واجد اختر صدیقی کی "نقش تحریر " :گلبرگہ کی ادبی روایت کا آئینہ - ازقلم : افراء تسکین (اورنگ آباد)


واجد اختر صدیقی کی "نقش تحریر " :گلبرگہ کی ادبی روایت کا آئینہ - 
ازقلم :  افراء تسکین (اورنگ آباد)
فون نمبر: 9545857089                  

اردو ادب کا دائرہ نہایت وسیع اور ہمہ گیر ہے، جس میں ہر قلم کار اپنے منفرد اسلوبِ نگارش، فکری بصیرت اور تخلیقی صلاحیتوں کے باعث ایک الگ شناخت کا حامل ہوتا ہے۔ یہ اہلِ قلم اردو زبان و ادب کے فروغ اور بقا کے لیے مسلسل کوشاں ہیں تاکہ نئی نسل تک اردو کی شیرینی، تہذیبی وراثت اور ادبی روایات منتقل کی جا سکیں۔ بعض ادیب اپنی خداداد صلاحیتوں، محنت اور علمی و ادبی خدمات کے ذریعے نہ صرف ادب کو ثروت مند بناتے ہیں بلکہ اپنی سرزمین کو بھی ایک منفرد شناخت عطا کرتے ہیں۔ ایسے ہی باصلاحیت اور فعال ادیبوں میں واجد اختر صدیقی کا نام خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔
واجد اختر صدیقی کا تعلق ریاستِ کرناٹک کے تاریخی اور علمی شہر گلبرگہ سے ہے۔ پیشے کے اعتبار سے وہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں، تاہم ان کی اصل پہچان ان کی ادبی خدمات ہیں۔ وہ ان معدودے چند قلم کاروں میں شمار ہوتے ہیں جو بیک وقت نثر اور شاعری دونوں میدانوں میں یکساں مہارت رکھتے ہیں اور مسلسل تصنیف و تالیف کے ذریعے اردو ادب کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔
اردو ادب میں تنقیدی، تحقیقی اور تخلیقی مضامین کی ایک درخشاں روایت موجود ہے۔ واجد اختر صدیقی کی تصنیف "نقشِ تحریر" اسی روایت کا ایک اہم تسلسل ہے۔ یہ کتاب نوجوان نسل، نوآموز قلم کاروں، طلبہ و طالبات اور ادب سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے نہایت مفید اور وقیع سرمایہ ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے گلبرگہ کے مختلف ادباء، شعراء اور افسانہ نگاروں پر تحریر کیے گئے اپنے مضامین کو یکجا کیا ہے، جو 2023ء میں کتابی صورت میں شائع ہوئے۔
کتاب "نقشِ تحریر" کو محمد جاوید اقبال صدیقی نے نہایت سلیقہ مندی سے مرتب کیا ہے، جبکہ ڈاکٹر سید عتیق اجمل وزیر نے اس کی کمپوزنگ انجام دی ہے۔ اس کے علاوہ کتاب کا خوبصورت اور دلکش سرورق سید مشتاق فاروقی کی فنی مہارت کا شاہکار ہے، جو پہلی ہی نظر میں قاری کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔
واجد اختر صدیقی نے اس کتاب کو اپنے استادِ محترم ڈاکٹر وحید انجم (مرحوم) کے نام معنون کیا ہے، جو ان کی استاد نوازی اور علمی وابستگی کا مظہر ہے۔ کتاب کے آغاز میں درج شعر:

"یہ دنیا ہے فانی، یہ دنیا ہےفانی
عجب زندگانی، عجب زندگانی"

زندگی کی ناپائیداری اور دنیا کی عارضی حیثیت کی جانب اشارہ کرتا ہے اور قاری کو فکر و تدبر کی دعوت دیتا ہے۔
"نقشِ تحریر" مختلف ادوار میں لکھے گئے مضامین، تبصروں اور تنقیدی جائزوں کا مجموعہ ہے۔ مصنف نے تحقیق اور تنقید کے مباحث کو نہایت سادہ، جامع اور دل نشین انداز میں پیش کیا ہے۔ کتاب کو مختلف ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں بابِ زمن، بابِ سخن، بابِ فن، بابِ ایوان، بابِ چمن، بابِ میزان اور بابِ گمان نمایاں ہیں۔
بابِ زمن میں گلبرگہ کی نثری روایت اور وہاں کے اہم نثر نگاروں کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔ اس باب میں ابراہیم جلیس، عصمت اللہ بیگ، امیر علی اور عطا حسین جیسے ادیبوں کی خدمات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
بابِ سخن میں گلبرگہ کے شعراء کے فن اور شخصیت کا جائزہ لیا گیا ہے۔ خصوصاً حمید سہروردی کے حوالے سے یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ان کی شاعری کسی مخصوص نظریے یا ازم کی پابند نہیں بلکہ انسانی جذبات، احساسات اور زندگی کے مختلف تجربات کی ترجمان ہے۔
اسی طرح بابِ فن میں افسانہ نگاروں اور ان کے فن کا تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ ریاض قاصدار کے افسانوی مجموعے "منظور وقار" کے افسانے "ہوا محل" کے مختلف فنی اور فکری پہلوؤں پر مدلل گفتگو کی گئی ہے، جو مصنف کی تنقیدی بصیرت کا ثبوت ہے۔
مختصراً، "نقشِ تحریر" ایک ایسے سمندر کی مانند ہے جس کی ہر موج قاری کو گلبرگہ کی ادبی شخصیات، ان کے افکار، تخلیقات اور ادبی خدمات سے روشناس کراتی ہے۔ یہ کتاب نہ صرف گلبرگہ کی ادبی تاریخ اور روایت کا آئینہ دار ہے بلکہ اردو ادب کے سنجیدہ قارئین کے لیے ایک اہم حوالہ بھی ہے۔ واجد اختر صدیقی کی یہ کاوش یقیناً گلبرگہ کی ادبی شناخت کو مزید مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔