جہیز ایک لعنت (عصرِ حاضر کے تناظر میں)۔ از قلم: تحسینہ ماوینکٹی۔


جہیز ایک لعنت (عصرِ حاضر کے تناظر میں)
 از قلم: تحسینہ ماوینکٹی۔

انسانی معاشرہ بظاہر ترقی کی راہوں پر گامزن ہے، مگر افسوس کہ بعض فرسودہ رسم و رواج آج بھی ہماری زندگیوں پر اس طرح مسلط ہیں کہ وہ نہ صرف ہماری خوشیوں کو نگل رہے ہیں بلکہ ہمارے اخلاقی ڈھانچے کو بھی کمزور کر رہے ہیں۔ انہی میں سے ایک نہایت خطرناک اور انسانیت سوز رسم جہیز ہے، جو وقت کے ساتھ ساتھ ایک ایسی لعنت میں تبدیل ہو چکی ہے جس نے بیٹی جیسے مقدس رشتے کو بوجھ بنا دیا ہے۔ آج ہم ٹیکنالوجی، تعلیم اور شعور کی بات تو کرتے ہیں، مگر عملی زندگی میں جہیز جیسے ظلم کو نہ صرف برداشت کرتے ہیں بلکہ اسے فروغ بھی دیتے ہیں، جو ہمارے معاشرتی تضاد کی سب سے بڑی مثال ہے۔

جہیز دراصل وہ سامان، دولت یا قیمتی اشیاء ہیں جو شادی کے موقع پر لڑکی کے والدین کی طرف سے دی جاتی ہیں، لیکن موجودہ دور میں یہ ایک رضاکارانہ عمل نہیں رہا بلکہ ایک لازمی مطالبہ بن چکا ہے۔ بظاہر یہ کہا جاتا ہے کہ "ہمیں کچھ نہیں چاہیے، بس اپنی بیٹی کو خوشی سے رخصت کریں"، مگر اس خوشی کی آڑ میں کار، سونا، مہنگا فرنیچر، الیکٹرانکس اور نقد رقم جیسے مطالبات چھپے ہوتے ہیں۔ اگر یہ سب فراہم نہ کیا جائے تو لڑکی والوں کو احساس دلایا جاتا ہے کہ انہوں نے "عزت نہیں رکھی"۔ اس طرح جہیز ایک خاموش جبر کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

آج کے دور میں جہیز نے ایک اور خطرناک شکل اختیار کر لی ہے، اور وہ ہے سوشل میڈیا کا اثر جیسے انسٹاگرام، فیس بک اور یوٹیوب پر مہنگے جہیز کی نمائش، بڑے بڑے سیٹ اپس اور شاہانہ شادیوں کو کامیابی اور اسٹیٹس کی علامت بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ عام لوگ جب یہ سب دیکھتے ہیں تو وہ بھی اسی معیار کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں، چاہے اس کے لیے انہیں قرض ہی کیوں نہ لینا پڑے۔ اس طرح ایک غلط روایت کو جدید رنگ دے کر مزید مضبوط کیا جا رہا ہے، اور معاشرے میں غیر ضروری مقابلہ بازی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسے بے شمار واقعات موجود ہیں جہاں ایک باپ اپنی بیٹی کی شادی کے لیے اپنی ساری جمع پونجی خرچ کر دیتا ہے، قرض لے لیتا ہے، یا اپنی ضروریات قربان کر دیتا ہے۔ ماں اپنے زیورات بیچ دیتی ہے، اور بھائی اپنی آمدنی کا بڑا حصہ اس مقصد کے لیے لگا دیتے ہیں۔ اس کے باوجود اگر جہیز "کم" سمجھا جائے تو لڑکی کو سسرال میں طعنے سننے پڑتے ہیں، ذہنی اذیت برداشت کرنی پڑتی ہے، اور بعض اوقات تو جسمانی تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے انسان کی قدر کو اس کے کردار یا تعلیم کے بجائے اس کے ساتھ آنے والے سامان سے جوڑ دیا ہے۔ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ آج کا تعلیم یافتہ نوجوان بھی اس برائی میں برابر کا شریک ہے۔ ایک لڑکا جو خود کو پڑھے لکھے ہونے کا دعویدار سمجھتا ہے، وہ بھی اکثر یہ سوچ رکھتا ہے کہ اس کی تعلیم اور ملازمت کی "قیمت" جہیز کی صورت میں ملنی چاہیے۔ یہ سوچ نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ انسانی وقار کے بھی خلاف ہے۔ اگر تعلیم انسان کو شعور نہ دے سکے تو وہ تعلیم بے معنی ہے۔

جہیز کی لعنت نے لڑکیوں کی نفسیاتی حالت پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے۔ بہت سی لڑکیاں خود کو بوجھ سمجھنے لگتی ہیں، ان میں احساسِ کمتری پیدا ہو جاتا ہے، اور وہ اپنی زندگی کے فیصلوں میں خود کو کمزور محسوس کرتی ہیں۔ بعض کیسز میں یہ دباؤ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ وہ ڈپریشن کا شکار ہو جاتی ہیں یا انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ کیا ایک مہذب معاشرے میں ایسی صورتحال قابلِ قبول ہو سکتی ہے؟
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ جہیز شادی جیسے مقدس بندھن کو ایک کاروبار میں تبدیل کر چکا ہے۔ جہاں پہلے نکاح محبت، اعتماد اور باہمی احترام کی بنیاد پر ہوتا تھا، اب وہاں لین دین اور مادی چیزوں کا غلبہ ہو گیا ہے۔ نتیجتاً رشتوں میں خلوص کم اور مفاد زیادہ نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج طلاق کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے، اور گھریلو زندگی سکون کے بجائے مسائل کا شکار ہو رہی ہے۔ اگر ہم دینی اور اخلاقی نقطۂ نظر سے دیکھیں تو تمام مذاہب، خصوصاً اسلام، سادگی اور آسانی کی تعلیم دیتے ہیں۔ نکاح کو آسان بنانے پر زور دیا گیا ہے، مگر ہم نے اسے مشکل بنا دیا ہے۔ ہم نے اپنی روایات کو دین پر فوقیت دے دی ہے، جو کہ ایک بہت بڑی غلطی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عزت کا تعلق سامان سے نہیں بلکہ کردار سے ہوتا ہے۔

اس مسئلے کا حل صرف قانون سازی سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے ذہنی اور سماجی انقلاب کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی، اپنے رویے درست کرنے ہوں گے، اور معاشرتی دباؤ کو مسترد کرنا ہوگا۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ کھل کر جہیز کے خلاف آواز اٹھائیں اور اس کے بغیر شادی کرنے کو اپنا فخر سمجھیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو جہیز کے بجائے تعلیم، ہنر اور خود اعتمادی دیں، تاکہ وہ اپنی زندگی خود سنوار سکیں۔ ہم سب کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اس لعنت کو اپنی زندگی سے نکال باہر کریں گے۔ ہم نہ جہیز لیں گے، نہ دیں گے، اور نہ ہی اس رسم کو کسی بھی شکل میں فروغ دیں گے۔ یہی وہ قدم ہے جو ہمارے معاشرے کو حقیقی ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

جہیز نہیں، عزت چاہیے!
 بیٹی رحمت ہے، بوجھ نہیں!
 سادہ نکاح، خوشحال زندگی!
 نہ لیں گے جہیز، نہ دیں گے جہیز!

نہ دولت سے، نہ سامان سے رشتہ بنتا ہے
محبت ہو اگر سچی، تو گھر جنت بنتا ہے

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔