حجاج کو ٹرانسپورٹ کی بہترین سہولت فراہم کرنے مشاعر مقدسہ میں میٹرو منصوبے کا آغاز۔


کے این واصف : حجاج کے لیے منٰی سے میدان عرفہ اور پھر مزدلفہ کے بعد منٰی واپسی ایک لمبا فاصلہ ہے۔ جسے اب آسان بنادیا گیا ہے۔ سعودی ریلوے کمپنی (سار) نے اپنی بھر پور تیاری کا اعلان کرتے ہوئےمشاعرِ مقدسہ میٹرو منصوبے کا آغاز کر دیا ہے۔ 
سعودی پریس ایجنسی “ایس پی اے”کے مطابق اس اعلان سے واضح ہوتا ہے کہ ذرائع نقل و حرکت کا پورا شعبہ حجاج کرام کو نقل و حرکت کی محفوظ اور قابلِ بھروسہ سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
حج سیزن کے محفوظ اور اعلٰی کارکردگی پر مبنی آغاز کی ضمانت کے طور پر، “سار” نے تین فرضی مشقیں بھی کی ہیں۔ جن میں ہجوم کو ویسے ہی عروج پر فرض کیا گیا تھا جیسے حج کے انتہائی اہم اور مصروف ترین لمحات میں ہوتا ہے۔ اِن مشقوں کا مقصد ہجوم کے بارے میں ممکنہ حتمی حد تک درست اندازہ لگانا تھا۔
عازمینِ حج کے لیے فراہم کردہ ٹرانسپورٹ نظام میں میٹرو نیٹ ورک کے ۹ اسٹیشنوں قائم کئے گئے ہیں۔ جن میں میدانِ عرفات، مزدلفہ اور منٰی جیسے مقامات شامل ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ منٰی کا آخری اسٹیشن، جمرات کے پُل کی چوتھی منزل تک پھیلا ہوا ہے جس سے ہجوم کے بہاؤ کو محفوظ اور بِلا تعطل بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
میٹرو کے اِس منصوبے میں ٹرین کے سترہ ڈبے ہوں گے۔ اس طرح میٹرو کی مسافروں کو اُن کی منزلِ مقصود تک پہنچانے کی فی گھنٹہ صلاحیت 72000 تک پہنچتی ہے۔
اس منصوبے سے میٹرو کے ذریعے بیس لاکھ مسافر ایک سے دوسرے مقام تک لائے یا لے جائے جا سکیں گے۔ 
 “المشاعر المقدسہ”میٹرو پروجیکٹ، مملکت کی طرف سے کی جانے والی مربوط کوشششوں کا ایک بنیادی حصہ ہے جسے ایسے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ حجاجِ کرام کے لیے آسانیاں مہیا رہیں۔ 
میٹرو منصوبہ براہِ راست “پِلگِرم ایکپیریئنس” پروگرام‘ اور “سعودی وژن 2030” کے سٹریٹیجک اہداف میں تعاون فراہم کر رہا ہے اور حجاج کے لیے مناسکِ حج کی ادائیگی میں ایسی سہولتیں فراہم رہا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔