افسانہ: پارسائی پروموشن اسکیم - از ڈاکٹر نفیس فاطمہ اے ایچ ۔ شیموگہ۔
افسانہ: پارسائی پروموشن اسکیم
از ڈاکٹر نفیس فاطمہ اے ایچ ۔ شیموگہ۔
میں نے زندگی میں بہت سی اسکیمیں دیکھی ہیں—
سیل، ڈسکاؤنٹ، ایک کے ساتھ ایک فری…
مگر سب سے کامیاب اسکیم جو میں نے دیکھی، وہ تھی—
"پارسائی پروموشن اسکیم"۔
اور اس کی برانڈ ایمبیسیڈر تھی۔فسانہ۔
"ہم بہت شریف ہیں۔"
وہ ایسے کہتی تھی جیسے کسی اشتہار میں بول رہی ہو۔
آواز میں اتنا یقین کہ اگر کوئی نیا ملازم آ جائے تو فوراً ایمان لے آئے۔
صنم فوراً پس منظر موسیقی بن جاتی—
"ہاں بھئی، آج کل کہاں ایسی لڑکیاں!"
میں اکثر سوچتی—
اگر شرافت واقعی اتنی نایاب ہے…
تو یہ دونوں اتنی آسانی سے کہاں سے لے آئیں؟
دفتر میں کام کم اور کردار زیادہ تھے۔
اور ہر کردار اپنی اپنی فلم کا ہیرو تھا۔
حمزہ بھی ایک کردار تھا—
خاموش، سنجیدہ اور اتنا بےخبر کہ اگر اس کے سامنے اس کی عقل نیلام ہو رہی ہو تو شاید وہ بولی بھی نہ لگائے۔
میں نے ایک دن پوچھا—
"آپ ان کے ساتھ کیوں رہتے ہیں؟"
وہ بولا—
"کیونکہ مجھے لگتا ہے… یہ مجھے اہم سمجھتی ہیں۔"
میں نے دل میں کہا—
"ہاں، مچھلی کو بھی کانٹا بہت اہم لگتا ہے۔"
پھر ایک دن دفتر میں "بریکنگ نیوز" آئی—
"فسانہ پہلے بھی ایک جگہ سے نکالی جا چکی ہے!"
میں نے سوچا—
چلو، پرانی قسط بھی مل گئی۔
کہانی میں ایک ندیم تھا، کچھ رشتے تھے اور بہت سی وضاحتیں تھیں—
جو اتنی زیادہ تھیں کہ سچ کہیں گم ہو گیا تھا۔
میں نے فسانہ کو دیکھا—
وہ ویسے ہی بیٹھی تھی، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
"لوگ جلتے ہیں ہم سے۔"
اس نے اعلان کیا۔
میں نے دل میں کہا—
"ہاں، سچ بھی اکثر جھوٹ سے جل جاتا ہے۔"
پھر یاسر آیا—
نیا شکار… معاف کیجیے، نیا کولیگ۔
فسانہ کی آواز فوراً "سافٹ ویئر اپڈیٹ" ہو گئی—
نرمی، معصومیت اور تھوڑی سی اداسی شامل۔
"آپ بہت مختلف ہیں…"
یاسر نے سوچا ہوگا—
"ہاں، میں واقعی بدقسمت ہوں۔"
صنم نے ماحول بنایا—
"آپ جیسے لوگ اب کم رہ گئے ہیں!"
میں نے ایک دن یاسر سے کہا—
"آپ کو شک نہیں ہوتا؟"
وہ بولا—
"ہوتا ہے… مگر توجہ نہیں دیتا۔"
میں نے کہا—
"کیوں؟"
وہ بولا—
"کیونکہ شک سچ تک لے جاتا ہے… اور سچ تکلیف دیتا ہے۔"
میں نے سر ہلا دیا—
یہ بندہ خود اپنی قبر کھود رہا تھا… بڑی مہارت سے۔
پھر کبیر آیا—
وہ ان لوگوں میں سے تھا جو ہر جگہ موجود ہوتے ہیں،
خاص طور پر وہاں جہاں نہیں ہونا چاہیے۔
"آپ بہت خاص ہیں۔"
وہ فسانہ سے کہتا۔
میں نے ایک دن پوچھا—
"آپ کی بیٹی کیسی ہے؟"
وہ بولا—
"ٹھیک ہے۔"
میں نے کہا—
"خدا کرے وہ بھی کسی کبیر سے نہ ملے۔"
وہ ہنسا…
اور میں سمجھ گئی—بات اس کے سر کے اوپر سے گزر گئی ہے۔
اور پھر…
وہ سین آیا، جس کے لیے پوری فلم بنائی گئی تھی۔
ایک عورت دفتر میں داخل ہوئی۔
سادہ کپڑے، سیدھی چال…
اور آنکھوں میں وہ سکون، جو صرف سچ کے پاس ہوتا ہے۔
وہ سیدھا فسانہ کے پاس گئی—
"کیسی ہو؟"
فسانہ کے چہرے کا میک اپ پہلی بار اندر سے اتر گیا۔
"آپ… یہاں؟"
عورت نے بچے کا ہاتھ آگے کیا—
"اسے پہچانتی ہو؟"
فسانہ پیچھے ہٹی—
"یہ میرا نہیں!"
میں نے دل میں کہا—
"واہ! پارسائی اب ڈی این اے ٹیسٹ سے بھی انکاری ہے۔"
عورت ہنسی—
"ہاں، یہی سکھایا تھا نا؟
کہ سچ کو رشتہ دار بنا دو… اور جھوٹ کو اپنا۔"
کمرہ خاموش تھا—
ایسی خاموشی جو تماشہ ختم ہونے پر آتی ہے۔
حمزہ نے پہلی بار سیدھا بیٹھنا سیکھا۔
یاسر نے پہلی بار آنکھیں کھولیں۔
کبیر نے پہلی بار نظریں جھکائیں۔
اور فسانہ؟
وہ پہلی بار…
خاموش تھی۔
اگلے دن دفتر کھلا—
سب کچھ ویسا ہی تھا۔
کرسی، میز، فائلیں…
اور کردار بھی۔
فرق صرف یہ تھا—
اب کوئی تالیاں نہیں بجا رہا تھا۔
فسانہ اب بھی آتی تھی—
مگر اس کی آواز میں وہ اشتہار والا یقین نہیں تھا۔
صنم اب بھی ساتھ تھی—
مگر اب وہ پس منظر موسیقی نہیں، بیک گراؤنڈ نوائز لگتی تھی۔
میں نے اس دن اپنی ڈائری میں لکھا—
پارسائی کوئی پراڈکٹ نہیں
جو بیچی جائے۔
اور جو لوگ اسے بیچنے نکلتے ہیں…
وہ سب سے پہلے خود بِک جاتے ہیں۔
اور سب سے دلچسپ بات؟
کچھ دن بعد…
دفتر میں ایک نئی لڑکی آئی۔
فسانہ اس کے پاس گئی—
مسکرائی اور کہا—
"ہم بہت شریف خاندان سے ہیں…"
میں ہنس پڑی۔
کیونکہ میں جانتی تھی—
اسکیم دوبارہ لانچ ہو چکی ہے۔
Comments
Post a Comment