باشعور والدین اور ہماری ذمہ داریاں۔۔ از قلم: عثمان احمد (مدرس، بلدیہ عمرکھیڑ، ضلع ایوت محل مل)
باشعور والدین اور ہماری ذمہ داریاں۔
از قلم: عثمان احمد (مدرس، بلدیہ عمرکھیڑ، ضلع ایوت محل مل)
تمہید:
بچے کسی بھی قوم کا مستقبل اور والدین کے لیے زندگی کا سب سے انمول سرمایہ ہوتے ہیں۔ جب ایک بچہ اسکول یا کالج کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے، تو وہ صرف ایک عمارت میں داخل نہیں ہوتا بلکہ اپنی عملی زندگی اور مستقبل کی تعمیر کا آغاز کرتا ہے۔ اس نازک موڑ پر والدین کا کردار محض فیس ادا کرنے یا کتابیں خرید کر دینے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ان کی حقیقی ذمہ داری شروع ہوتی ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں سر شاہد راشد (سیکریٹری، ہیومن ویلفیئر ایجوکیشن سوسائٹی، وڑود) کے پیش کردہ 10 اہم اور سنہری نکات کی روشنی میں والدین کی ذمہ داریوں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے، تاکہ ہم اپنے بچوں کو ایک کامیاب اور باشعور انسان بنا سکیں۔
1۔ نظم و ضبط کی اہمیت (Discipline)
تعلیم کا پہلا اور بنیادی مقصد انسان میں نظم و ضبط پیدا کرنا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بیٹے یا بیٹی میں وقت کی پابندی اور اصولوں کی پیروی کی عادت ڈالیں، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ نظم و ضبط ہی انسان کو عظمت کی بلندیوں تک پہنچاتا ہے۔ بے راہ روی اور بے نظمی باصلاحیت بچوں کو بھی ناکام بنا دیتی ہے۔
2۔ پڑھائی سے متعلق سنجیدگی
بچے کے دل و دماغ میں یہ بات بٹھانا ضروری ہے کہ پڑھائی کوئی بوجھ یا وقتی مشغلہ نہیں، بلکہ زندگی کا سب سے سنجیدہ اور اہم کام ہے۔ والدین کو گھر کے ماحول کو ایسا بنانا چاہیے جہاں بچہ یکسوئی اور سنجیدگی کے ساتھ اپنی توجہ تعلیم پر مرکوز کر سکے۔
3۔ فرمانبرداری اور اچھے اخلاق
علم بغیر ادب کے ادھورا ہے۔ والدین کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو فرمانبرداری، بڑوں کا احترام، اساتذہ کا ادب اور اچھے اخلاق سے روشناس کرائیں۔ ایک مہذب اور بااخلاق طالب علم نہ صرف اسکول بلکہ معاشرے کا نام روشن کرتا ہے۔
4۔ اسکول میں روزانہ حاضری
تعلیمی تسلسل کامیابی کی کلید ہے۔ بچوں کو روزانہ اسکول بھیجنا انتہائی ضروری ہے۔ بلاوجہ کی چھٹیاں بچے کو پڑھائی میں پیچھے دھکیل دیتی ہیں اور اس کا دل تعلیمی سرگرمیوں سے اچٹ جاتا ہے۔ پابندیِ وقت اور روزانہ کی حاضری کو معمول بنائیں۔
5۔ والدین کی ذاتی توجہ
صرف اسکول بھیج دینا کافی نہیں، بلکہ والدین کو ذاتی طور پر بچے کی روزمرہ کی پڑھائی کی نگرانی کرنی چاہیے۔ روزانہ یہ دیکھنا کہ اسکول میں کیا پڑھایا گیا، ہوم ورک مکمل ہے یا نہیں، بچے کے اندر یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ اس کے والدین اس کی تعلیم کے لیے فکر مند ہیں۔
6۔ سبھی مضامین پر یکساں توجہ
اکثر بچے کسی ایک مضمون کو پسند کرتے ہیں اور دوسرے (جیسے ریاضی یا سائنس) سے کتراتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ ہر مضمون کی پڑھائی کو یقینی بنائیں۔ بچوں کو شروع ہی سے تمام مضامین (انگلش، میتھس، سائنس، اردو، اسلامیات وغیرہ) کو یکساں وقت اور اہمیت دینے پر آمادہ کریں۔
7۔ موبائل فون کا کنٹرول اور دوری
موجودہ دور کا سب سے بڑا فتنہ اور تعلیمی نقصان کا سبب موبائل کا بے جا استعمال ہے۔ بچوں کو موبائل فون سے دور رکھیں، خاص طور پر پڑھائی کے اوقات میں۔ تکنیکی ضرورت کے علاوہ بچوں کے ہاتھ میں اسمارٹ فون دینا ان کے مستقبل کو اندھیرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
8۔ رہنمائی اور خود اعتمادی (Self-Confidence)
بچے اکثر پڑھائی کے دباؤ کا شکار ہو کر خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں والدین کو ایک سخت گیر نگران کے بجائے ایک رہنما (Guide) کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کی حوصلہ افزائی کریں، ان کے دل سے فیل ہونے یا کم نمبر آنے کا خوف نکالیں اور ان کے اندر یہ خود اعتمادی پیدا کریں کہ "وہ یہ کر سکتے ہیں"۔
9۔ مشکل مضامین کی چھٹیوں میں مشق
اتوار یا دیگر تعطیلات کا وقت صرف کھیل کود میں نہیں گزرنا چاہیے۔ جن مضامین میں بچہ کمزور ہے یا جو اسے مشکل لگتے ہیں، چھٹیوں کے دنوں میں ان کی خصوصی اور خوب مشق (Practice) کروائی جائے تاکہ اس کا خوف دور ہو سکے اور وہ دیگر بچوں کے برابر آ سکے۔
10۔ پورے سال کی منصوبہ بندی (Planning)
کامیابی اتفاقیہ نہیں ملتی، اس کے لیے منصوبہ بندی کرنی پڑتی ہے۔ سال کے آغاز ہی سے پڑھائی کا ایک باقاعدہ ٹائم ٹیبل اور پلان تیار کریں۔ روزانہ کتنے گھنٹے پڑھنا ہے، امتحانات کی تیاری کیسے کرنی ہے، اس پورے سال کا خاکہ پہلے سے تیار ہونا چاہیے تاکہ آخر میں بچے پر بوجھ نہ پڑے۔
حاصلِ کلام
تعلیم و تربیت کا عمل ایک یکطرفہ راستہ نہیں ہے، اس میں اساتذہ کے ساتھ ساتھ والدین کی شراکت داری برابر کی ہوتی ہے۔ اگر والدین ان 10 نکات کو اپنی زندگی اور بچوں کی تربیت کا حصہ بنا لیں، تو یقیناً ہماری نسلیں نہ صرف تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کریں گی، بلکہ اخلاقی اور سماجی اعتبار سے بھی ایک بہترین معاشرے کی تشکیل ممکن ہو سکے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے بچوں کی بہترین تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
یاد رکھیں اولاد دنیا کا بہترین سرمایہ ہے فقط اس کا صحیح استفادہ ہم اپنی ان پر ذاتی توجہ اور اپنا وقت ان کے لیے دے کر قوم و ملت کے ذمہ دار پاسدار بن سکتے ہیں ۔
تو چلیں اس گرمائی تعطیلات کو میں اور آپ اپنے بچوں کے لیے وقف کرتے ہیں ۔ گزشتہ سال میں نے ایسا ہی کیا اور آج جماعت دہم میں میرے بچے کو نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہم سب سے راضی ہو آمین یارب العالمین
Comments
Post a Comment