علم اور کتاب سے دوری(کالم )۔ از قلم: رہبر تماپوری۔
علم اور کتاب سے دوری(کالم )
از قلم: رہبر تماپوری۔
انسانی ذہن ایک ایسی زرخیز زمین کی مانند ہے جس میں جیسے بیج بوئے جائیں، ویسی ہی فصل پروان چڑھتی ہے۔ اگر اس زمین میں علم، شعور اور مطالعے کے بیج بوئے جائیں تو انسان فکری بلندیوں تک پہنچ جاتا ہے، لیکن اگر یہی ذہن غفلت، کاہلی اور بے مقصد مصروفیات کا شکار ہو جائے تو معاشرہ آہستہ آہستہ فکری زوال کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ علم انسان کی سب سے بڑی طاقت ہے اور کتاب اس طاقت کو محفوظ رکھنے کا سب سے معتبر ذریعہ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ہر مہذب قوم نے کتاب کو اپنی تہذیب، تاریخ اور شعور کی بنیاد سمجھا ہے۔
اگر ہم انسانی تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ علم کی حفاظت کے لیے انسان نے ہر دور میں مختلف ذرائع اختیار کیے۔ ابتدا میں پتھروں پر نقوش کندہ کیے گئے، پھر درختوں کی چھال، چمڑے اور کپڑوں پر تحریریں لکھی گئیں۔ وقت کے ساتھ یہی کوشش کتاب کی صورت میں سامنے آئی۔ کتاب صرف چند صفحات کا مجموعہ نہیں بلکہ صدیوں کے تجربات، مشاہدات، احساسات اور انسانی فکر کا نچوڑ ہوتی ہے۔ یہی کتابیں قوموں کی رہنمائی کرتی ہیں اور نسلوں کے درمیان شعور کا رشتہ قائم رکھتی ہیں۔
بدقسمتی سے جدید دور میں انسان کتاب سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ آج کا انسان مطالعے سے زیادہ اسکرینوں میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔ موبائل فون، سوشل میڈیا اور مختصر ویڈیوز نے انسان کی توجہ اور سوچ دونوں کو محدود کر دیا ہے۔ لوگ گھنٹوں ڈیجیٹل دنیا میں وقت گزار دیتے ہیں، لیکن چند صفحات کسی کتاب کے پڑھنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتے۔ معلومات تک رسائی ضرور آسان ہوئی ہے، مگر علم کی گہرائی کم ہوتی جا رہی ہے۔ آج انسان بہت کچھ دیکھتا اور سنتا ہے، لیکن کم سمجھتا اور کم محسوس کرتا ہے۔
کتاب کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ وہ انسان کو غور و فکر کی عادت دیتی ہے۔ مطالعہ ذہن کو وسعت بخشتا ہے، الفاظ میں پختگی پیدا کرتا ہے اور انسان کے اندر برداشت، شعور اور تخلیقی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ اس کے برعکس، سطحی معلومات انسان کو وقتی طور پر مصروف تو رکھتی ہیں، مگر اس کی فکری تربیت نہیں کرتیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی نئی نسل معلومات کے انبار کے باوجود ذہنی انتشار، بے صبری اور فکری کمزوری کا شکار نظر آتی ہے۔
معاشرے میں کتاب سے دوری کے اثرات نہایت خطرناک ہیں۔ جب مطالعے کی عادت ختم ہونے لگتی ہے تو دلیل کی جگہ جذبات، تحقیق کی جگہ افواہیں اور شعور کی جگہ اندھی تقلید جنم لینے لگتی ہے۔ لائبریریاں ویران ہو جاتی ہیں، علمی محفلیں ختم ہونے لگتی ہیں اور قوم آہستہ آہستہ فکری بانجھ پن کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو کتاب سے دور ہو جائے، وہ ترقی کی دوڑ میں زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دوبارہ کتاب سے اپنا تعلق مضبوط کریں۔ گھروں میں مطالعے کا ماحول پیدا کیا جائے، بچوں کو کتابوں کا تحفہ دیا جائے اور تعلیمی اداروں میں مطالعے کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے۔ ٹیکنالوجی یقیناً وقت کی ضرورت ہے، لیکن اسے کتاب کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔ کتاب انسان کی وہ خاموش دوست ہے جو ہر دور میں انسان کو روشنی، شعور اور سچائی کا راستہ دکھاتی ہے۔
اگر ہم واقعی ایک باشعور، مہذب اور ترقی یافتہ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں کتاب کی طرف واپس لوٹنا ہوگا؛ کیونکہ علم ہی وہ روشنی ہے جو انسان کو اندھیروں سے نکال کر کامیابی، فکری آزادی اور روشن مستقبل کی طرف لے جاتی ہے۔
Comments
Post a Comment