غزل محض شاعری نہیں بلکہ تہذیب، احساس اور فکر کا حسین امتزاج ہے۔عبدالرشیدشاؔد - انجمن ڈگری کالج دھارواڑ میں اردو غزل کے فکری و فنی محاسن پر خصوصی لیکچر۔


غزل محض شاعری نہیں بلکہ تہذیب، احساس اور فکر کا حسین امتزاج ہے۔عبدالرشیدشاؔد - 
انجمن ڈگری کالج دھارواڑ میں اردو غزل کے فکری و فنی محاسن پر خصوصی لیکچر۔

دھارواڑ، 18 مئی:(راست)انجمن آرٹس، سائنس، کامرس کالج اینڈ پی جی اسٹڈیز، دھارواڑ کے شعبۂ اردو کے زیرِ اہتمام IQAC کے اشتراک سے “اردو غزل” کے عنوان پر ایک خصوصی لیکچر کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا۔ مہمانِ خصوصی شاعر و ادیب جناب عبدالرشیدشادؔ چکولی،لیکچرار،انجمن پری یونیورسٹی کالج ہانگل نے اپنے خصوصی خطاب میں اردو غزل کی تاریخ، ارتقاء، فنی خصوصیات اورعصرِ حاضر میں اس کی معنویت پر تفصیلی گفتگو کی۔ 

انہوں نے میرؔ، غاؔلب، اقباؔل اور فیؔض جیسے عظیم شعراء کے اشعار کے حوالے سے غزل کی فکری وسعت اور ادبی عظمت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے طلبہ کو اردو ادب کے سنجیدہ مطالعے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ غزل انسان کے باطن کی آواز اور تہذیبی شعور کی نمائندہ صنف ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے طلبہ کو مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے بے جا استعمال سے محتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ صرف مصنوعی ذہانت پر مکمل انحصار نہ کریں بلکہ کتابوں کے مطالعے، اساتذہ کی رہنمائی اور کلاس روم کی تدریس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت محض دماغی معلومات پہنچانے کا ذریعہ ہے جبکہ حقیقی زندگی میں انسان کو دل اور دماغ دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اساتذۂ کرام اپنے تجربات، مشاہدات اور تربیت کے ذریعے طلبہ کی بہتر رہنمائی کرتے ہیں اس لیے استاد کی اہمیت کبھی کم نہیں ہو سکتی۔انہوں نے مزید کہا کہ مطالعہ انسان کی فکری صلاحیتوں کو جِلا بخشتا ہے اور کتاب انسان کی بہترین دوست ہے۔ طلبہ کو چاہیے کہ وہ مستقل مطالعے کی عادت اپنائیں تاکہ ان میں تنقیدی شعور، تخلیقی فکر اور علمی بصیرت پیدا ہو سکے۔ ان کے ان فکر انگیز خیالات کو حاضرین نے بے حد سراہا۔ صدرِ جلسہ پرنسپل ڈاکٹر این۔ بی۔ نالتواڑنے اپنے صدارتی خطاب میں شعبۂ اردو کی علمی و ادبی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے خصوصی لیکچرز طلبہ کی فکری، ادبی اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اردو زبان صرف اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ ہماری تہذیب، ثقافت اور انسانی اقدار کی امین زبان ہے، جس کے مطالعے سے انسان میں شعور، احساس اور فکری پختگی پیدا ہوتی ہے۔ آخر میں انہوں نے شعبۂ اردو کو اس کامیاب علمی نشست کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی اس طرح کے ادبی و فکری پروگراموں کے ذریعے طلبہ میں اردو ادب سے دلچسپی مزید بڑھے گی۔ پروگرام کا آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید سے ہوا جس کی سعادت احمد رضا پٹھان، بی اے سال دوم نے حاصل کی۔ ڈاکٹر بی بی عائشہ چکولی صدر شعبۂ اردو نے استقبالیہ کلمات اور گل پیشی کی کاروئی ادا کرتے ہوئے نہایت جامع اور ادبی انداز میں اردو غزل کی تہذیبی اور فکری اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اردو غزل محض جذبات کے اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ انسانی فکر، تہذیب، عشق، تصوف اور معاشرتی اقدار کی آئینہ دار صنفِ سخن ہے۔ نظامت کے فرائض بی اے سال دوم کی طالبات فاطمہ اور انیشہ نے نہایت عمدہ انداز میں انجام دی،ڈاکٹر فاطمہ داروغہ نے مہمانِ خصوصی کا تعارف پیش کیا،اظہارِ تشکر محترمہ گلناز قاضی نے ادا کیا۔یہ علمی نشست نہایت کامیاب رہی اور حاضرین نے پروگرام کو بے حد سراہا۔ اس تقریب میں صدر شعبہ انگریزی ڈاکٹر اسماء ناز بلاری،آئی کیو اے سی کو آردینیٹر ڈاکٹر سید تاج النساء ،محترمہ حنا اور پروفیسر مبارک ملا موجود تھے۔ اس علمی و ادبی پروگرام میں اساتذۂ کرا م طلبہ و طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔(رپورٹ: ڈاکٹر بی بی عائشہ چکولی،انجمن ڈگری کالج ،دھارواڑ،کرناٹک)

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔