مرحوم انور کھوت - شہر بھیونڈی کی قدیم تہذیبی و ثقافتی روایات کا امین۔۔ بقلم : ڈاکٹر خلیل تماندار، انٹاریو ، کینیڈا۔
مرحوم انور کھوت -
شہر بھیونڈی کی قدیم تہذیبی و ثقافتی روایات کا امین۔
بقلم : ڈاکٹر خلیل تماندار
----( انٹاریو ، کینیڈا )------
____________________
بر اعظم ایشاء کے معروف صنعتی شہرِ بھیونڈی مہاراشٹر ، ہند کی گزشتہ چند صدیوں کی قدیم تہذیبی ثقافتی اور سماجی روایات ، کو نہایت سلیقے اور دیانت داری کے ساتھ ضبط تحریر میں لانے والے اور گراں قدر تصنیف “گزشتہ بھیونڈی” کے مصنف انور کھوت اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔
09 مئی 2026ء بمطابق 22 ذی القعدہ 1447 ھ کو تقریباً تراسی برس کی عمرِ طبعی میں داعیِ ء اجل کی صدا پر لبیک کہتے ہوئے وہ اس دنیائے دنی کو داغِ مفارقت دے گئے۔
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
آپ کی تدفین شہر بھیونڈی کے بھسار محلہ قبرستان میں سینکڑوں سوگواران کی موجودگی میں عمل میں آئی۔ ان کی رحلت کی خبر نے نہ صرف اہالیان بھیونڈی بلکہ قرب و جوار کے اربابِ علم و دانش کو بھی رنج و ملال سے نہ صرف سوگوار کر دیا بلکہ ہر صاحبِ ذوق نے اس سانحے کو گویا اپنا ذاتی خسارہ تک محسوس کیا۔ عمائدین شہر بھیونڈی کے ان غمناک جذب دروں کا پس منظر یہی ہے کہ اخلاص و طبعی شرافت کے پیکر مرحوم انور کھوت نے انتہائی عرق ریزی اور برسہا برس کی تحقیقات پر مبنی شہر بھیونڈی کی نسبت اپنی ایک تصنیف " گزشتہ بھیونڈی " مرتب فرمائی ہے اور آنے والی نسلیں جب بھی اس تاریخی کتاب کی ورق گردانی کریں گی تو لازمی طور پر مرحوم انور کھوت کی محنت شاقہ کو فراموش نہیں کر سکیں گی ، ساتھ ہی ساتھ اس معروف کتاب کو منظر عام پر لانے میں بالخصوص شہر بھیونڈی کی معروف شخصیات میں جناب شفیع محمود میاں مقری ، جناب عبدالملک سلیمان مومن اور جناب بلال علی احمد مومن ، صاحبان کی کاوشیں یقینا" قابل تحسین و ستائش رہی ہیں کہ الحمدللہ ان حضرات نے ناممکن مشن کو اللہ کے فضل و کرم سے منزل مقصود تک پہنچایا
جناب انور کھوت کی مایۂ ناز تصنیف “گزشتہ بھیونڈی” کا ایک ایک لفظ اپنے اندر اپنائیت، خلوص، شرافت اور متانت کی ایسی دل آویز و پر کشش خوشبو سموئے ہوئے ہے جو قاری کو ماضی کے ایک شائستہ اور مہذب عہد میں لے جاتی ہے ، بقول پروفیسر ڈاکٹر یونس اگاسکر " اس کتاب میں شہر بھیونڈی کا ماضی اپنے تاریخی و تہذیبی ، مذہبی و اخلاقی ، تعلیمی و تفریحی اور تجارتی و معاشرتی آثار و احوال کے ساتھ زندہ و متحرک نظر آتا ہے " یہ واقعہ ہے کہ مرحوم انور کھوت اُن خوش نصیب اصحاب میں سے تھے جنہیں ہندوستان کے ممتاز ادبی حلقوں کی ایک قد آور شخصیت معروف استاد پروفیسر ڈاکٹر یونس اگاسکر کی معیت، ہم عصری اور بچپن کی رفاقت نصیب ہوئی تھی ۔
ان کے مزاج و طبیعت میں غیر معمولی سنجیدگی، گفتگو میں شائستگی اور برتاؤ میں جو متانت پائی جاتی تھی وہ اس پُرفتن دور میں روز بہ روز نایاب ہوتی جا رہی ہے۔ موصوف اُن صالح نفوسِ میں سے ایک تھے جن کی خموشی بھی زبانِ حال سے گویا بہت کچھ کہہ جایا کرتی ہے ، اور جن کی کسی بھی مجلس میں شرکت اس محفل کے لیے ایک سندِ اعتبار سمجھی جاتی رہی ہے
راقم الحروف کو کینیڈا سے مرحوم انور کھوت سے ٹیلیفون پر گفت و شنید کی بھی بارہا سعادت حاصل رہی۔ ضعف و علالت کے باوجود وہ ہمیشہ انتہائی خلوص کے ساتھ اپنے قیمتی مشوروں سے بھی نوازا کرتے تھے۔ ان کی گفتگو میں ایک بزرگانہ شفقت ، حکمت اور ایسا اخلاقی وقار محسوس ہوتا تھا جو مدتوں قلب و ذہن پر نقش رہے گا۔
مرحوم انور کھوت کے بچپن کے ساتھی اور سابق پروفیسر شعبہ ءاردو ادب ممبئی یونیورسٹی ڈاکٹر یونس اگاسکر نے فیس بک پر اپنے تعزیتی جذبات کا کچھ اس طرح سے اظہار فرمایا ہے
" انا للہ وانا الیہ راجعون ، نہایت افسوس ناک خبر ، لڑکپن کے دوست کے گزر جانے کی خبر نے دل کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا، خداوند کریم مرحوم کی مغفرت فرمائےاور انھیں جنت الفردوس سے نوازے ( آمین ) "
لندن ( یو کے ) سے استاذ گرامی حافظ سعید احمد صاحب دامت برکاتہم ( سابق امام و خطیب ، جامع مسجد ، سوداگر محلہ بھیونڈی ) مرحوم انور کھوت سے دیرینہ روابط کی بناءپر اپنے جذبات کا یوں اظہار فرماتے ہیں
" میرے ہمدم، میرے دوست
وائےافسوس انور کھوت
للہ ما أعطى وله ما أخذ وكل شيء عنده بأجل مسمى ! "
بیشک ، اللہ نے جو دیا وہ بھی اُسی کا تھا، اور جو لے لیا وہ بھی اُسی کا ہے، اور ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے۔
حافظ سعید احمد صاحب نے مزید دعائیہ کلمات ادا کئے اور کہا :
الله يرحمه ويغفر له ويصبر اهله ويسكنه فسيح جناته
يارب العالمين!
ترجمہ : اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، اور انہیں اپنی وسیع جنتوں میں جگہ دے۔
اے تمام جہانوں کے پروردگار
آپ نے مزید فرمایا :
"غالبا" 1965 اور 1970 کا درمیانی زمانہ رہا ہوگا جب بھیونڈی میں منڈئی سے قریب پتھر والی پرائمری اسکول کے گراؤنڈ پر انور کھوت صاحب کی شادی کی تقریب منعقد کی گئی تھی اور حسن اتفاق کہ مجھے ہی انور کھوت صاحب کو نکاح پڑھانے کا شرف حاصل ہوا تھا"
ہم سب دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلی مقام عطا فرمائے اور ان کے علم و فضل کے بکھرے موتیوں سے قوم و ملت کو مدتوں فیض یاب ہونے کی سعادت بھی بخشے
(آمین یا رب العالمین)
دعاگو : ڈاکٹر خلیل تماندار
سابق فزیشن ، حرم مکی شریف ، مکہ مکرمہ
مقیم : انٹاریو ، کینیڈا
email : khaliltumandar123@gmail.com
Comments
Post a Comment