ریاست تمل ناڈو کی نئی وجے سرکار - حکومت نامی تلوار کی دھار پر کتنی دیر اپنی سج دھج کے ساتھ ٹکی ر ہے گ۔ ازقلم : اسانغنی مشتاق رفیقی، وانم باڑی۔


ریاست تمل ناڈو کی نئی وجے سرکار - 
حکومت نامی تلوار کی دھار پر کتنی دیر اپنی سج دھج کے ساتھ ٹکی ر ہے گ۔ 
ازقلم : اسانغنی مشتاق رفیقی، وانم باڑی۔

آج کل بھارت کی انتخابی سیاست میں ایک نئی لہر دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ریاستی سطح پر کچھ سالوں سے جہاں جہاں بھی انتخابات ہوتے ہیں اگر وہاں حکومت بی جے پی کی ہے تو اینٹی انکمبنسی یعنی حکومت مخالف جذبات نہ کے برابر ہوتی ہے اور بی جے پی آسانی سے انتخابات جیت جاتی ہے، لیکن جہاں حکومت حزب اختلاف کی ہوتی ہےتو وہاں جیت یا تو بی جے پی کی ہوتی ہے یا  دوسرے حزب مخاف پارٹی کی، حکومت پر براجمان پارٹی کبھی حکومت میں واپسی نہیں کرتی سوائے بی جے پی  اور اس کے اتحادی پارٹیوں کے۔ حالیہ ہوئے ریاستی انتخابات میں تین جگہ بی جے پی  کی جیت ہوئی۔ آسام میں اس کی بھر پور انداز میں واپسی ہوئی، پانڈیچری میں اس کی اور اس کے اتحادیوں کی بھی شاندار واپسی ہوئی ، بنگال میں ٹی ایم سی پر اس نے جیت حاصل کر کے ریاست کی تاریخ میں پہلی مرتبہ حکومت پر قابض ہوئی، کیرلا اور تمل ناڈو میں چونکہ اس کی موجودگی نہ کے برابر ہے اس وجہ سے یہاں حکومت مخالف جذبات کے نام پر حکومت پر براجمان پارٹیاں ہار گئیں اور حزب اختلاف نے حکومت بنانے میں کامیابی حاصل کر لی۔ایسا کیوں ہو رہا ہے، بی جے پی کی اس مسلسل جیت کی وجہ کیا ہے کیوں اس کی حکومتوں کو اینٹی انکمبنسی کا سامنا  نہیں کرنا پڑتا یہ ایک حیرت انگیز صورت حال ہے اور بحث کا موضوع ہوسکتی ہے مگر زمینی حقیقت یہی ہے اور یہ بات واضح ہوتی جارہی ہے کہ بھارت میں انتخابی سیاست کا رخ تبدیل ہوچکا ہے یا کردیا گیا ہے۔ اب یہاں بغیر جدوجہد اور جوابدہی کے احساس کے بھی اچانک غیر متوقع بڑی بڑی تبدیلیاں لائی جاسکتی ہیں اور اسے عوامی رنگ دے کر عین جمہوریت ثابت کیا جاسکتا ہے۔

ریاست تمل ناڈو کے حالیہ اسمبلی انتخابات ریاست کی سیاسی انتخابی تاریخ کے سب سے منفرد اور حیرت انگیز  ثابت ہوٸے ہیں ۔ انتخابات کے دنگل میں دو مہارتھیوں، ڈی ایم کے اتحاد اوراے آئی اے ڈی ایم کے اتحاد کے علاوہ تمل فلموں کے کامیاب اور غیر معمولی شہرت کے حامل اداکار جوزف وجے کی نوزائیدہ پارٹی ٹی وی کے بھی خم ٹھونک کر اتری۔ انتخابات کے آخری لمحوں تک بظاہر حکومت مخالف جذبات کی غیر موجودگی کی وجہ سے ایم کے اسٹالن اور ان کی پارٹی ڈی ایم کے حکومت کی واپسی کو ہی ممکن بتایا گیا۔ ریاست کے مقامی اخبارات، ٹی وی نیوز چینلس اور اوپنین پول وغیرہ کا غالب رجحان بھی اسی جانب رہا۔ حزب اختلاف یعنی این ڈی اے اتحاد جس میں اے آئی اے ڈی ایم کے  کے ساتھ بی جے پی اور کچھ دوسری مقامی پارٹیاں بھی شامل ہیں انہیں ڈی ایم کے اتحا د کا پہلا مقابل قرار دے کر انہیں دونوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہونے کی پیش گوئی کی گئی۔ جوزف وجے کی پارٹی ٹی وی کے کو تیسرے نمبر پر بارہ پندرہ فیصد ووٹ شئیر اور دس کے آس پاس سیٹوں کے ساتھ بتایا جاتا رہا۔ لیکن  جب چار مئی کو نتیجہ نکلا تو پتہ چلا ریاست کے دو مہا رتھیوں کو ایک جوان نو خیز سپہ سالار جوزف وجے نے دھول چٹا کر جیت حاصل کرلی اور میدان مار لیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ریاست کا منظر نامہ اتنی تیزی سے تبدیل ہوا کہ ریاست کے سیاسی پنڈت جو اور ہی قسم کی ہار اور جیت کی پیشن گوئیاں کر رہے تھے ایک دوسرے کے منہ تکتے رہ گئے۔

کیا یہ بات کم حیرت انگیز نہیں کہ سنہ 1967 سے ریاست تمل ناڈو کی تاریخ میں ڈراوڑ پارٹیوں یعنی ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے، کی حکومتوں کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا اس کو، سنہ 2026 میں جوزف وجے کی ایک نوزائیدہ غیر ڈراوڑ پارٹی جس کی عمر دوسال کے لگ بھگ ہے اور وہ بھی  بغیر کسی بڑے سیاسی جدوجہد اور تجربے کے، روک کر اس پر نقطہء اختتام لگاتے ہوئے ریاستی سنگھاسن پر براجمان ہوگئ!! ایسا کیسے ہوا؟ اور اس کے پیچھے کیا وجوہات ہیں؟ اس پر بڑی بحث ہوسکتی ہے مگر اس تبدیلی سے ریاست کو کیا حاصل ہوگا یہ آج کی ریاستی سیاست کی تاریخ کا ایک بڑا سوال ہے۔  جو پارٹی بغیر کسی بڑی نظریاتی بنیاد اور دوربینی لائحہ عمل کے  محض جذباتی نعروں اور فلمی انداز کے بیانیوں کے بل پر حکومت میں آگئی ہے وہ تیزی سے ترقی کی راہوں پر گامزن  ایک ریاست کو کیا دے گی اور کیسے آگے لے کر جائے گی اس کا اندازہ لگانا، اس کے بیانیوں، جملوں اور وعدوں کی بنیاد پر مشکل ہے۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ  ریاست کی ترقی کے لئے یہ تبدیلی نیک شگون ثابت ہوئی یا بد شگون۔

انتخابات کے نتائج کے ساتھ ہی ریاست کی سیاسی تاریخ میں ایک نیا ڈرامہ دیکھنے کو ملا۔ ریاستی اسمبلی میں ممبروں کی کل تعداد 234 ہے اور حکومت بنانے کے لئے کسی بھی پارٹی کو 118 ممبروں کی ضرورت ہوتی ہے مگر یہ تعداد  اس بار کے انتخابات میں کسی بھی پارٹی کو حاصل نہیں ہوئی۔ چونکہ  جوزف وجے اور ان کی پارٹی ٹی وی کے انتخابات میں 108 سیٹوں پر جیت درج کر کے ریاستی اسمبلی کی بڑی پارٹی بن گئی، اس بوتے پر جوزف وجے نے گورنر شری راجندرا وشواناتھ آرلیکر سے ملاقات کر کے حکومت بنانے کا دعوی پیش کیا مگر گورنر نے پہلے 118 ممبروں کی حمایت کا ٹھوس ثبوت لانے کے لئے کہہ کر وجے کو واپس بھیج دیا۔ حالانکہ انتخابات میں کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت نہ ملنے پر دستور یہی رہا ہے کہ جیتی ہوئی سب سے بڑی پارٹی کو اکثریت ثابت کرنے لئے کچھ مہلت دے کر حکومت بنانے کا موقع دے دیا جاتا ہے۔ 

عام خیال یہی تھا کہ جوزف وجے اور ان کی پارٹی ٹی وی کے، این ڈی اے کے ساتھ جڑ کر اکثریت ثابت کر کے حکومت بنائے گی مگر اس کے بر عکس ٹی وی کے نے ڈی ایم کے محاذ میں موجود سیکولر پارٹیوں سے حمایت  طلب کی۔ اس کی اس صدا پر سب سے پہلے  ریاستی اسمبلی میں پانچ سیٹوں پر جیت درج کر چکی کانگریس پارٹی نے لبیک کہتے ہوئے اپنے برسوں کے اتحادی ڈی ایم کے سے ناطہ توڑ کر فورا اپنی حمایت کا اعلان کر دیا۔ کانگریس کی اس جلد بازی کو ریاست کے سیاسی حلقوں میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا گیا، اسے ابن الوقت اور اس کے اس عمل کو پیٹھ میں چھرا گھونپنا کہا گیا۔ کانگریس پارٹی کے پانچ ممبروں کے حمایت کے باوجود گورنر نے جوزف وجے کو حکومت بنانے کا موقع دینے سے صاف منع کر دیا اور واضح اکثریت ثابت کرنے کی شرط لگا دی۔ اس کے ساتھ ہی ٹی وی کے کی جانب سے  ڈی ایم کے محاذ میں موجود دوسری سیکولر پارٹیوں سے حمایت طلب کرنے کی لگاتار کوششیں شروع ہوگئیں۔ دو دو اسمبلی ممبروں کے ساتھ  دونوں کمیونسٹ پارٹیاں سی پی آئی اور سی پی آئی یم نے ڈی ایم کے  سے مشورے کے بعد مشروط حمایت کا اعلان کیا اور ٹی وی  کے کو خطِ حمایت سونپی۔ جوزف وجے کی ٹی وی کے کی ایک اور پریشانی یہ بھی تھی کہ اس کے بانی صدر جوزف وجے نے دو اسمبلی حلقوں سے جیت حاصل کی تھی اور اصولا انہیں ایک سیٹ سے استغفی دینا تھا اس اعتبار سے ٹی وی کے کی کل تعداد گھٹ کر 107 ہوجاتی تھی، اسمبلی فلور پر اکثریت ثابت کرنے سے پہلے ایک ممبر کا  اسپیکر منتخب کیا جانا بھی ضروری تھا جو اسپیکر بننے کے بعد ووٹ نہیں  دے سکتا تھا، اس حوالے سے کل ملا کر ٹی وی کے کے پاس 106 ممبروں کی تعداد بچتی تھی اور اکثریت ثابت کرنے والی میجک نمبر 118 کے لئے اسے اور 12 ممبروں کی ضرورت تھی۔ کانگریس پارٹی کے پانچ اور کمیونسٹ پارٹیوں کے چار یعنی کل نو ممبروں کی حمایت کے باوجود اسے اور تین ممبروں کی ضرورت رہی جو بالآخر ڈی ایم کے محاذ کے ایک اور حلیف وی سی کے کے دو اور انڈین یونین مسلم لیگ کے  دو، کل چار ممبروں کی حمایت حاصل کر کے پوری کی گئی، جو ان پارٹیوں نے ڈی ایم کے سے مشورے کے اور بڑے سوچ بچار کے بعد محض اس بنا پر دینے کا دعویٰ کیا کہ کہیں ان کے انکار پر ریاست میں صدر راج نہ نافذ ہو جائے یا بی جے پی موقع کا فائدہ نہ اٹھا لے۔ مئی پانچ تاریخ کو شروع ہوئی یہ غیر یقینی حالت مئی نو تاریخ کی شام کو اختتام پذیر ہوئی اور بالآخر گورنر نے جوزف وجے کو حکومت بنانے کے لیے دعوت دے دی۔

ان پانچ دنوں کے دوران ریاست بھر میں کئی قسم کی افواہیں گردش میں رہیں، جن میں کٹر سیاسی حریف ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے کا ایک پلیٹ فارم میں آکر حکومت سازی کا دعویٰ بھی شامل ہے،  حالانکہ ایسی کوٸی بھی کوشش ان دونوں پارٹیوں کے لئے  سیاسی خود کشی ثابت ہوتی۔ ڈی ایم کے کے رہنما نے اپنے حلیف پارٹی، سی پی آئی سی پی آئی ایم، وی سی کے اور آئی یو ایم ایل کو بخوشی سیکولر سرکار کی خاطر ٹی وی کے کی حمایت کی اجازت دے کر جس سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا وہ قابل داد ہے۔ یہی  نہیں انہوں نے ایک طرح سے اپنے حلیفوں کے ذریعے حکومت پر دباؤ بنائے رکھنے کا دروازہ بھی کھول لیا ہے۔

مئی دس تاریخ کی صبح دس بج کر پندرہ منٹ پر چنئی کے نہرو انڈور اسٹیڈیم میں  ریاست تمل ناڈو کے تیرھویں اسمبلی کے نویں وزیراعلیٰ کے طور پر جوزف وجے نے حلف اٹھایا اور ان کے ساتھ ان کی   پارٹی کے نو وزراء نے بھی حلف لیا۔ کانگریس پارٹی کے رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لئے خاص طور پر دہلی سے تشریف لائے۔ حلف اٹھانے کے ساتھ ہی اسی اسٹیج سے بالکل فلمی انداز میں وزیر اعلیٰ جوزف وجے نے تین انتخابی وعدوں یعنی پانچ سو یونٹ استعمال کرنے والے بجلی صارفین کو دو سو یونٹ مفت بجلی کی فراہمی، خواتین کی حفاظت اور انسداد منشیات کے لئے خصوصی فورس کا قیام، کو جی او کی شکل دے کر اس پر دستخط ثبت کر کے اسے بطور قانون نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے فورا بعد اسی اسٹیج سے  تقریر کرتے ہوئے انہوں نے  کہا کہ میں فلموں میں کام کرنے والے ایک اسٹنٹ ڈائرکٹر کا بیٹا ہوں اور غربت سے اچھی طرح واقف ہوں، بطور ایک چھوٹے بھائی میں اس عہدے کے لئے آپ سب کا شکر گذار ہوں، مجھے کچھ وقت دیں میں اپنا کیا ہوا ہر وعدہ پورا کروں گا، میری حکومت شفافیت کی حامل ہوگی، ہر چیز کا جائزہ لے کر میں ایک وائٹ پیپر جاری کروں گا،آج سے ہی منشیات کے استعمال پر قابو پانے کے لئے سخت اقدامات کروں گا، میں کوئی غلط کام نہیں کروں گا اور میرے ساتھ کسی کو غلط  کام کرنے بھی نہیں دوں گا، عوام کے ایک پیسے کو بھی ہاتھ نہیں لگاؤں گا، پچھلی حکومت نے خزانہ صاف کر دیا ہے اس حوالے سے میری حکومت پر بہت زیادہ بوجھ اور ذمہ داری ہے، یاد رکھیں میری حکومت میں طاقت کا ایک ہی مرکز ہے اور وہ میں خود ہوں۔  اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی پارٹی کے کارکنوں کا شکریہ ادا کیا اور ان کی حکومت کو حمایت دینے والے بشمول کانگریس کے تمام پارٹیوں کا بھی نام لے کر شکریہ ادا کیا۔

 حلف برداری کی تقریب میں جوزف وجے کا کوٹ سوٹ میں آنا، تمل ترانہ اور قومی ترانہ سے پہلے کانگریس رہنما راہل گاندھی کی موجودگی میں  قومی گیت وندے ماترم کے چھ بند کا پڑھا جانا یہ واضح کرتا ہے کہ ریاست تمل ناڈو  کی سرکار ڈراوڑاین نظریے سے دوری بنائے رکھنے کا عمل شروع کر چکی ہے اورممکن ہے  بہت جلد پچھلی حکومتوں کے بہت سارے فیصلے کوڑے دان میں نظر آئیں۔

حلف برداری کی تقریب، پھر فورا بعد تین جی او پر دستخط اور جذباتی شکوے شکایتوں والی تقریر، ان سب باتوں سے اتنا تو اندازہ  ہوجاتا ہے کہ جوزف وجے کی سرکار بھی روایتی طرز حکومت کے جادہ پر ہی گامزن ہے۔ اپنے نوجوان پرستاروں کو لبھانے کےلئے وزیراعلیٰ وجے کے پاس سوائے جملوں اور وعدوں کے ابھی ایسا کوئی لائحہ عمل نہیں ہے جس سے وہ انہیں اپنے تئیں جذبات کو مہمیز دے سکیں۔ چار چھ مہینے بعد جب جیت کا خمار کم ہوگا، مفت اسکیموں کے علاوہ روزگار، کساد بازاری، رشوت خوری، منشیات کے مسئلے کے حوالے سے انتخابی وعدوں پر سجائے گے خواب تعبیر کو ترسیں گے،حالات کو دیکھتے ہوٸےجس کی  قوی امید ہے، اس وقت حکومت کو سنبھالنا اور اسے پٹری پر جماٸے رکھنا سچ مچ کمال ہوگا۔ ایک طرف سے منجھے ہوئےحزب اختلاف کے کڑے سوالات کا سامنا کرتے ہوئے تو دوسری طرف سے مرکزی حکومت کی ہر چھوٹے بڑے معاملات میں جارحانہ  دخل دراندازی کو برداشت کر تے ہوئے، جوزف وجے حکومت نامی تلوار کی اس دھار پر کتنی دیر اپنی سچ دھج کے ساتھ ٹکے رہیں گے یہ وقت ہی بتائے گا۔ ویسےدنیا امید پر قائم ہے اور امید ہے کہ سب اچھا ہی ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔