کاکروچ جنتا پارٹی کا عروج: مودی سرکار کے لیے بھارتی نوجوانوں کی ڈیجیٹل وارننگ۔(کیا ایک 'ورچوئل پارٹی' بھارت کی روایتی سیاست کو بدل دے گی؟)۔ ازقلم : ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔
کاکروچ جنتا پارٹی کا عروج: مودی سرکار کے لیے بھارتی نوجوانوں کی ڈیجیٹل وارننگ۔
(کیا ایک 'ورچوئل پارٹی' بھارت کی روایتی سیاست کو بدل دے گی؟)
ازقلم : ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔
اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں عالمی جمہوریتیں ایک نئے اور پیچیدہ چیلنج سے نبرد آزما ہیں۔ وہ نوجوان نسل، جسے عرفِ عام میں 'جین زی' (Gen Z) کہا جاتا ہے، اب اپنے سیاسی اور سماجی حقوق کے حصول کے لیے روایتی سیاسی جماعتوں اور سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں پر انحصار کرنے کے بجائے سائبر اسپیس اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو اپنے سب سے مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ اس عالمی رجحان کی ایک انتہائی طاقتور، چشم کشا اور فکر انگیز مثال مئی 2026 میں بھارت کے سیاسی افق پر 'کاکروچ جنتا پارٹی' (CJP) کے نام سے ابھرنے والی ایک ورچوئل سیاسی تحریک ہے۔ یہ تحریک بظاہر ایک طنزیہ اور مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ترتیب دیا گیا ایک ڈیجیٹل مذاق معلوم ہوتی ہے، لیکن اگر عمرانیات، سیاسیات اور معیشت کے مروجہ اصولوں کی روشنی میں اس کا گہرا مطالعہ کیا جائے، تو یہ بھارت کے ریاستی ڈھانچے، حکومتی پالیسیوں اور نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے عدم اطمینان پر ایک انتہائی سنگین چارج شیٹ ہے۔ اس طنزیہ مہم کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ محض چند روز کے اندر اس کے سوشل میڈیا فالوورز کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی، جس نے دنیا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہونے کا دعویٰ کرنے والی حکمران جماعت 'بھارتیہ جنتا پارٹی' کی ڈیجیٹل بالادستی کو بھی لرزا کر رکھ دیا۔
اس بے مثال تحریک کے جنم لینے کا فوری محرک ایک مخصوص اور متنازعہ بیان بنا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق، بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے منسوب بعض ریمارکس میں نظام پر تنقید کرنے والے بے روزگار نوجوانوں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کے لیے 'کاکروچ' اور 'معاشرے کے طفیلیے' (Parasites) جیسے الفاظ استعمال کیے گئے۔ اگرچہ اس حوالے سے بعد میں مختلف سرکاری وضاحتیں پیش کی گئیں، لیکن بھارت کی نوجوان نسل، جو پہلے ہی معاشی دباؤ اور بے روزگاری کی چکی میں پس رہی تھی، نے اس طعنے کو ایک سیاسی استعارے میں تبدیل کر دیا۔ امریکہ میں زیرِ تعلیم ایک نوجوان بھارتی طالب علم اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ، ابھیجیت دیپکے نے اس اجتماعی غصے کو ایک سمت دی اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے 'کاکروچ جنتا پارٹی' کی بنیاد رکھ دی۔ اس پارٹی کے رکن بننے کے لیے طنزیہ طور پر وہی شرائط رکھی گئیں جن کا طعنہ نوجوانوں کو دیا جاتا تھا؛ یعنی بے روزگار اور سست ہونا۔ سیاسیات کی زبان میں اسے 'سبورژن' (Subversion) یعنی تخریبِ بیانیہ کہا جاتا ہے، جہاں محکوم یا پسماندہ طبقہ حکمران اشرافیہ کی جانب سے دی گئی گالی کو اپنے فخر کی علامت بنا لیتا ہے تاکہ غالب بیانیے کو شکست دی جا سکے۔
تاہم، اس تحریک کی جڑیں محض ایک عدالتی بیان تک محدود نہیں ہیں، بلکہ یہ بھارت کی انتہائی پیچیدہ اور تشویشناک معاشی صورتحال کی گہرائیوں میں پیوست ہیں۔ معاشی ماہرین ایک عرصے سے متنبہ کر رہے ہیں کہ بھارت کا وہ 'آبادیاتی منافع' (Demographic Dividend) جس پر وہ عالمی سطح پر فخر کرتا ہے، روزگار کے مناسب مواقع نہ ہونے کی وجہ سے ایک آبادیاتی المیے (Demographic Disaster) میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (ILO) اور انسٹی ٹیوٹ فار ہیومن ڈیولپمنٹ کی مشترکہ 'انڈیا ایمپلائمنٹ رپورٹ 2024' کے مستند اعداد و شمار کے مطابق، بھارت میں کل بے روزگار افراد میں سے تقریباً 83 فیصد نوجوان ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ پڑھے لکھے نوجوانوں، بالخصوص سیکنڈری ایجوکیشن یا اس سے اعلیٰ تعلیم یافتہ گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ ہر سال لاکھوں نوجوان ڈگریاں حاصل کر کے لیبر مارکیٹ میں داخل ہوتے ہیں، لیکن ملکی معیشت، جسے ماہرین 'روزگار سے عاری ترقی' (Jobless Growth) کا نام دیتے ہیں، ان کے لیے خاطر خواہ مواقع پیدا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ ان تلخ معاشی حقائق نے جین زی نسل کے اندر ایک گہری اور دیرپا مایوسی کو جنم دیا ہے۔
اس بارود کے ڈھیر کو چنگاری دکھانے کا کام حالیہ 'نیٹ' (NEET-UG) امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے ہوش ربا سکینڈل نے کیا۔ میڈیکل کالجوں میں داخلے کا یہ امتحان لاکھوں متوسط اور غریب طلباء کے لیے اپنے معاشی حالات بدلنے کی واحد امید ہوتا ہے۔ جب اس سطح کے حساس ترین قومی امتحانات میں کرپشن، پرچہ آؤٹ ہونے اور نظام کی صریح ناکامی کے شواہد سامنے آئے، تو نوجوانوں کا غصہ قابو سے باہر ہو گیا اور وہ سڑکوں پر نکل آئے۔ لیکن ریاست کی جانب سے اس سنگین بحران سے نمٹنے کا طریقہ کار انتہائی روایتی، جابرانہ اور مایوس کن تھا۔ وزیرِ تعلیم اور دیگر متعلقہ حکام نے فوری طور پر ذمہ داری قبول کرنے، اعلیٰ سطحی استعفے دینے یا نظام کی تطہیر کرنے کے بجائے، پہلے تو حقائق سے قطعی انکار کیا اور پھر محض چند نچلے درجے کے افسران کو معطل کر کے معاملے پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی۔ شدید گرمی میں سڑکوں پر پرامن احتجاج کرنے والے طلباء کو پولیس کی لاٹھیوں اور جبر کا سامنا کرنا پڑا۔ ریاستی جبر، ادارہ جاتی بے حسی اور انصاف کے فقدان کے اس امتزاج نے اس نظریے کو مزید تقویت دی کہ موجودہ نظام مکمل طور پر ناکارہ اور اشرافیہ کے قبضے میں ہے۔ عین اسی پس منظر میں کاکروچ جنتا پارٹی کو وہ زرخیز زمین میسر آئی جس پر اس نے اتنی تیزی سے نمو پائی۔
کاکروچ جنتا پارٹی کا منشور محض ایک طنزیہ دستاویز نہیں ہے، بلکہ یہ موجودہ جمہوری اور ریاستی ڈھانچے کی خامیوں پر ایک انتہائی گہرا اور کاٹ دار تبصرہ ہے۔ اس منشور کے مطالبات کا اگر سیاسی اور آئینی ماہرین کی چشمِ بینا سے جائزہ لیا جائے تو ان میں موجودہ بھارت کی سیاسی حقیقتوں اور خامیوں کی واضح جھلک نظر آتی ہے۔ مثال کے طور پر، منشور کا ایک بڑا مطالبہ یہ ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد چیف جسٹسز یا دیگر اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کو راجیہ سبھا (ایوانِ بالا) کی رکنیت یا کسی بھی منافع بخش حکومتی عہدے پر تعینات کرنے پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ یہ مطالبہ اس بڑھتے ہوئے عوامی تاثر کی بھرپور عکاسی کرتا ہے کہ عدلیہ، جسے جمہوریت کا آخری اور مضبوط ترین محافظ سمجھا جاتا ہے، اس کے بعض فیصلے حکومتِ وقت کو خوش کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں تاکہ ریٹائرمنٹ کے بعد مراعات حاصل کی جا سکیں۔ اگرچہ یہ ایک طنزیہ منشور کا حصہ ہے، لیکن باشعور اور قانونی حلقوں میں بھی ریٹائرمنٹ کے بعد کی تقرریوں پر طویل عرصے سے سنجیدہ سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔
اسی تسلسل میں، منشور کے اندر الیکشن کمیشن کی شفافیت کے حوالے سے یہ منفرد مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن کسی بھی شہری کا جائز ووٹ کاٹنے یا اسے رائے دہی سے محروم کرنے کا مرتکب ہوتا ہے، تو چیف الیکشن کمشنر کے خلاف دہشت گردی کے انسداد کے سخت ترین قانون (UAPA) کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔ تکنیکی اور قانونی اعتبار سے ایک آئینی عہدیدار پر اس قانون کا اطلاق گو کہ انتہائی غیر حقیقت پسندانہ ہے، لیکن اس مطالبے کی علامت پسندی نہایت گہری اور معنی خیز ہے۔ یہ اس بات کا غماز ہے کہ نوجوان طبقہ حقِ رائے دہی چھینے جانے کو محض ایک عام انتظامی غلطی کے بجائے جمہوریت کے خلاف ایک دہشت گردانہ عمل تصور کرتا ہے۔ مزید برآں، منشور میں خواتین کے لیے محض 33 فیصد کے بجائے 50 فیصد نمائندگی کا فوری اطلاق، اور سرمایہ داروں کے زیرِ اثر چلنے والے 'گودی میڈیا' کی اجارہ داری کو ختم کرنے جیسے جرات مندانہ مطالبات شامل ہیں۔ ایک اور اہم نکتہ سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے پر سخت ترین پابندیوں کا ہے۔ یہ اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ آج کا نوجوان اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ کس طرح سرمائے اور ریاستی ایجنسیوں کے دباؤ کے ذریعے عوامی مینڈیٹ کی سرِعام توہین کی جاتی ہے اور منتخب نمائندوں کی منڈیاں لگائی جاتی ہیں۔
جب اس ورچوئل تحریک نے زور پکڑنا شروع کیا اور اس کا انقلابی پیغام کروڑوں نوجوانوں کے موبائل اسکرینز تک پہنچا، تو ریاست کا ردعمل بالکل وہی تھا جو کسی بھی کمزور اور خوفزدہ اتھارٹی کا ہوتا ہے؛ یعنی سنسر شپ۔ اطلاعات کے مطابق، کاکروچ جنتا پارٹی کے 'ایکس' اکاؤنٹ کو محض چند روز کے اندر ہی بھارت کی جغرافیائی حدود میں قانونی نوٹسز کی آڑ میں معطل (Withhold) کر دیا گیا اور اس کے بانی کے دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی مسلسل سائبر حملے کیے گئے۔ جدید سیاسی رابطوں کے اس ڈیجیٹل دور میں اس طرح کی پابندیاں 'سٹرائسینڈ افیکٹ' (Streisand Effect) کو جنم دیتی ہیں، جس کے تحت کسی معلومات کو سنسر کرنے یا دبانے کی کوشش اسے عوام میں مزید مشہور اور وائرل کر دیتی ہے۔ اکاؤنٹ بلاک ہونے سے یہ تحریک ختم تو نہ ہو سکی، البتہ اسے یہ اخلاقی جواز ضرور مل گیا کہ حکومت ان کے سوالات اور ان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت سے کس قدر خائف ہے۔ اس کے ساتھ ہی، حکومتی حامی حلقوں کی جانب سے اسے مختلف اپوزیشن جماعتوں بالخصوص عام آدمی پارٹی کی سازش قرار دینے کا بیانیہ بھی تراشا گیا تاکہ اس کی خالص عوامی حیثیت کو متنازعہ بنایا جا سکے۔ اگرچہ بانی کے ماضی کے سیاسی روابط موجود ہو سکتے ہیں، لیکن کسی تحریک کو ملنے والی کروڑوں کی بے ساختہ عوامی حمایت کو محض ایک سیاسی سازش قرار دے کر مسترد کر دینا حقائق سے صریحاً نظر چرانے کے مترادف ہے۔
اس سارے منظرنامے کو اگر عالمی تناظر کی وسعتوں میں دیکھا جائے تو بھارت کا یہ واقعہ کوئی انوکھا یا تنہا استثنیٰ نہیں ہے۔ حالیہ برسوں میں ہم نے دنیا کے مختلف خطوں میں جین زی نسل کو ڈیجیٹل ٹولز کی مدد سے جابرانہ اور فرسودہ نظاموں کو کامیابی سے چیلنج کرتے دیکھا ہے۔ کینیا میں فنانس بل کے خلاف ہونے والے حالیہ مظاہرے ہوں، جہاں نوجوانوں نے ٹک ٹاک اور ایکس اسپیسز کا مؤثر استعمال کرتے ہوئے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے اور بل واپس لینے پر مجبور کیا، یا پھر پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں سرکاری نوکریوں کے کوٹہ سسٹم کے خلاف طلباء کی خونریز لیکن فاتحانہ تحریک، جس نے دہائیوں پر محیط مضبوط ترین حکومت کا تختہ الٹ دیا؛ یہ سب ایک ہی عالمی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ عرب بہار سے لے کر آج کے ڈیجیٹل دور تک یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ ٹیکنالوجی اور شعور سے لیس نوجوان نسل کو پرانے ریاستی ہتھکنڈوں، جبر اور کھوکھلے وعدوں سے رام نہیں کیا جا سکتا۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ بھارت میں 'کاکروچ جنتا پارٹی' کا حیرت انگیز ظہور اور اس کی بے پناہ مقبولیت ریاست اور جمہوریت کے لیے بیک وقت ایک خطرے کی گھنٹی بھی ہے اور ایک روشن امید کی کرن بھی۔ خطرے کی گھنٹی اس لیے کہ یہ ریاستی اداروں کی کارکردگی، میرٹ کی پامالی اور انصاف کی عدم فراہمی پر نوجوانوں کے انتہائی گہرے عدم اعتماد کو ظاہر کرتی ہے۔ اور امید کی کرن اس لیے کہ یہ ثابت کرتی ہے کہ بھارت کی نوجوان نسل سیاسی طور پر مردہ یا بے حس نہیں ہوئی ہے، بلکہ وہ انتہائی باشعور ہے اور اکیسویں صدی کے جدید تقاضوں کے مطابق اپنا حق چھیننا جانتی ہے۔ ریاست اور حکمران اشرافیہ کو یہ نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیے کہ ڈیجیٹل دور میں عوامی بیانیے پر مکمل کنٹرول اب کسی کے بس کی بات نہیں رہی۔ اس سنگین بحران کا حل سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندیاں لگانے، نوجوانوں کو طعنے دینے یا ان کی طنزیہ مہمات کو غیر ملکی سازش قرار دینے میں نہیں ہے، بلکہ ان ساختیاتی اور بنیادی خامیوں کو دور کرنے میں ہے جو اس طوفانی بے چینی کو جنم دے رہی ہیں۔ جب تک روزگار کے مساوی مواقع پیدا نہیں کیے جاتے، امتحانی نظام کی مکمل شفافیت بحال نہیں کی جاتی، اور ریاستی اداروں کی غیر جانبداری کو یقینی نہیں بنایا جاتا، جین زی کا یہ دبا ہوا غصہ ڈیجیٹل دنیا کی سکرینوں سے نکل کر سڑکوں پر ایک ایسے سیلاب کی شکل اختیار کر سکتا ہے جسے سنبھالنا کسی بھی حکومت کے لیے ناممکن ہو جائے گا۔
Comments
Post a Comment