" آل انڈیا مانوتا پارٹی" تحریر: ظفر ہاشمی ندوی، سابق۔


" آل انڈیا مانوتا پارٹی" 
 تحریر: ظفر ہاشمی ندوی، سابق۔

کونسلر دبی کورٹ ہندوستان کی آزادی سے لے کر آج تک ، مختلف سیاسی پارٹیاں بنائی گئی ہیں۔ دوسری طرف مذہب کی بنیاد پر ہندوؤں میں راشٹریہ سیوک سنگھ اور اس کی مختلف شاخیں مختلف ناموں سے بنی ہیں، جس کی وجہ سے ہندو اور مسلمانوں میں نفرت بڑھتی چلی گئی۔ مسلمانوں نے صرف سیاسی طاقت مضبوط کرنے کے لیے نہ کہ نفرت کی آگ بھڑکانے کے لیے، مسلم لیگ اور مجلس اتحاد المسلمین جیسی پارٹیاں بنائیں ۔ میرے خیال میں ہندوستان جیسے ملک میں، جہاں کئی مذاہب کے لوگ رہتے ہیں مانوتا" آل انڈیا پارٹی کا قائم کرنا بے حد ضروری ہے۔ اس لحاظ سے ہر زمانے میں جب جب نفرت کی آگ بھڑکائ جاے، اور خود ہندوستانی ہی اپنے ملک کی ترقی کی بجائے اس کو برباد کرنے لگے، تب تب انسانیت پارٹی اس آگ پر محبت اور ہر ایک پر بھلائی کا پانی ڈالے گی یہاں تک کہ وہ نفرت کی آگ اپنے آپ بجھ جاے۔ جب سارے ہندوستانی متحد ہو جائیں گے تب یہ ملک اپنے آپ سائنس، ٹیکنالوجی، ہر طرح کی انڈسٹری اور ایجوکیشن کی تمام قسموں میں سب سے زیادہ ترقی کرے گا - وقت آ گیا ہے کہ تمام ہندوستانی مل کر “آل انڈیا مانوتا" پارٹی قائم کریں۔ اس پارٹی کا ہر ہندوستانی ممبر ہوگا، اس پلیٹ فارم سے ہم آر، ایس، ایس ویشو ہندو پریشد بجرنگ دل، شیوسینا، اور خود مسلم لیگ اور مجلس اتحاد المسلمین سب کو دعوت دیتے ہیں۔ ہمارا کہنا یہ ہے کہ جو شخص جس سیاسی پارٹی کے لیے کام کرتا ہے وہ اس کا ممبر رہے اور اسے نہ چھوڑے۔ مانوتا پارٹی کا بھی اپنے آپ میں ممبر ہو جائے گول گیٹ کے ساتھ ساتھ اور جہاں بھی جس قدر کسی انسان پر ظلم ہو اور اس کی جان مال کو خطرہ ہو، انسانیت پارٹی کے ممبران اس مظلوم انسان کی حمایت میں کھڑے ہوجائیں۔ چاہے اس انصاف کے لئے ان کو اپنی سیاسی جماعت کی مخالفت برداشت کرنا پڑے - اس مقصد کے لیے میں فخر کے ساتھ اگلی سطروں میں اس پارٹی کا خاکہ پیش کرتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ جس طرح تمام ہندوستانیوں نے 2024 کے راجیہ سبھا انتخابات میں جمہوریت کو بچایا ہے اور نفرت بھری سیاست کو شکست دی ہے۔ وہ سارے ہندوستانی بھائی مانوتا پارٹی میں ضرور شامل ہوں گے نام: آل انڈیا مانوتا پارٹی۔ مذہب : انسانیت نعرہ: نفرت مردہ باد،انسانیت ومحبت زندہ باد ممبرشپ کا حقدار: ہر ہندوستانی جو دنیا کے کسی بھی ملک میں رہتا ہو۔ شرط: انڈین پاسپورٹ ہولڈر ہو، ادھار کارڈ راشن کارڈ بھی ہو تو زیادہ بہتر ہے۔ ممبرشپ کیسے ملیگی؟ اس پارٹی کی ممبر شپ کا نہ کوئی فارم ہے اور نہ کوئی فیس۔ ہر ہندوستانی جو اس بات کو سمجھ لے اپنے اللہ اور جس خدا پر یقین رکھتا ہو اس کی قسم خود ہی کھا لے اور یہ عہد کرے میں اج سے ہر قسم کی نفرت سے توبہ کرتا ہوں۔ اور وعدہ کرتا ہوں کہ میں ہر حال میں ہر انسان سے محبت کروں گا۔ میں ہر انسان کے کام آؤں گا، ہر انسان کی جان و مال کی ، عزت وآبرو کی حفاظت کروں گا۔ جو پارٹی ، جو جماعت اور جو شخص کسی انسان کو نقصان پہونچانے کی کوشش کرےگا میں اس کا ساتھ نہیں دوں گا۔ میں ہر مسجد مندر گرجہ گھر، دھرم شالہ،مدرسہ، گورودوارہ،اور ہر طرح کی عبادت گاہ کا احترام کروں گا۔ انسانیت پارٹی کا طریقہ کار: یہ پارٹی کسی طرح کے چھوٹے بڑے سیاسی الیکشن میں حصہ نہیں لےگی۔اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت کا ساتھ دےگی، نہ مخالفت کرےگی۔ مگر ہر الیکشن سے پہلے وہ ہر امیدوار سے اس کی انسانی سروس کا ثبوت مانگے گی۔ ہر جگہ کے تمام امیدواروں سے ان کی انسانی سروس اور خدمتوں کی تفصیل جمع کرے گی۔ اور تمام سوشل میڈیا پر اسے نشر کرے گی۔ اور فیصلہ عوام پر چھوڑے گی کہ وہ کس امیدوار کو ووٹ دینا پسند کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ وہ ہر امیدوار سے یہ سوال بھی کرے گی کہ اگر وہ الیکشن میں جیت جائے تو مستقبل میں اس کے اپنے دائرہ ، گاؤں اور شہر میں وہ کس طرح کے انسانیت کے کام کرےگا۔ اس کام کے لیے مانوتا پارٹی کی طرف سے مختلف انسانی ضرورتوں کی فہرست بنائی جائے گی، اور ہر امیدوار سے الگ الگ اس کی مرضی اور اس کے وعدے کے مطابق اس لسٹ پر دستخط لے گی۔ پھر وہ لسٹ اخبارات اور سوشل میڈیا پر نشر کی جائے گی اور کسی پارٹی یا امیدوار کی حمایت کے بغیر ہر اوٹ دینے والے کو اختیار ہوگا کہ وہ ان معلومات کی روشنی میں جسےچاہے ووٹ دے۔ کیے گیے وعدوں کا جائزہ: مانوتا پارٹی ہر الیکشن کے بعد دوسرے چھوٹے بڑے الیکشن آنے سے پچھلے تمام امیدواروں کے کیے گئے وعدوں کا جائزہ لے گی۔ ہر سابق امیدوار کے وعدوں اور اس پر عمل کی اور وہ وعدے جو صرف ووٹ حاصل کرنے کے لئے کئے گئے                         
مانوتا پارٹی اس کا بھی جائزہ لے
گی- اس کےساتھ ساتھ وہ ہر امیدوار سے یہ بھی سوال کرے گی کہ اگر وہ الیکشن جیت جائے تو مستقبل میں اس کے اپنے دائرہ ،گاؤں اور شھر میں وہ کس کس طرح کے انسانیت بھرے کام کرے گی- اس کام کے لیے مانوتا پارٹی کی طرف سے مختلف انسانی ضرورتوں کی ایک فہرست بنائی جائے گی اور ہر امیدوار سے الگ الگ اس کی مرضی اور وعدہ کے مطابق اس لسٹ پر دستخط لے گی- پھر وہ لسٹ اخبارات اور سوشل میڈیا پر نشر کی جائے گی- مانوتا پارٹی کی کسی بھی حمایت کے بغیر ہر ووٹ دینے والے کو پورا اختیار ہوگا کہ وہ جسے چاھے ان معلومات کی روشنی میں ووٹ دے-

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔