، اور ایک چھوٹا سا ایزل جس پر آج اس نے ایک نیا آرٹ ورک رکھا ہوا تھا۔ بڑے کینوس پر ایک ایموجی، جسے دیکھ کر سمجھنا مشکل تھا کہ یہ مسکرا رہی ہے، رو رہی ہے یا بس اپنے فالورز کے لیے مزید ایک اور پوسٹ۔
اس نے مسکراتے ہوئے برش کو اپنے دانتوں میں دبایا۔
اور فوراً اپنا فون اٹھایا، دائیں ہاتھ کو اوپر اٹھایا، فلیش جلائی اور سیلفی کھینچ لی۔ مختلف فلٹرز لگا کے تصویر کو اور زیادہ پرکشش بنایا اور نیچے کیپشن لکھا: "آرٹ از فریڈم"
ایک گھنٹے بعد دیکھا تو دس ہزار لائکس تھے، جو شام ہوتے ہوتے ایک لاکھ تک پہنچ گئے تھے۔
اس شام دونوں کا پہلی بار سیڑھیوں پر آمنا سامنا ہوا۔ نورہ رنگوں سے بھرا بیگ اٹھائے اوپر چڑھ رہی تھی۔ ثمر نیچے اتر رہی تھی، فون ہاتھ میں تھا اور کانوں میں ایئرفون لگے تھے۔ دونوں ایک لمحے کے لیے رکیں۔
'تم وہی ہو نا جو اوپر رہتی ہو؟ پینٹر؟'
نورہ نے سر ہلایا۔ 'ہاں۔'
'میں نے انسٹاگرام پر تمہاری پینٹنگ دیکھی تھی۔ پہاڑ والی۔ اچھی تھی۔'
اس کے لہجے میں وہ تکلف تھا جو "اچھی تھی" کو واقعی اچھی محسوس نہیں ہونے دیتا، بس کہہ دینے کا فریضہ ادا کرتا تھا۔
'تھینکس،' نورہ نے کہا اور آگے بڑھ گئی۔
کچھ دن گزرے۔ ایک شام اچانک پورے اپارٹمنٹ کی بجلی چلی گئی۔ چاروں طرف اندھیرا پھیل گیا۔ ثمر کا فون ڈسچارج تھا، چارجر بے کار پڑا تھا، اور باہر بارش اپنے زوروں پر تھی۔ اس نے دیکھا کہ نورہ کے کمرے میں ہلکی سی روشنی ہے۔ شاید بیٹری سے جلتا ہوا ایک چھوٹا لیمپ۔
اس نے دروازے پر دستک دی۔  
نورہ نے دروازہ کھولا۔ دروازے کے پیچھے ہلکی روشنی کمرے میں پھیلی ہوئی تھی۔ وہ ایک لمحے کے لیے ثمر کو دیکھتی رہی، پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی: " اوہ، تم۔۔۔ آ جاؤ۔۔۔ میں سوچ ہی رہی تھی کہ اس وقت بھلا کون ہو سکتا ہے؟"  
ثمر اندر آئی اور ایک لمحے کے لیے ٹھہر گئی۔ یہ پہلی بار تھا کہ وہ نورہ کے کمرے میں قدم رکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھیں دیواروں پر جمی کی جمی رہ گئیں۔ ہر طرف پینٹنگز تھیں — پہاڑ، دریا، بادل، رات کا تاروں بھرا آسمان، ایک بوڑھے آدمی کا فکر مندانہ جھریوں بھرا چہرہ، ایک بچے کی مسکراہٹ کے ساتھ معصوم شرارتی آنکھیں، ایک خالی سڑک جس پر بارش کے پانی کا عکس تھا۔ روشنی میں یہ سب ایسے لگ رہے تھے جیسے سانس لے رہے ہوں۔  
ثمر کے چہرے پر حیرت تھی۔ "یہ سب تم نے بنائی ہیں؟"  
"ہاں۔"  
"کتنا عرصہ لگا ان سب میں؟"  
"تقریباً چھ سال۔"  
ثمر پہاڑوں والی تصویر کے قریب گئی۔ وہی جو اس نے انسٹاگرام پر دیکھی تھی۔ مگر اصل تصویر تو کچھ اور ہی تھی۔ ایک باریک سی لکیر تھی جو دریا کے کنارے سے اوپر جاتی تھی۔ بس ایک لکیر، مگر اس نے پوری تصویر کو مانو ایک کہانی بنا دیا تھا۔  
"یہ لکیر۔۔۔" اس نے انگلی قریب کی مگر چھوئی نہیں، "یہ کیا ہے؟"  
نورہ نے ایک لمحہ سوچا۔ "وہ راستہ جو شاید دکھتا نہیں مگر ہوتا ضرور ہے۔"  
"مطلب؟"  
"مطلب۔۔۔ کبھی کبھی منزل کا راستہ نقشے میں نہیں ہوتا۔ تم خود اسے بناتے ہو۔"  
دونوں کچھ دیر یوں ہی خاموش رہیں۔ باہر بارش اور اندھیرا بڑھتا جا رہا تھا۔  
ثمر فرش پر بیٹھتے ہوئے بولی، "تمہیں برا نہیں لگتا؟"  
نورہ نے چونک کر پوچھا، "کس بات کا؟"  
"یہ۔۔۔ تیس لائکس۔ میری ایک سیلفی پر تو لاکھوں لائکس اور ہزاروں کمنٹس آتے ہیں، اور تمہاری اس شاہکار پر صرف تیس۔"  
نورہ مسکرائی۔۔۔ نہ تکلیف سے، نہ فخر سے۔ بس ایک سچی، خاموش مسکراہٹ کے ساتھ بولی:  
"تم لائکس اور کمنٹس گنتی ہو؟"  
ثمر نے کندھے اچکائے۔ "ہاں، سبھی گنتے ہیں۔ کیا تم نہیں گنتیں؟"  
"پہلے گنتی تھی، مگر اب نہیں۔"  
"کیوں؟"  
نورہ اپنی جگہ سے اٹھی، کینوس کے قریب گئی اور برش ہاتھ میں اٹھا لیا۔ بلب کی ہلکی روشنی میں اس کا چہرہ اب بھی جگمگا رہا تھا۔  
"ایک بار ایک آدمی نے مجھے میسج کیا۔ کہا کہ اس کی ماں مہینوں بیمار تھی، لیکن آخری وقت میں پتہ نہیں کیوں وہ بس میری ایک پینٹنگ دیکھتی رہتی تھیں۔"  
اس نے برش واپس رکھتے ہوئے کہا۔  
'بس۔'
ثمر نے یہ بات سنی۔ پھر دوبارہ سنی۔ اور پھر خاموشی سے برش کو دیکھتی رہی۔  
کچھ نہ بولی۔  
دیر رات جب بجلی آئی تو ثمر اپنے کمرے میں چلی گئی۔ فون کو چارجنگ پر لگایا۔ آن کرتے ہی نوٹیفکیشنز کی مانو بارش شروع ہوگئی۔ اس کے انسٹاگرام پر کمنٹس کا ڈھیر لگ چکا تھا۔  
'گورجس، کوئین، فائر، او ایم جی یہ باڈی'۔ پھر کچھ تفصیلی تعریفی جملے بھی تھے۔
 'اس میٹھی مسکراہٹ کے ساتھ بہت خوبصورت لگ رہی ہو، نیشنل کرش'۔ 
'یہ تصویر صرف خوبصورتی نہیں، ایک پورا وائب ہے'۔
'واہ !روشنی اور اینگل کیا کمال کے لیے ہیں'۔
'تمہاری مسکراہٹ میں تو وہ جادو ہے جو دن کو بھی رات کی طرح پر سکون بنا دے'۔
وہ سکرول کرتی گئی اور کرتے ہی چلی گئی۔  
پھر اچانک ایک جگہ رک گئی۔  
ایک کمنٹ تھا، سب سے نیچے، جسے صرف دو لائکس ملے تھے:  
"تمہاری تصویر کے پیچھے وہ ایزل دیکھا۔ کیا تم واقعی پینٹ کرتی ہو؟"  
یہ پڑھ کر ثمر کو لگا جیسے وہی ایموجی اب اس سے سوال کر رہی ہو ۔ ہنس رہی ہے یا رو رہی ہے، یا شاید دونوں۔ اور یہ سوال اتنا سیدھا تھا کہ باقی ہزاروں کمنٹس کے شور میں بھی الگ سنائی دے رہا تھا۔  
ثمر نے فون ایک سائیڈ رکھ دیا اور آئینے میں خود کو دیکھنے لگی۔ بال پرفیکٹ تھے۔ چہرہ بھی چمک رہا تھا۔ مگر آنکھوں میں کچھ تھا جو اسے پریشان کر گیا۔  
اگلے دن نورہ نے دروازے پر دستک سنی۔  
کھولا تو ثمر تھی۔ ہاتھ میں ایک نوٹ بک تھی جسے وہ پوری مضبوطی کے ساتھ پکڑے ہوئے تھی۔  
"کیا تم مجھے سکھا سکتی ہو؟"  
نورہ نے حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا:  
"کیا؟"  

"کچھ بھی۔ ڈرائنگ، پینٹنگ، کچھ بھی۔ میں بھی بچپن میں کچھ بنانا چاہتی تھی۔ مگر۔۔۔" وہ ایک وقفہ کے لیےرکی۔  
"مگر پھر پتہ چلا کہ لوگ صرف مجھے ہی دیکھنا چاہتے ہیں، میری چیزوں کو نہیں۔ تو میں بس تب سے دنیا کے سامنے ہمیشہ دکھتی ہی رہی۔"
نورہ ایک لمحے کے لیے خاموش رہی۔  
پھر دروازہ پوری طرح کھول دیا۔  
"اندر آ جاؤ۔"  
نورہ نے ایک کینوس ثمر کے سامنے رکھتے ہوئے برش اور رنگوں سے سجی پلیٹ اس کے ہاتھوں میں تھما دی۔
"پہلے یہ بتاؤ، ابھی تم کیا محسوس کر رہی ہو؟"
ثمر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا، "شاید ڈر۔"
"تو پہلے کینوس پر اسے لگاؤ۔"
ثمر کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ "ڈر کا رنگ کیا ہوتا ہے؟"
نورہ نے مسکرا کر کہا، "جو تمہیں لگے۔" اور اپنا دایاں ہاتھ اس کے بائیں کندھے پر رکھتے ہوئے اسے حوصلہ دیا۔
ثمر نے ایک نظر پلیٹ میں رکھے ہوئے سارے رنگوں کی طرف دیکھا۔ پھر آہستہ سے کالے اور سفید رنگ کو آپس میں ملانا شروع کیا۔ تبھی ایک دھندلا سا سرمئی رنگ وجود میں آ گیا۔ اس نے اس رنگ کو کینوس پر لگا دیا۔
برش کے ساتھ آڑی ترچھی لکیروں نے ایک بے ڈھنگا اور بے ترتیب سا شیپ بنا دیا۔
مگر آج پہلی بار یہ رنگ واقعی اس کا تھا۔
نورہ نے دونوں ہاتھ باندھ کر اپنی گردن کو ہلایا اور کہا، "ہاں، یہی شروعات ہے۔"
ایک مہینے میں ب
ہت کچھ بدل گیا۔
ثمر اب روز آنے لگی۔ کبھی ایک گھنٹے کے لیے، کبھی پوری دوپہر۔ اس کے ہاتھوں پر بھی اب رنگ دکھنے لگے تھے اور نوٹ بک بھی بھرنے لگی تھی۔پھر وہ دن بھی آیا جب اس نے ایک پینٹنگ بنائی۔
 ایک لڑکی جو آئینے کے سامنے کھڑی تھی مگر آئینے میں اس کا کوئی عکس موجود نہیں تھا، صرف اس کی اپنی پینٹنگ کی پرچھائیں تھی۔
نورہ نے خاموش نظروں سے اسے دیکھا۔ کمرے میں بلب کی روشنی پینٹنگ پر جھلک رہی تھی، اور ثمر کے چہرے پر ہلکی سی بےچینی صاف دکھائی دے رہی تھی۔
ثمر نے پلٹ کر پوچھا، "کیا یہ خراب ہے؟"
نورہ نے ہلکی سانس لیتے ہوئے کہا، "بالکل نہیں۔"
ثمر نے بھنویں سکیڑ کر دوبارہ سوال کیا، "تو پھر؟"
نورہ نے نظریں ہٹائے بغیر کہا، "تو پھر کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں۔"
ثمر نے اپنی پینٹنگ کو پھر سے دیکھا۔ اور پہلی بار اسے لائکس یا کمنٹس کا خیال نہیں آیا۔
ایک روز ثمر نے وہی پینٹنگ اپنے انسٹاگرام پر ڈالی۔ اس بار کوئی سیلفی نہیں تھی۔ بس وہ لڑکی اور آئینہ۔
کیپشن لکھا: "پہلی بار میں نے کچھ بنایا ہے، جسے میں نے محسوس کیا۔"
ایک گھنٹے بعد پانچ سو لائکس تھے جو اس کی عام سیلفیوں سے بہت کم۔
مگر اس بار کمنٹس بالکل مختلف تھے۔
"واہ، تم نے توکمال کر دیا"
"تم تو اصل آرٹسٹ ہو۔ کیا مجھے بھی سکھاؤ گی؟"
"لگتا ہے یہ میری اپنی کہانی ہے"
"نظر ہٹتی ہی نہیں، پتہ نہیں کہاں سے آتی ہے یہ سکون والی کشش"
"تمہارا برش تو بولتا ہے"
" میں کافی دیر تک اسے دیکھتا رہا"
ثمر نے نورہ کو بلایا اور اپنا فون دکھایا۔
نورہ نے آگے بڑھ کر اس کا فون اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ پڑھنا شروع کیا اور پڑھتی ہی رہی۔ پھر وہ مسکرائی۔ اپنی وہی پرانی، سچی مسکراہٹ کے ساتھ۔
"دیکھا؟" اس نے کہا۔
"کیا؟"
"وہ ایک سیکنڈ۔"
رات کو جب دونوں ٹہلنے کے لیے اپارٹمنٹ کے باہر نکلیں تو شہر کی روشنی نیچے جگمگا رہی تھی اور ستارے اوپر اپنی موجودگی کا احساس کروا رہے تھے۔ ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی، اور ان کے قدموں کی آہٹ خاموشی کو توڑ رہی تھی۔
تبھی ثمر نے پوچھا، "نورہ ، کیا تمہیں کبھی افسوس نہیں ہوتا کہ تم نے اپنی زندگی کا اتنا وقت لگایا، اتنی محنت کی مگر پھر بھی لوگوں نے تمہارے آرٹ کو اتنا کم دیکھا؟"
نورہ نے رات کی ہلکی سردی کو محسوس کیا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ جیکٹ کی جیبوں میں ڈالے اور آہستہ سے کہا، "کیا تم نے کبھی اندھیرے میں موم بتی جلائی ہے؟"
"ہاں۔۔۔بالکل۔"
"اس موم بتی کو کتنے لائکس ملتے ہیں؟"
ثمر اس سوال پر ہنس پڑی۔
"مگر وہ روشنی دیتی ہے،" نورہ نے کہا، "ہر اس شخص کو جو اس کے قریب ہو۔ چاہے ایک انسان ہی کیوں نہ ہو، اس کے لیے کافی ہے۔"
نورہ کی اس بات پرثمر کچھ دیر کے لیے کہیں کھوسی گئی ۔ اس نے ان کمنٹس کے بارے میں سوچا جو سیدھا اس کے دل تک پہنچے تھے۔ اس ایک لکیر کے بارے میں جو دریا سے اوپر جاتی تھی۔ اپنے بچپن کے بارے میں، جب وہ پہلی بار رنگ لے کر بیٹھی تھی اور دنیا اسے دکھنے والی نہیں، بنانے والی لگتی تھی۔
"نورہ،" اس نے آہستہ سے کہا، "تم بہت مہینوں سے میری پڑوسن ہو۔"
"ہاں۔"
"کاش میں نے بہت پہلے تمہارے دروازے پر دستک دی ہوتی۔"
نورہ نے اس کی طرف دیکھا،  
اور آہستہ سے کہا :
"دستک ہمیشہ وقت پر ہوتی ہے۔ بس کبھی کبھی ہم سننے میں دیر کر دیتے ہیں۔" 

٭٭٭

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔