تین دہائی -ازقلم : مشتاق احمد خان، ناندورہ. ضلع بلڈانہ
تین دہائی -
ازقلم : مشتاق احمد خان، ناندورہ. ضلع بلڈانہ
موبائل
؛ 9021905677
تین دہائی -
کردار، واقعات اور مقامات فرضی ہیں _کسی زندہ شخص یا مقام سے مماثلت محض اتفاقیہ ہوگی _
_____________________
....... آحوا ڈانگ کی خوبصورت پہاڑی کے درمیان بنا عزیزیہ اردو ہائی اسکول کی عمارتیں، بوائز /گرلز کی الگ الگ بلڈنگز، نہایت ہی خوبصورت گارڈن کے ساتھ بنی ہوئی دورسے نظر آرہی تھیں _لڑکے اور لڑکیوں کی بلڈنگز کے درمیان صرف پانچ فٹ کی دیوار کھڑی پہرہ دے رہی ہوتی _آفتاب مرزا کو یہ دیوار، دیوار چین لگتی تھی _
.. وہ ریاضی کا پیریڈ تھا جب اچانک احسان سر نے آفتاب مرزا سے سوال پوچھ لیا _تب آفتاب کو ایسا محسوس ہوا گویا نیند سے کسی نے جھنجھوڑ کر جگایا ہو _پوری کلاس قہقے لگا رہی تھی _کیوں کہ آفتاب مرزا تو کھڑکی سے باہر دوسری طرف گرلزاسکول کے میدان میں تھا جہاں لڑکیوں کی ڈرل کی مشق شروع تھی _آفتاب کی نگاہیں شابی کو ڈھونڈ رہی تھیں _
آج سنیچر، صبح کی اسکول تھی اور وہ بھی سردیوں میں _آفتاب مرزا کو امی نے جگایا :
؛ اٹھو آفتاب! شابی اپنے گھر کے کام وغیرہ کرکے کب سے اسکول کے لیے نکل گئ ہےاور ایک تم ہو، دیر تک جاگتے ہو _فجر کی نماز بھی نہیں پڑھی؛ _
کیونکہ آج شابی سے اس نے وعدہ کیا تھا کہ شابی کو اس کی انگریزی کی ورک بک واپس لوٹا دے گا اور شابی نے کہا تھا کہ اس کی ٹیچر ورک بک چیک کرے گی _وہ یہی سوچ میں گم تھا کہ احسان سر نے آفتاب مرزا سے سوال پوچھ لیا _
آفتاب مرزا اور شابی کے کوارٹر آمنے سامنے تھے _آفتاب کے والد وجاہت مرزا ایک سینئر اکاؤنٹنٹ تھے اور شابی کے والداقبال خان صاحب PWD میں انجینئر تھے _نہایت ہی منکسرالمزاج، خوش مزاج، نمازی شخص تھے _دونوں خاندانوں میں کم وقت میں گہرے مراسم ہوگئے تھے _آفتاب کو والدآحوا ٹرانسفر ہو کر آئے ہوئے تین سال ہی ہوے تھے _
.... آفتاب چھٹی سے چند منٹ پہلے ہی اسکول کے مین گیٹ پر کھڑا تھا_ سامنے سے شابی آرہی تھی شابی... سفید دوپٹہ، کتابیں سینے سے لگاے ہوے، آنکھوں میں عجیب سی چمک _
؛ آفتاب، جلدی چھٹی ہو گئی؟؛ اس نے مسکراکر پوچھا_
وہ مسکراہٹ..... بس وہی لمحہ تھا جب دل نے فیصلہ کر لیا کہ یہ لڑکی میری زندگی ہے_
پھر ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا _کبھی پڑھائی کے لیے اقبال چاچا کے گھر تو کبھی وجاہت مرزا کے گھر_دونوں کو میتھ سمجھایا کرتے تھے_ان دونوں کا دسویں کا سال تھا، بورڈ ایگزام تھے _
شابی اور آفتاب دونوں اکثر ایک ساتھ پڑھنے بیٹھتے تھے _چاچی ان کے لیے کافی کا تھرماس رکھ کر خود ہما ڈائجسٹ لے کر پاس ہی بیٹھ جاتی تھیں _
... شابی باتیں کر تی تو ایسا لگتا پھول جھڑ رہے ہیں _
میں اس کے ایک ایک لفظ پر فدا تھا _
... ایک دن شابی کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں _
؛ ابو کا ٹرانسفر ہو گیا آفتاب..... ہم ممبئی جارہے ہیں _؛
یہ سن کر مانو میرے پیروں کے نیچے زمین نکل گئی _ خط لکھنے کے وعدے، ملنے کی قسمیں، کھای گئیں _
ہمارے یہاں شابی کے گھر والوں کی دعوت کی گئی اور تحفے دیے گئے _
... لیکن وقت اور فاصلوں. نے سب کچھ دھندلا کردیا_
وقت، زندگی کی مصروفیات، ملازمت، بیوی بچے..... وقت کیسے گزرا پتہ ہی نہیں چلا _بالوں میں چاندی، چہرے پر کم وبیش جھریاں، لیکن دل کے کسی گوشے میں شابی ہمیشہ دعاؤں اور نمازوں میں یاد رہتی تھی _
... والدین کی ضد اور ان کی ضعیفی کے آگے میں نے شادی کے لیے ہاں کردی تھی_ _والدین کی پسند کی لڑکی فرحت سے اپنی ازدواجی زندگی گزر رہی تھی _فرحت نہایت ہی منکسرالمزاج، مخلص اور سب کا خیال رکھنے والی لڑکی، اللہ رب العزت نے مجھے شریک حیات کی صورت میں عطا کی تھی_
الحمداللہ میری بیٹی اور بیٹے دونوں کی شادی ہو چکی _
فرحت نے زندگی کے ہر موڑ پر، ہرحال میں مجھے حوصلہ دیا اورساتھ نبھایا _خاص طور پر والدین کی بیماری میں اور ان کے یکے بعد دیگرے اپنے حقیقی مالک کے پاس چلے جانے کے بعد میں بہت زیادہ دل برداشتہ ہو گیا تھا _اللہ رب العزت میرے والدین کی مغفرت فرما اور ان کے درجات بلند فرمائے _آمین یا رب العالمین _
... 2023 آگیا میں 58 سال کا ہو چکا تھا لیکن شابی آج بھی میرے خیالوں میں آباد رہتی، دعاؤں میں رہتی _ٹرانسفر کے چند برسوں تک ہمارے خطوط کے ذریعے امی جان یا والد صاحب، اقبال چاچا سے برابر ایک دوسرے کی خیریت وعافیت دریافت کرلیا کرتے یاعید کے موقع پر ایک دوسرے کو عید کارڈ ضرور بھیجواتے _اسی اثناء میں اقبال چاچا ریٹائرڈ ہو چکے تھے، کہیں اور دوسری جگہ شفٹ ہو گئے تھے _ . کیونکہ میری شادی کا دعوت نامہ پوسٹ کیاتو واپس آچکا تھا _
ایسی مصروف زندگی میں تقریباً 30 سال کیسے گزرے پتہ ہی نہیں چلا _
.... آج کے سوشل میڈیا مجھے فیس بک پر؛ شابی خان؛ نام سے فرینڈ ریکویسٹ آی _ دل زور سے دھڑکا_پروفائل کھولی..... وہی آنکھیں، وہی مسکراہٹ، معصوم چہرہ، بس وقت کی گردتھوڑی جم گئی تھی _
... بات شروع ہوئی، پرانی یادیں تازہ ہو گئیں _شابی نے بتایا کہ اس نے ابھی تک شادی نہیں کی ہے _ایک ٹیچر رہ چکی ہے _ابھی ابھی ریٹائرڈ ہوی ہے اور ایک کامیاب ٹیچر رہ چکی ہے _تعلیمی میدان میں اس کا بہت نام ہے _آج تعلیمی سرگرمیاں اور تعلیمی کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے اس کو، پونہ، ممبئی، دوسرے شہروں میں حکومت کی جانب سے مدعو کیا جاتا ہے _اس کی ایک کتاب بھی چھپ کر منظر عام پر آچکی ہے _یہ سب سن کر مجھے بے انتہا خوشی ہوئی اور مجھے لگا قدرت نے دوسرا موقع دیا ہے _
میں دوڑا دوڑا ممبئی ملنے کے لیے چلا گیا _شابی کے فلیٹ پر 604 نمبر کے فلیٹ کا دروازہ جیسے کھلا، وہی ہنستا مسکراتا ہوا چہرہ، صرف بالوں میں چاندی چمک رہی تھی _
ہم ایک دوسرے کو دیکھ کر دنیا مافیا سے دور نکل چکے تھے کہ اندر سے اقبال چاچا کی آواز نے چونکا دیا؛ آؤ بیٹا اندر آؤ! شابی دروازے َسے ہی واپس کروگی کیا؟؛
... ؛ہاں بابا ہاں!؛ یکدم کرشمہ سے کم نہیں تھا آفتاب کو اسطرح زندہ سامنے کھڑے دیکھنا _
میں نے گھر ہر فرد کے لیے کچھ نہ کچھ تحائف لے گیا تھا _
گڈو، شابی کا بھائی کہاں ہے؟ _پوچھنے پر پتہ چلا کہ وہ الگ رہتا ہے _فلیٹ میں اچھی جاب پر ہے بیوی بچوں کے ساتھ ہفتے میں ایک دن اتوار کے روز ملنے چلا آتا ہے _یہاں چاچا چاچی شابی رہتے ہیں _
ہم دیر تک باتیں کرتے رہے_
بابا بولے؛ شابی، آفتاب کو آرام کی ضرورت ہے، تھکا ہوا ہے؛ _
نہیں نہیں، بالکل بھی نہیں _میں صبح سے کیچن میں اس کے لیے بزی تھی _اب بھائی، مجھے خوب شاپنگ کروانے لے چلو _بہت سارا حساب باقی ہے _؛
.. ؛ہاں ہاں ضرور؛ _ہم لوگ تھوڑا آرام کرنے کے بعد شام میں مارکیٹ گئے _
خوب ساری خریداری کرنے کے بعد ہم آٹو رکشہ سے تنگ سی اندھیری گلی میں سے گزر رہے تھے کہ شابی نے اچانک میرا ہاتھ لے کر اپنے کندھے پر رکھا _ مانو مجھے بجلی کا زوردار جھٹکا لگا _؛ ارے ارے شابی! یہ کیا ہے کیا؟؛
شابی قہقہہ لگاتے ہوئے:؛کہا بدو، تم ویسے کے ویسے ہی رہوگے یار _زمانہ کہاں سے کہاں چلا گیا اور تمہاری ... اسی بات پر مجھے تم پر فخر ہے _؛
.. نہیں شابی خدا کا خوف کرو، _اگر تمہیں یہی سب چاہیے تو میں فرحت سے اجازت لے کر تمہارے گھر مرضی سے نکاح کرسکتا ہوں، _؛
ارے یار... ہم کوئی گناہ نہیں کررہے ہیں _بس تھوڑی سی مستی ہی تو کررہے ہیں... ہم فرشتے نہیں ہیں آفتاب، انسان ہے _اللہ رب العزت معاف کردیں گے_؛
؛ نہیں شابی، تم نے بہت نام کمایا، بہت عزت کمائی ہے _اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو _ بھائی سے کہو، میں بھی کوشش کرتا ہوں، شادی کرلو شابی.. ؛
چھوڑو یار، واعظ دینے بیٹھ گئے ہو _اب مجھے فون پر، واٹس آپ پر ،باتیں کرتے رہنا _؛
.. اس روز شام میں ہی آفتاب کو ناگپور کے لیے نکلنا تھا _وہ سب سے مل کر ناگپور چلا آیا _
آفتاب اور شابی کی تقریباً ہر روز فون پر باتیں ہوتی رہتی _
ایک دن شابی ویڈیو کال کی؛ یہ کپڑے کیسے ہیں؟ آپ بتائیں _مجھے یہ ڈریس بہت پسند ہے، پھر مجھےپونہ جانا ہے _؛
وغیرہ _اور ایک روز تو حد پار کر دی _شابی نے فون کیا _رات میں بھابھی کیسی ہے؟؛
وغیرہ میں نے سادگی سے کہہ دیا کہ؛ بیٹی کے گھر گئے ہیں، بیٹا بہو، اور فرحت، اکیلا ہوں _؛ پھر کیا تھا.. اس نے ویڈیو کال پر وہ کیا جس کا یہاں ذکر مناسب نہیں _؛
.. اس کے بعد وہی والد کی طبیعت خراب ہے، اماں، کی دوائی، میری طبیعت بہت خراب ہی میری دوائی، وغیرہ وجوہات بتا کر پیسے منگواتی رہتی _Amazon سے یہ بھیج دو، وہ بھیج دو، میں بھی بھیجتا گیا _
فرحت بہت معصوم ہے _اس نے کبھی یہ محسوس نہیں کیاکہ ہم اتنی دیر کیوں اور کیا باتیں کرتے ہیں _ایک آدھ بار شابی فرحت سے بھی بات کر لیتی تھی _
آہستہ آہستہ شابی کی فرمائشیں بڑھنے لگی تھی_اورپیسوں کی بھی ڈیمانڈ بڑھنے لگی تھی، آفتاب میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے پیسے بھیج دیں،وغیرہ
ایک دن میرے بچپن کے دوست سلیم سے میں نے ذکر کیا _اتفاقاً سلیم بھی ممبئی میں ٹیچر تھا اور شابی کو اچھی طرح جانتا ہے _اور شابی کی بلڈنگ کے بغل میں اس کی بلڈنگ ہے جہاں اس کا فلیٹ ہے _
.. سلیم نے میری کہانی سنی تو مجھ سے کہنے لگا؛ آفتاب ہوش میں آؤ! شابی کی ڈیمانڈ بہت بڑھ گئی ہے، فرمائشیں بھی _
مجھے تو لگتا ہے کہ آفتاب تم ہنی ٹرپ کا شکار بن گئے ہو، یہ محبت نہیں جال ہے...
میں ٹرپ اٹھا:؛ نہیں سلیم، نہیں! بالکل بھی نہیں، وہ میری شابی ہے میری شابی.. ؛
؛ایک کام کرو آفتاب سلیم نے کہا،_؛ اس مرتبہ پیسے مانگے تو کہہ دینا ملاقات کرکے خود دوں گا _دیکھنا کیا جواب دیتی ہے_؛
میں نے وہی کیا جو سلیم نے کہاتھَا_
شابی کا مسیج آیا کہ اسے پونہ مٹینگ میں یا دوسرے کام سے جانا ہے تو پیسے بھیجو _میں نے مسیج کیا کہ میں بھی پونہ آرہا ہوں، وہی خود مل کر پیسے دے دوں گا _
... اس دن کے بعد سے شابی کا نمبر بند_مجھےبلاک کر دیا شابی نے _
فیس بک آئی ڈی ڈی ایکٹیو یٹ_
شابی.. میری شابی... ہوا میں غائب _
آج میں 58 سال کا آفتاب مرزا تنہا بیٹھا سوچتا ہوں کہ تین دہائی گزر گئی اور وہ معصوم شابی کہا گی؟ یا شاید وہ کبھی تھی ہی نہیں... صرف میرا وہم تھی؟
سلیم سچ کہتا تھا میں؛ ہنی ٹرپ؛ کا شکار ہو گیا تھا _ کسی نے 30 سال پرانے عشق کے نام پر میرے جذبات، میری تنہائی اور میری جمع پونجی سب کچھ لوٹ لی_
کاش__کاش... 1984 میں ہی سب کچھ ختم ہو جاتا _کم از کم یادیں تو پاک رہتیں _
........ ختم شد...........
.. یہ افسانہ موجودہ دور کے ایک سماجی مسئلے (ہنی ٹرپ) اور سوشل میڈیا کے فریب کے بارے میں ہے _میں نےکوشش کی ہے اس کہانی کے ذریعے خصوصاً بزرگوں کو اس دھوکے سے آگاہ کیا جائے _
Comments
Post a Comment