فاروق سید ادب اطفال کی عہد ساز شخصیت....عزم، خلوص اور جہدِ مسلسل کا استعارہ... کہانی کہہ کے رخصت ہوگئے ہیں۔ ازقلم : خان حسنین عاقب۔
فاروق سید ادب اطفال کی عہد ساز شخصیت....عزم، خلوص اور جہدِ مسلسل کا استعارہ...
کہانی کہہ کے رخصت ہوگئے ہیں۔
ازقلم : خان حسنین عاقب۔
برسوں قبل جب مرحوم معراج فیض آبادی سے روزانہ گھنٹوں گپ شپ ہوا کرتی تھی، ایک دن انھوں نے کہا ، 'حسنین میاں، اب ہمارا بھی چل چلاؤ ہے ، ہمارے دوست اور ہم عمر تو بہت سے جا چکے ہیں ۔ میں نے اسی وقت یعنی فی البدیہہ ایک شعر کہہ کر سنایا :
کہانی کہہ کے رخصت ہوگئے ہیں
جنھیں سونا تھا، تھک کر سوگئے ہیں
معراج صاحب بہت محظوظ ہوئے اور کھل کر داد دی ۔
بلکہ ایک گھنٹے بعد دوبارہ فون کیا اور کہا، میاں، تمھارا شعر ذہن سے نکل ہی نہیں رہا ۔
اور آج فاروق سید کے لیے کچھ لکھتے ہوئے ذہن نے یہی شعر تجویز کیا کہ دلی کیفیت کی اس سے بہتر ترجمانی محال تھی ۔
19 مئی 2026 کی وہ اداس، اداس ہی نہیں بلکہ ظالم شام اردو دنیا، بالخصوص ممبئی اور شولاپور کے علمی و ادبی حلقوں پر بجلی بن کر گری، جب یہ اندوہناک خبر موصول ہوئی کہ بچوں کے ہر دلعزیز ادیب، بے مثل ناظم اور ہمہ جہت صلاحیتوں کے مالک محترم فاروق سید صاحب اب ہم میں نہیں رہے۔ یہ ایک ایسا سانحہ ہے جس پر دل کو یقین دلانا مشکل ہو رہا ہے۔ علم و ادب کا وہ روشن چراغ جو برسوں سے نئی نسل کی ذہنی و اخلاقی آبیاری کر رہا تھا، ہمیشہ کے لیے گل ہو گیا۔
فاروق سید کا سب سے بڑا اور تاریخی کارنامہ گل بوٹے کا اجراء اور اس کی کامیاب اور منفرد ادارت ہے۔ انہوں نے اس رسالے کے ذریعے نو نہالوں میں مطالعے کا ایسا خوشگوار ذوق پیدا کیا جس کی مثال تاریخ میں کم ملتی ہے۔ بچوں کے لیے عمدہ کہانیاں، ڈرامے، نظمیں، لطائف اور اشعار غرض کہ ادبِ اطفال کی ہر صنف کو انہوں نے خوبصورتی سے برتا۔ رسالے کے پہلے صفحے پر ان کا کالم 'اپنی چھوٹی بات' فنی مہارت اور اخلاقی اقدار کا ایک ایسا قیمتی سرمایہ ہے جو بچوں کے کردار کی تعمیر میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ لیکن ٹہریے!
فاروق سید کو ہم صرف ایک مدیر یا نثر نگار کے خانے میں مقید نہیں کرسکتے ۔ وہ نظامت کے بادشاہ اور ایک سحر انگیز مقرر بھی تھے۔ ان کی آواز کی کھنک اور گفتگو کا منفرد انداز ہر محفل کو لوٹ لیتا تھا۔ وہ بلند اخلاق، سنجیدہ مزاج، اور علمی تحقیق کا ذوق رکھنے والے ایک فعال انسان تھے۔ اپنے سینکڑوں ساتھیوں کے لیے ان کے دل میں محبت اور انسانیت کا بے پناہ جذبہ تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ ممبئی کے احباب میں خان نوید الحق صاحب جیسے مخلص اور جاں نثار دوست ہمیشہ ان کے شانہ بشانہ رہے۔
فاروق سید کی شخصیت کا ایک درخشاں پہلو ان کا سماجی خدمات کا جذبہ بھی تھا ۔ اپنے رفقاء کی صلاحیتوں کو پہچان کر انہیں آگے بڑھانا ہو یا کسی ملی اور تعلیمی کام کی سرپرستی کرنا، وہ ہمیشہ ایک بہترین رہنما ثابت ہوئے۔ ان کی رہنمائی کی بدولت ہی کئی ساتھیوں کو ملک کی یونیورسٹیوں تک رسائی حاصل ہوئی اور سماجی میدان میں ان کی منفرد شناخت بنی۔
شہرِ شولاپور ان کا وطن تھا ۔ اس شہر کے اس مثالی سپوت نے ممبئی کو اپنا مسکن بنایا اور وہاں کے ادبی ہیرو، بہترین منتظم، اور علم و ادب کے سرگرم مبلغ بن کر ابھرے۔ ان کی پوری زندگی تعلیم کی پروردہ اور درس گاہوں کے لیے ایک روشن چراغ کی مانند تھی۔ اگر میں ذاتی طور پر اپنی بات کروں تو فاروق سید کا نام میرے ذہن میں اپنی نوجوانی سے اردو ٹائمز میں مستقل کالم لکھنے والے کالمسٹ کے طور پر روشن تھا۔
ان سے میرا زیادہ اور شخصی واسطہ بال بھارتی کے رکنیت کے دوران پڑا ۔ وہ بھی طویل عرصے تک بال بھارتی کی اردو لسانی کمیٹی کے اہم رکن رہے ۔ بال بھارتی کی میٹنگوں میں رکن کی حیثیت سے گاہے بگاہے فاروق سید بھی آیا کرتے تھے ۔ وہ جب بھی آتے ، ایک متحرک کردار نبھاتے ۔ بال بھارتی کے اسپیشل افیسر خان نوید الحق سے ان کے دوستانہ مراسم تھے ۔ دونوں کی بے تکلف نوک جھونک بھی چلتی جس سے ہم جونیئر لوگ کافی محظوظ ہوا کرتے تھے ۔ فاروق بھائی سے زیادہ بے تکلف ہونے کا نہ مجھے شوق تھا اور نہ ہی میں نے یہ مناسب سمجھا اس لیے ان سے میرا ایک ہاتھ کا فاصلہ ہمیشہ برقرار رہا ۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ میرے سرپرستی کرنے کی کسی نہ کسی ترکیب پر بات ضرور کرتے ۔ حالانکہ کسی ترکیب پر عمل پیرا ہونے کی نوبت کبھی نہیں آسکی ۔ اس کی وجہ ان کی ممبئی کی اور میری ملازمت کی مصروفیات اور ذمہ داریاں تھیں ۔ میری بہت ساری صلاحیتوں کا اعتراف وہ کھلے دل سے کیا کرتے تھے ۔ خاص طور پر میری تحریروں اور ترجمہ نگاری کے ضمن میں وہ میری بہت عزت کیا کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ انہوں نے ڈاکٹر مکی مہتا کی انگریزی کتاب 'دی شونیم کوشنٹ' کے سلسلے میں فون کیا اور مجھ سے کہا کہ آپ تعلقات کو بالائے طاق رکھ کر بتائیں کہ اس کتاب کے ترجمے کے لئے کتنا چارج کریں گے ۔ میں نے اپنے چارجز بتائے تو انہوں نے آگے پیچھے کرکے کہا کہ ٹھیک ہے آپ کام شروع کردیجیے ۔ میں نے کام شروع کر دیا، ترجمہ مکمل کردیا اور ان کے حوالے کر دیا۔ اسی دوران میرا ممبئی جانا ہوا تو ان کے آفس گیا ۔ دفتر میں انہوں نے خاطر مدارت کی اور اسی دوران ترجمے کی جو رقم طے ہوئی تھی، اس کی ساٹھ سے ستر فیصد ادائیگی کردی ۔ مجھے یہ نہیں پتہ کہ وہ ترجمہ کس کے لیے کرنا تھا اور کیسے اس کی اشاعت ہونی تھی لیکن یہ سارے کام فاروق بھائی اپنے دفتر میں بیٹھ کر مینج کیا کرتے تھے ۔
ایک اور تجربہ گل بوٹے کی پچیسویں سالگرہ کے جشن کے سلسلے میں پیش آیا ۔ انہوں نے طے کیا کہ ہم یہ جشن ملک کی راجدھانی دہلی میں منائیں گے ۔ تین روزہ یہ جشن کافی دھوم دھام سے منایا گیا ۔ یہ لوگوں کی ان سے محبت ہی تھی کہ بیشتر ارکان نے اپنے ذاتی خرچ سے آمد و رفت اور دیگر اخراجات برداشت کئے ۔ لیکن جشن کے بقیہ اخراجات بھی خطیر تھے جن کا انتظام فاروق سید نے اپنے طور پر کیا ۔ بال بھارتی کے زیادہ تر ارکان ان کے ساتھ دہلی گئے ۔ جی این یو، دہلی یونیورسٹی، جامعہ ملی اسلامیہ جیسے اداروں کے ساتھ ساتھ غالب اکیڈمی، مزار غالب ، درگاہ حضرت نظام الدین، ہمایوں کا مقبرہ اور خواتین کی ایک تنظیم ' بنات' کے دفتر کا بھی ہم نے دورہ کیا ۔ ہمایوں کے مقبرے میں تو ہم نے ایک مشاعرہ بھی منعقد کیا اس کے وسیع و عریض لان میں ۔
لیکن اس جشن کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جس طرح ان سے دہلی والوں نے وعدہ کیا تھا اس طرح تعاون نہیں مل پایا ۔ حالانکہ یہ جشن کافی کامیاب رہا اور اس پر فاروق سید نے خطیر رقم خرچ کی تھی ۔ پوری دنیا میں اس جشن کا چرچہ خوب ہوا ۔
یہ اپنی نوعیت کا ایک اولین کام تھا جو فاروق سید کی ہمت ہی کا مرہون منت تھا ۔ فاروق سید کے ذہن میں بہت سارے منصوبے ابھی کلبلا رہے تھے ۔ انہیں ابھی بہت کام کرنا تھا لیکن عمر نے ان سے وفا نہیں کی ورنہ وہ ابھی بہت سارے کام کرتے ۔ آج کے دور میں دور دور تک فاروق سید جیسا کام کرنے والا اور متعلقہ لوگوں سے کام لینے والا شخص اب نظر نہیں آتا ۔
ہم تو بس یہی دعا کر سکتے ہیں کہ اللہ فاروق سید جیسے پانچ دس لوگ بھی اس ملک میں اردو والوں کو نصیب کر دے تو شاید اردو کا مستقبل تعلیم کا مستقبل، درسیات کا اور پبلشنگ کا مستقبل روشن ہوگا ۔
یہ فغانِ دل ہے اور بس۔۔۔
'کہانی کہہ کے رخصت ہوگئے ہیں
جنھیں سونا تھا، تھک کر سوگئے ہیں
Comments
Post a Comment