ممتا کو آئی انڈیا کی یاد: ہائے اس زودِ پشیماں کا پشیماں ہونا...! ازقلم : ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔
ممتا کو آئی انڈیا کی یاد: ہائے اس زودِ پشیماں کا پشیماں ہونا...!
ازقلم : ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔
بھارتی سیاست کا ایک دلچسپ اور عبرت انگیز باب اس وقت رقم ہوتا ہے جب کوئی رہنما وقت کی گردش کے ساتھ اپنے موقف بدلتا رہے اور اصول و وفاداری کو ذاتی مفاد کی ترازو میں تولتا رہے۔ ممتا بنرجی کی سیاسی زندگی اسی باب کی ایک روشن، یا شاید تاریک، مثال ہے۔ مغربی بنگال کی 15 سالہ حکمرانی کے بعد جب مئی 2026 کے اسمبلی انتخابات نے انہیں نہ صرف اقتدار سے بے دخل کیا بلکہ ان کے اپنے حلقہ انتخاب بھبانی پور میں بی جے پی کے سبھیندو ادھیکاری سے 15105 ووٹوں کے فرق سے شکست کا ذلت آمیز تحفہ بھی دیا، تو آناً فاناً ممتا بنرجی کو اپنے انڈیا اتحاد کے ساتھیوں کی یاد آ گئی۔ سونیا گاندھی، راہول گاندھی، اروند کیجریوال، ادھو ٹھاکرے، اکھلیش یادو، تیجسوی یادو اور ہیمنت سورین کے نام گنوائے گئے اور کہا گیا کہ انہوں نے فون کر کے یکجہتی کا اظہار کیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ یاد سچی ہے، یا محض سیاسی بقا کی تڑپ؟
ممتا بنرجی کی سیاسی زندگی پلٹیوں اور الٹ پھیر کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کانگریس پارٹی سے کیا اور کئی دہائیوں تک اس کی مخلص رکن رہیں۔ 1997 میں کانگریس کی قیادت سے اختلافات کی وجہ سے انہوں نے علیحدگی اختیار کی اور یکم جنوری 1998 کو باضابطہ طور پر آل انڈیا ترنمول کانگریس کی بنیاد رکھی، جسے بھارت کے انتخابی کمیشن (Election Commission of India) نے باقاعدہ سیاسی جماعت کے طور پر تسلیم کیا۔ 1998 میں وہ اٹل بہاری واجپائی کی پہلی این ڈی اے حکومت میں وزیر ریل بنیں، اور 1999 کے عام انتخابات کے بعد دوبارہ وزیر ریل کا عہدہ سنبھالا۔ پھر 2001 میں این ڈی اے سے بھی کنارہ کش ہو گئیں۔ یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا، بلکہ سیاسی مفاد کی اس روش نے ان کی پوری زندگی کو متعین کیا۔ جب انڈیا اتحاد کی تشکیل 2023 میں ہوئی تو ممتا نے خود اس کی بانی کے طور پر اپنا نام لکھوایا، مگر ساتھ ہی بنگال میں کانگریس اور سی پی آئی ایم کے خلاف ووٹ مانگتی رہیں اور اتحاد کے فریق دلوں میں کانٹے چبھوتی رہیں۔ یہ دوہری کشتی میں سوار ہونے کی وہ عادت ہے جس پر بنگال کانگریس کے صدر ادھیررنجن چودھری نے صراحت سے کہا کہ وہ اتحاد سے بھاگ گئی ہیں اور مجھے ان کی کسی بات پر بھروسہ نہیں ہے۔
2024 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران ممتا بنرجی کا رویہ انتہائی سردمہری پر مبنی رہا۔ مئی 2024 میں انہوں نے اعلان کیا کہ اگر انڈیا اتحاد کی حکومت مرکز میں بنتی ہے تو ترنمول کانگریس حکومت میں شامل نہیں ہوگی بلکہ باہر سے حمایت کرے گی تاکہ بنگال میں میری ماں بہنوں کو کبھی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہ بیان اتحاد کی روح کے ساتھ کھلواڑ تھا، گویا اتحاد کوئی دکان ہو جہاں سے کوئی اپنی پسند کی چیز خریدے اور باقی کو رد کر دے۔ اتحاد کی قومی میٹنگوں میں شرکت کا ریکارڈ بھی ناقص رہا، یہاں تک کہ فروری 2024 میں انہوں نے ایک قوم ایک انتخاب (One Nation, One Election) سے متعلق طے شدہ دہلی دورہ بھی اچانک منسوخ کر دیا، جس سے ان کی اتحاد کے تئیں سنجیدگی پر سوال اٹھنا فطری تھا۔
دسمبر 2024 کے اواخر میں انڈیا اتحاد کے اندرونی تضادات مزید گہرے ہوئے جب ممتا نے قومی سیاست میں اپنا کردار بڑا دکھانے کی کوشش کی۔ وہ ایک ایسی رہنما کے طور پر خود کو پیش کرنا چاہتی تھیں جو کانگریس کا متبادل بن سکے، لیکن اتحاد کی جماعتیں اس دعوے کو دل سے تسلیم کرنے پر آمادہ نہ تھیں کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ یہ وہی ممتا ہیں جو قومی اجلاسوں سے غیر حاضر رہتی ہیں، بنگال میں اتحادیوں کو سیاسی حریف سمجھتی ہیں، اور مرکز میں اقتدار میں شامل ہونے سے گریزاں ہیں۔ ایک ایسی قیادت جو اتحاد کے گھر کو اپنی گلی میں آنے سے روکے، وہ اتحاد کی رہنما کیسے بن سکتی ہے؟
مغربی بنگال کے مئی 2026 کے اسمبلی انتخابات نے ممتا بنرجی کی سیاسی گھڑی کو ایسا جھٹکا دیا جس سے وہ ابھی تک سنبھل نہیں پائیں۔ بی جے پی نے 294 رکنی اسمبلی میں 207 نشستیں جیت کر تاریخی کامیابی حاصل کی، جبکہ ترنمول کانگریس صرف 80 نشستوں پر سمٹ گئی۔ 2011 سے جاری ممتا کی 15 سالہ حکومت خاک میں مل گئی۔ شکست کھانے کے بعد ممتا نے نہ صرف استعفیٰ دینے سے انکار کیا بلکہ نتائج کو عوامی مینڈیٹ (Public Mandate) ماننے سے بھی گریز کیا اور انہیں منظم سازش قرار دیا۔ انتخابی کمیشن کو بی جے پی کا آلہ کار کہا گیا اور 100 سے زائد نشستوں پر ووٹ چوری کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔ گورنر نے آئینی ضابطے کے مطابق اسمبلی تحلیل کر دی اور نئی حکومت سازی کا عمل شروع ہو گیا۔ یہ وہ روایتی شکست خوردہ رہنما کا رویہ ہے جو اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے خارجی عوامل پر بوجھ ڈالتا ہے۔
اس پس منظر میں انڈیا اتحاد کی یاد آنا ایک گہرے سیاسی المیے کی علامت ہے۔ جب تک بنگال میں اقتدار تھا، ممتا کے لیے انڈیا اتحاد ایک ضمنی مسئلہ تھا۔ بنگال میں کانگریس اور سی پی آئی ایم کو ممتا نے کبھی اپنے اتحادی نہیں سمجھا، قومی سطح پر مشترکہ حکمت عملی بنانے میں دلچسپی محدود رہی، اور اتحاد کے مشترکہ امیدواروں کے لیے ریاستی سطح پر نشستوں کی تقسیم پر کبھی سنجیدگی سے بات نہ کی گئی۔ انقلاب اخبار کے تجزیے کے مطابق یہ انتخابی شکست صرف ٹی ایم سی نہیں بلکہ انڈیا اتحاد کی بھی ہار ہے کیونکہ جب کوئی بڑی علاقائی جماعت اتحاد کو بنگال میں سنجیدہ نہ لے تو اتحاد کمزور ہوتا ہے اور بی جے پی مضبوط۔
اب جب ممتا بنرجی سیاسی تنہائی میں ہیں، بنگال کا اقتدار گیا، اپنا حلقہ بھی گیا، تو انڈیا اتحاد کا نام ان کی زبان پر ہے۔ یہ وہی زود پشیماں کا پشیمان ہونا ہے یعنی جو جلدی موقف بدلتا ہے، اس کی واپسی بھی اتنی ہی جلد ہوتی ہے اور اتنی ہی ناقابل اعتبار بھی۔ بھارتی سیاست میں شکست خوردہ رہنما اکثر اسی راستے پر چلتا ہے کہ جب تاج سر پر ہو تو اتحاد کی پرواہ نہ کی جائے، اور جب تاج چھن جائے تو اتحادیوں کی یاد آئے۔ سیاسی اعتماد ایک بار ٹوٹنے کے بعد آسانی سے جڑتا نہیں، اور جو جماعتیں خود ممتا کی دوہری چال کا شکار ہو چکی ہیں، وہ ظاہری یکجہتی کے باوجود اندر سے محتاط رہیں گی۔
بھارتی جمہوریت کا یہ کردار ہمیں ایک سنجیدہ سبق دیتا ہے۔ علاقائی سیاست دان اکثر قومی اتحاد کو اپنے ذاتی یا علاقائی مفادات کے ترازو میں تولتے ہیں اور جب ذاتی مفاد کا پلڑا بھاری ہو تو اتحاد ثانوی بن جاتا ہے۔ ممتا بنرجی اس رویے کی واضح اور کھلی مثال ہیں۔ ان کی سیاسی تاریخ جو کانگریس سے شروع ہو کر این ڈی اے اور پھر انڈیا اتحاد تک پھیلی ہوئی ہے اس بات کی گواہ ہے کہ اصول اور پالیسی سے زیادہ ان کی ترجیح ہمیشہ اقتدار کا تسلسل رہا ہے۔ ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا! یعنی جو شخص بار بار پشیمان ہو، اس کی پشیمانی بھی بے اثر ہو جاتی ہے۔ ممتا بنرجی کا سیاسی مستقبل اس سوال کا جواب مانگتا ہے کہ کیا وہ اپنی روش کو واقعی بدل سکتی ہیں، یا پھر وقت کے ساتھ پرانی عادتیں لوٹ آئیں گی؟ بھارتی سیاست کا تجربہ بتاتا ہے کہ اس سوال کا جواب پہلے سے طے ہے۔
Comments
Post a Comment