افسانچہ۔ - خواب کا شرمندہ تعبیر ہونا۔ ازقلم۔: ڈاکٹر غیاث احمد، (صدر شعبۂ اردو-۲،۔ نیو کالج، چنئی)۔
افسانچہ۔ -
خواب کا شرمندہ تعبیر ہونا۔
از: ڈاکٹر غیاث احمد، صدر شعبۂ اردو-۲،۔ نیو کالج، چنئی۔
موبائل نمبر: 9840336623
کشور بارہویں جماعت کے امتحان میں ناکام رہا۔ وہ تین مضامین میں فیل ہو گیا۔ بچا کلیش ایک مزدور تھا۔ بھائی سرینڈر کے سڑک کے حادثے میں انتقال کر جانے کے بعد اس نے کشور کی پوری ذمہ داری اپنے اوپر لے لی تھی۔ کشور کی ماں تو بچپن ہی میں وفات پا چکی تھیں۔
ایک دن کلیش اپنے دوست صدیق صاحب سے فکر مندی کے عالم میں گفتگو کر رہا تھا۔ وہ کہنے لگا:
“اگر میرے پاس پیسہ ہوتا تو میں کشور کو یوپی ایس پڑھواتا۔”
کشور ایک طرف والدین کی جدائی کے غم میں مبتلا تھا اور دوسری طرف غربت کی پریشانیوں میں گھرا ہوا تھا، اس لیے بیچارہ امتحان میں ناکام ہو گیا۔
کلیش نے آہ بھرتے ہوئے صدیق صاحب سے کہا:
“میں کشور کو انجینئر بنانا چاہتا تھا۔ ملک کی ترقی کے لیے اسے آگے بڑھانا چاہتا تھا، مگر وہ فیل ہو گیا۔”
یہ سن کر صدیق صاحب بولے:
“کشور پڑھائی میں شاید کمزور ہو، مگر اس کے اندر فنی صلاحیت موجود ہے۔ میں نے کئی بار دیکھا ہے کہ وہ ٹوٹی پھوٹی چیزوں کو جوڑنے کی کوشش کرتا ہے اور کسی نہ کسی طرح انہیں درست بھی کر دیتا ہے۔ تم ایسا کیوں نہیں کرتے کہ اسے کسی پولی ٹیکنک کورس میں داخل کرا دو؟ یہ کورس صرف ایک یا دو سال کے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اسے کسی اچھی کمپنی میں ملازمت مل سکتی ہے۔”
وہ مزید کہنے لگے:
“انجینئر نہ سہی، ایک اچھا ٹیکنیشن تو بن ہی سکتا ہے۔ پھر دو تین سال کے اندر اپنی ایک چھوٹی سی کمپنی بھی قائم کر سکتا ہے۔ بینک سے قرض (Loan) حاصل کر کے وہ اپنا کاروبار شروع کر سکتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ اتنا کامیاب اور مالدار بن جائے کہ مستقبل میں خود ایک انجینئرنگ کالج قائم کرے، جہاں سے بہت سے طلبہ و طالبات انجینئر بنیں۔”
صدیق صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا:
“کلیش! تم ایک انجینئر بنانا چاہتے تھے، مگر خدا کرے تمہاری محنت سے کئی انجینئر تیار ہوں۔”
صدیق صاحب کی یہ حوصلہ افزائی سن کر کلیش بہت خوش ہوا۔ اس نے اپنی آنکھوں سے آنسو پونچھے اور امید و حوصلے کے ساتھ کام پر نکل پڑا۔ اس کے دل میں ایک نئی امید جاگ اٹھی تھی کہ اگر ایسا ہوا تو وہ اس انجینئرنگ کالج کا نام “صدیق انجینئرنگ کالج” رکھے گا۔
از: ڈاکٹر غیاث احمد
صدر شعبۂ اردو-۲
نیو کالج، چنئی
موبائل نمبر: 9840336623
Comments
Post a Comment