آزاد نظم۔ - " یومِ مزدور " از قلم : رہبر تماپوری۔
آزاد نظم۔ -
" یومِ مزدور "
از قلم : رہبر تماپوری۔
سورج کی آنکھ کھلنے سے ذرا پہلے
جب سارا شہر
نیند کی آغوش میں ہوتا ہے
وہ اپنی ادھوری خواہشوں کو
ایک بوسیدہ چادر میں لپیٹ کر
رزق کے تعاقب میں نکل پڑتا ہے
وہی تو مزدور ہے!
اس کے کھردرے ہاتھوں کی لکیریں
کسی ستارہ شناس کی محتاج نہیں
وہ تو اپنے خون کی حدت سے
بخت کے بند دروازوں پر
دستک دینے کا ہنر جانتا ہے۔
وہ جب سنگِ گراں کا سینہ چاک کرتا ہے
تو صرف مٹی اور پتھر جدا نہیں ہوتے
بلکہ تہذیب کے نئے راستے نکلتے ہیں
وہ جب شہر کے ماتھے پر
ایوان سجاتا ہے
تو دراصل وہ اپنی
تپتی دوپہروں کا سایہ بان دوسروں کے نام کرتا ہے۔
عجیب ہے اس کی خودداری
وہ کچے گھر کی چھت تپتی دھوپ میں چھوڑ کر
محلوں کی ٹھنڈی دیواروں میں رنگ بھرتا ہے
اس کی خاموشی میں شکست نہیں
ایک بلند آہنگِ عزم چھپا ہے
وہ لفظوں سے نہیں
تھکن سے گفتگو کرتا ہے۔
یومِ مزدور محض ایک تقویمی دن نہیں
یہ اعتراف ہے اس مقدس پسینے کا
جو زمین کی بانجھ کوکھ میں
زندگی بوتا ہے
یہ جشن ہے ان تھکے ہوئے قدموں کا
جو منزلوں کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔
آؤ کہ آج اس کے جذبوں کو معتبر مانیں
کہ جس کے دم سے یہ کائنات رواں ہے
وہی ہے جو اپنے بازوؤں کی قوت سے
آسمان کے غرور کو زمین کا بچھونا بنا دیتاہے.
Comments
Post a Comment