اور شام مسکرائی۔ - ازقلم : مسرورتمنا۔
اور شام مسکرائی۔ -
ازقلم : مسرورتمنا۔
سارہ نے چہرے سے نقاب اٹھایا
دور تک بس سمندر ہی سمندر
آج وہ کھلی فضاں میں خود کو آذاد محسوس کررہی تھی
سمندر کی اٹھتی لہریں اسے
خوش آمدید کہ رہی تھیں
بںنگال خاص کر دیگھا
اسے بے حد پسند تھا
کیش پور میں رہنے والی سارہ سیدھی سادی بھولی معصوم تھی پورا محلہ دکھ سکھ میں ساتھ رہتا کملاچاچی طاہرہ پھوپھی سب اسے چاھتے اسکی سوتیلی ماں کو بہت برا لگتا
اس نے سارہ کا سودا کردیا
سارہ میں تمھیں سہارا دونگا
اسکا دوست
اجے اسے ممبئ لے آیا
وہ اسے چاھتا تھا انکے بیچ دھرم کی دیوار تھی مگر اسے خریدنے والے
صابر نے اسے دیکھا تو پہچان لیا وہ سارہ کو تلاش کر رہا تھا
اس نے اجے کو گولی ماردی اور سارہ کو کوٹھے پر بٹھا دیا
سارہ تو برباد ہوگئ
بہت تڑپی روی اسکا قصور کیا تھا وہ تو ایک اچھی ذندگی گذارنا چاھتی تھی بیوی بنکر ماں بنکر مگر سوتیلی ماں نے اسکے سارے خواب نوچ ڈالے
آرمانوں کا خون کر ڈالا اور
دہکتی آگ میں اسے جھونک دیا
بس وہ ایک پھڑپھڑاتی چڑیا تھی جو قید تھی اسکے انسو رنگ لاےصابر کو اسکے برے کرم کاپھل مل گیا اسے پھانسی ہوگئ اور سارہ اسکے چنگل سے آذاد ہوکر بنگال واپس آی وہ سمندر کے کنارے بیٹھی ابھی سوچ ہی رہی تھی کہاں جاے
کیا کرے تبھی کسی بنگالی لڑکی کی چینخ سن کر وہ چونک پڑی
تمہی آمار کیو نائ
تم میرے کوی نہیں
دھوکہ دیا مجھے
جھوٹی محبت کا ناٹک کیا سنیل
شیلا وہ ھنسامیں نے ٹھیک کیا ارے تم جیسی لڑکی کو قابو کرنا میرا کام ہے دھندا ہے تجھ سے اب میرا
دل بھر گیا تجھے بیچ کر بھاگ جاونگا کیا کرے گی تو
کسی کو منھ دکھانے کے لایق بھی نہیں رہی گاوں جاے گی
مگر جانے کون دے گا میں تیرے کو ایڑا دکھتا کیا رے
میں تیرا خون کردونگی
اچھا وہ ھنسا تبھی سارہ آگے بڑھی اور اسکی پٹائ کرنے لگی
بھیڑ جمع ہوچکی تھی
سارہ نے پولیش کو کال کیا تھا اور سنیل کو جیل ہوگی
شیلا رو رہی تھی
اب میں کہاں جاوں ماں بابا کو
کیا کہونگی
دیکھو شیلا تم ابھی چھوٹی ہو
چلو میں تمہیں گاوں چھوڑ آوں
کونسا گاوں ہے
کاتھی وہ اب بھی رو رہی تھی
ایک بات یاد رکھنا دنیا میں ماں بابا سے بڑھ کر کوی نہیں ہوتا
........
سارہ نے بہت مشکل سے اسکے پریوار کو منایا شیلا بولی دیدی
تم اب کہاں جاوگی اپنی
ماں کے پاس
نہیں میرا سنسار میں کوی نہیں
ایسا مت کہو شیلا کی ماں نے اسے گلے سے لگایا تم آج سے میری بڑی بیٹی ہو تم نے میری بچی کی ذندگی تباہ ہونے سے بچای اسکا جیون سکھی کیا ہم
اچھا لڑکا دیکھ کر تمہارا شادی دیگا یہاں پر ایک لڑکا بہت اچھا
ہے رمضان نام ہے فس کا بزنس کرتا ہے سارہ سن کر مسکرادی
تو شیلا بھی ھنس دی
گھر میں بہت دن کا خوشی آیا ہے شیلا کی ماں آنکھیں پونچھ کر مسکرا ئی
Comments
Post a Comment