مسلم ریزرویشن کے حق میں کل بڑا احتجاج — انصاف، تعلیم اور اتحاد کی پکار۔ - سید فاروق احمد قادری۔
مسلم ریزرویشن کے حق میں کل بڑا احتجاج — انصاف، تعلیم اور اتحاد کی پکار۔ - سید فاروق احمد قادری۔
بیڈ ضلع میں یکم مئی اج بر جمعہ کو مسلم ریزرویشن اور سماجی انصاف کے مطالبے کو لے کر ایک بڑا عوامی احتجاج منعقد ہونے جا رہا ہے۔ اس تحریک کو تمام بڑی سیاسی جماعتوں، تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور مختلف طبقات کی بھرپور تائید حاصل ہو چکی ہے۔ علماء کرام اور ذمہ دارانِ قوم نے بھی عوام سے اپیل کی ہے کہ بڑی تعداد میں شریک ہو کر اس آواز کو مضبوط کریں۔
کل صبح تقریباً 10 بجے ایک عظیم الشان جلوس نکالا جائے گا، وقت میں کمی زیادتی ہو سکتی ہے جو ضلع کلکٹر دفتر تک پہنچے گا، جہاں مطالبات پیش کیے جائیں گے۔ ان مطالبات میں تعلیمی سہولتوں کی فراہمی، اساتذہ کی تقرری، بند پڑے اردو اسکولوں کو دوبارہ شروع کرنا اور مسلم ریزرویشن کو یقینی بنانا شامل ہے۔
یہ تحریک صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ ہر اُس مظلوم کی آواز ہے — چاہے وہ ہندو ہو، مسلم، سکھ، عیسائی یا کسی بھی برادری سے تعلق رکھتا ہو — جس کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ آج حالات یہ ہیں کہ عام آدمی کو انصاف کے لیے دربدر ہونا پڑ رہا ہے، رجسٹریشن کے مسائل کھڑے کیے جا رہے ہیں، نوجوانوں کو نوکریوں سے محروم رکھا جا رہا ہے اور نظام عوامی ضروریات سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
ایک اہم مطالبہ یہ بھی ہے کہ نفرت پھیلانے والوں کے خلاف سخت قانون بنایا جائے۔ صرف بیانات کی مذمت کافی نہیں، بلکہ حکومت کو ایسا قانون نافذ کرنا ہوگا کہ کوئی بھی شخص کسی مذہب، فقہ یا فرقے کے خلاف اشتعال انگیز زبان استعمال کرنے کی ہمت نہ کرے۔ حالیہ دنوں میں عدالت کی جانب سے ایک سیاسی شخصیت کو اشتعال انگیز تقاریر پر ایک ماہ کی سزا سنانا اس بات کا اشارہ ہے کہ اب نفرت کی سیاست کے خلاف کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے۔
تعلیم کے میدان میں بھی سنگین لاپروائی سامنے آ رہی ہے۔ اردو کے فروغ کے لیے جو اقدامات ہونے چاہیے تھے، وہ اب تک تشنۂ تکمیل ہیں۔ خاص طور پر اردو طلبہ کے لیے ہاسٹل کی شدید ضرورت ہے، جبکہ پرانی تحصیل جگہ گزشتہ 20-25 سال سے خالی پڑی ہوئی ہے۔ اگر سنجیدگی سے منصوبہ بندی کی جائے تو اسی جگہ پر ایک معیاری ہاسٹل، خصوصاً طالبات (لیڈیز) کے لیے فوری طور پر تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور اسے مزید نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
یاد رہے کہ 17 اپریل 2006 کو بھی اسی نوعیت کا ایک بڑا مورچہ نکالا گیا تھا، جس میں ضلع کے پالک منتری کو مطالبات پیش کیے گئے تھے اور یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ مسائل حل کیے جائیں گے، مگر وہ وعدے آج تک وفا نہ ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام ایک بار پھر سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہیں۔
بدقسمتی سے کچھ سیاسی لیڈر آج بھی ووٹ کی سیاست کے لیے مذہب کا سہارا لیتے ہیں، ہندو-مسلم کے نام پر نفرت اور تقسیم کو ہوا دیتے ہیں۔ ایسے میں یہ احتجاج صرف مطالبات کا نہیں بلکہ انصاف، بھائی چارے اور آئینی حقوق کے تحفظ کی ایک مضبوط جدوجہد بن چکا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس بار عوام کے صبر کا امتحان لیتی ہے یا واقعی عملی اقدامات کر کے انصاف کی راہ ہموار کرتی ہے۔
Comments
Post a Comment