كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ - تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ - جماعت اسلامی ہند، بیدر کے زیر اہتمام ایک روزہ "خصوصی اجتماع" کا کامیاب انعقاد۔


بیدر ، 11مئ (نامہ نگارمحمد عبدالصمد): جماعت اسلامی ہند، بیدر کے زیر اہتمام کل مورخہ 10 مئی 2026 کو جامع مسجد، بیدر میں ایک اہم "خصوصی اجتماع" منعقد ہوا۔ اس پروگرام کا مرکزی عنوان "كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ" تھا۔ پروگرام کی نظامت جناب خضر انتصار رکن جماعت اسلامی ہند، بیدرنے انجام دی۔پروگرام کا آغاز صبح 10:30 بجے برادر عبدالحکیم رکن ایس آئی او، کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ سب سے پہلے جناب عارف الدین معاون امیر مقامی، جماعت اسلامی ہند بیدر نے افتتاحی کلمات پیش کیے۔ انہوں نے جماعت اسلامی ہند بیدر کی کارکردگی کی تفصیلی رپورٹ پیش کی اور جماعت کے زیرِ نگرانی چلنے والے مختلف شعبوں اور اداروں کا تعارف کرایا۔ جن میں جماعت اسلامی ہند ویمنز ونگ، ایس آئی او (SIO)، جی آئی او (GIO)، سی آئی او (CIO)، سالیڈیرٹی یوتھ موومنٹ (SYM)، بلا سود کارونیہ بینک، فیمی (FEMI) اور (ZCI)زکوٰۃ سینٹر کی خدمات اور سرگرمیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔
مولانا سید امین الحسینی ندوی رکن جماعت، گلبرگہ نے سورہ حج کی آخری آیات پر مبنی فکر انگیز 'درس قرآن' دیا۔ انہوں نے ان آیات کی تشریح کرتے ہوئے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو 'مسلم' کے نام سے موسوم کیا ہے تاکہ وہ لوگوں پر حق کی گواہی دیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنا ہی فلاح کا راستہ ہے انہوں نے ان آیات کی روشنی میں جہاد کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں ویسا ہی جہاد کرنا چاہیے جیسا کہ اس کا حق ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ آج جہاد کے نام کی غلط تشریح کی جا رہی ہے اور اسے غلط معنی پہنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مولانا نے واضح کیا کہ جہاد کے اصل معنی 'جدوجہد' کے ہیں اور ہر شخص اپنے اپنے میدان میں یہ جدوجہد کر رہا ہے۔ دین پر قائم رہنے کے لیے پوری قوت صرف کرنا ہی اصل جہاد ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کی بڑی قدر فرمانے والا ہے۔
جناب محمد آصف الدین رکن شوریٰ جماعت اسلامی ہند، کرناٹک نے سامعین کی سہولت کے پیشِ نظر نہایت آسان اور عام فہم زبان میں خطاب کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام اللہ کا واحد اور پسندیدہ دین ہے جو قیامت تک کے لیے قابلِ قبول ہے اور یہ دین حضور اکرم ﷺ پر قرآن کی شکل میں 23 سال کے عرصے میں نازل ہو کر مکمل ہوا۔ انہوں نے اجتماعیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جماعت صرف اور صرف اقامتِ دین کے لیے بنائی جاتی ہے، مسلکوں اور فرقوں کے لیے جماعت بنانا مناسب نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام کا مزاج ہی اجتماعیت ہے جس کا بہترین نمونہ نماز باجماعت ہے۔ جو جماعت دین کے غلبے کے لیے اٹھی ہو اس کی جگہ کوئی دوسرا ادارہ یا فاؤنڈیشن نہیں لے سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اللہ سے محبت کا اصل تقاضا رسول ﷺ کی اطاعت ہے اور ہمیں اپنے ملک کے عوام تک رسالت کا پیغام عام کرنا ہے۔ جماعت اسلامی ہند پچھلے 75 سالوں سے یہی کام کر رہی ہے اور یہاں تمام فیصلے شورائیت کے اصول پر کیے جاتے ہیں۔
پروگرام کے آخری مرحلے میں جناب محمد معظم امیر مقامی، بیدرنے اپنے اختتامی خطاب میں سامعین کے سامنے چار اہم سوالات رکھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بحیثیت انسان ہمارا مقام 'اشرف المخلوقات' کا ہے اور ہماری حیثیت زمین پر اللہ کے 'خلیفہ' کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارا اصل کام نیکی کا حکم دینا، برائی سے روکنا اور دین کو قائم کرنا ہے۔ انہوں نے جماعت اسلامی ہند کے قیام کے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جماعت امت کو یہی بھولا ہوا سبق یاد دلانے کے لیے قائم کی گئی ہے۔ انہوں نے تمام شرکاء اور رفقاء سے اپیل کی کہ وہ جماعت کو سمجھیں، تحریکِ اسلامی میں شامل ہوں اور صرف اللہ کی رضا اور فلاحِ آخرت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس کے تقاضوں کو پورا کریں ۔ اس کے ساتھ ساتھ نعتِ شریف جی او صدر بشریٰ ایمن نے پیش کی، جبکہ ایک تنظیمی ترانہ ڈاکٹر سراجُ الحسن، ممبر جماعتِ اسلامی ہند بیدر نے پیش کیا۔
اسی کے ساتھ تشکری کلمات محمد صلاح الدین معاون امیرِ مقامی نے نے پیش کیا اور اس خصوصی پروگرام کی رپورٹ کی اطلاع دی۔ اس خصوصی اجتماع میں کثیر تعداد میں مرد و خواتین موجود تھے ۔ اجتماع کا اختتام پر
جناب سید جمیل احمد ہاشمی 
 کی خصوصی دعا پر ہوا۔
  سکریٹری مقامی حافظ سید عتیق اللہ انجینئر بھی اس خصوصی پروگرام میں موجود تھے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔