قربانی کے جانور سے پہلے نفس کی اصلاح۔ ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔
قربانی کے جانور سے پہلے نفس کی اصلاح۔
ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔
M A M Ed
8904317986
عید الاضحیٰ کے موقع پر آج میں قربانی کی حقیقت کو سب کے سامنے واضح کرنا چاہتی ہوں۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں قربانی کا اصل مقصد صرف جانور ذبح کرنا نہیں،
بلکہ دل کی پاکیزگی، تقویٰ، حلال رزق اور اپنے نفس کی اصلاح ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اللہ تک نہ اُن جانوروں کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ اُن کا خون، بلکہ اُس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔”
(سورۃ الحج: 37)
یعنی اللہ کے نزدیک اصل چیز دل کا اخلاص، نیت کی پاکیزگی اور تقویٰ ہے، صرف ظاہری عمل نہیں۔
اسی طرح حلال مال کی اہمیت کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“اللہ پاک ہے اور پاک چیز ہی قبول فرماتا ہے۔”
(صحیح مسلم)
اگر مال حرام ہو، ظلم سے کمایا گیا ہو یا سود، دھوکے اور ناجائز طریقے سے حاصل کیا گیا ہو تو عبادت کی روح متاثر ہو جاتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا:
“بہت سے روزہ رکھنے والوں کو روزے سے سوائے بھوک کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔”
(سنن ابن ماجہ)
یعنی صرف ظاہری عبادت کافی نہیں، بلکہ اعمال اور اخلاق کی اصلاح بھی ضروری ہے۔
آج ہم قربانی کے جانور میں معمولی عیب بھی برداشت نہیں کرتے،
لیکن اپنے اندر موجود تکبر، حسد، جھوٹ، غیبت، منافقت اور حرام رزق جیسے بڑے عیبوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
قرآن ہمیں خود احتسابی کا درس دیتا ہے:
“بلکہ انسان خود اپنے اوپر خوب نظر رکھنے والا ہے۔”
(سورۃ القیامہ: 14)
اور ایک جگہ فرمایا:
“بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدلیں۔”
(سورۃ الرعد: 11)
عیب ڈھونڈتا پھرتا ہے زمانہ سب کے،
اپنے کردار پہ لیکن نظر کم ہی گئی۔
جانور کے عیب پہ رکھتے ہیں نظر باریک بہت،
اپنے دل کے زخم مگر دیکھنے والے کم ہیں۔
قربانی کا مقصد فقط چھری چلانا تو نہیں،
نفس کی خواہش کو مٹانا بھی عبادت ہے۔
حلال رزق، پاک دل اور اچھا اخلاق ہو اگر،
تبھی بارگاہِ الٰہی میں قربانی قبول ہے۔
اصل قربانی یہ ہے کہ انسان:
• اپنے مال کو حلال بنائے،
• اپنے اخلاق کو بہتر کرے،
• دوسروں کے عیب ڈھونڈنے کے بجائے اپنی اصلاح کرے،
• اور اللہ کے سامنے عاجزی اختیار کرے۔
تبھی قربانی اپنی حقیقی روح کے ساتھ ادا ہوگی۔
Comments
Post a Comment