قوموں کے عروج اور زوال کے اسباب - تحریر : مولانا میر ذاکر علی محمدی۔
قوموں کے عروج اور زوال کے اسباب -
تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی۔
9881836729
تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی قوم کے عروج ،ترقی اور کامیابی کاسبب اس کے اپنے تہذیب و تمدن، علم و ادب ،اور بہترین اخلاق کا مظاہرہ ہی رہا ہے۔ اور جو قومیں تنزلی اور ( Demotion) زوال کا شکار رہی ہے علم کی عدم حصولی ،تہذیب و تمدن کا فقدان ،اور اخلاق کو پامال کرنا اس کا سبب بنا ہے۔ (Japan) جاپان ایک ترقی یافتہ ملک ہے، جس نے ہر زاویہ سے اپنی صلاحیت کو منوایا ہے، اور دنیا نے اس کا اعتراف بھی کیا ہے۔ امریکہ نے دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپان کے دو شہر ناگاساکی،اور ہیروشیما پر 1945 میں ایٹمی بم گراے ،جس کے نتیجہ میں جاپان کی معیشت کے بڑے پیمانہ پر تباہی ہوئ ہزاروں افراد لقمہ اجل بنے۔ ایٹم بم اتنے زہریلے تھے کہ آج بھی اس زمین پر ہریالی بھی نہیں اگتی ۔ جاپان پر یہ قیامت صغری سے کم نہ تھا۔ لیکن جاپان نے بدلہ لینے کے بجاے علم ،ٹیکنالوجی، جدید ( New invention) اختراعات،ایجادات، معیشت کو مستحکم کرنے کے ساتھ اپنی ( identification ) شناخت اور تہذیب کا دامن نہیں چھوڑا۔ اور اپنے آپ کی تعمیر نو مصروف رہا۔ یہی وجہ ہے کہ آج جاپان دنیا کااڈوانس ٹیکنالوجی اور معیشت کا نمبر ون ملک ثابت ہوا ۔جاپان کے لوگ خود بھی خوش رہتے ہیں اور دوسروں کے چہروں پر ( Smile) مسکان اور خوشی بکھیرتے ہیں، گویا کہ وہ اس حدیث کا عملی نمونہ بنتے ہیں جہاں پیغمبر اسلام نے یہ فرمایا کہ جو اپنے لیے پسند کرتے ہو وہ دوسروں کے لیے بھی پسند کریں۔ اخلاق ( Moral values) عاجزی ( Modestly) اور انکساری سے پیش آتے ہیں گویا کہ وہ اس حدیث جس نے عاجزی اختیار کی اللہ اسے بلند کرتے ہیں۔ جہاں لاکھوں روپیہ شاہراہ پر پڑا ہو، کسی کی مجال نہیں کہ کوئ اسے اٹھالے۔ یہاں تک کہ وہ مالک تک نہ پہونچ جاے۔ گویا کہ وہ کسی کی امانت میں خیانت کرنا جرم عظیم سمجھتے ہیں۔ گویا کہ وہ قرآنی آیات اور حدیث پر عمل پیرا ہو. ایک دوسرے کو معاف کرنا اور بدلہ نہ لینا ان کے مزاج میں شامل ہے ،گویا کہ وہ پیغمبر اسلام کی اس بات اور حدیث پر عمل کرتے ہوے دید کو ملتے ہیں جہاں پیغمبر اسلام نے فرمایا۔ معاف کرنا ( Forgiveness) بڑی دولت ہے،اور بدلہ نہ لینا اور خداے برتر کے لیے چھوڑدینا مومن کی علامت ہے۔ جہاں معمولی غلطی پر ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ ( iam sorry ) اور دوسرا کہے کہ نہیں میری غلطی (iam sorry) جہاں سیکنڈ میں مسئلہ کا حل ہو، جیسا کہ کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ وہ اپنے ذمہداری اور کام کے تئیں اتنے وفادار اور ایماندار ہوتے ہیں کہ وزیر اعظم کو یہ اعلان کرنا ہڑتا ہے کہ جاو اور اب آرام کرو۔ گویا کہ وہ راست اس حدیث( کلکم راع و کلکم مسئول عن رعییتہ) یعنی تم میں ہر ایک شخص ذمہ دار ہو،اور اپنی رعایا کے تئیں اللہ کے پاس جواب دہ ہو،عمل کر رہے ہیں۔ ٹرین اگر انہیں مطلوبہ وقت پر اور مطلوبہ اسٹیشن پر کچھ منٹوں کی تاخیر سے پہونچاے تو ریل انتظامیہ ٹکٹ کا پیسہ واپس کرتی۔ گویا کہ وہ کیے گیۓ وعدہ کو خوب نبھاتے ہیں۔ اور غلطی ہوجاے تو معذرت طلب کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جاپان ( Knowledge) علم، ٹیکنالوجی، معاشیات ،اور اخلاقی اقدار میں سبقت کیے ہوے ہیں ۔اس کا رزلٹ یہ کہ وہ دنیا کے ممالک میں صف اول کا ملک بنا ہوا ہے۔ جو قوم اپنی تہذیب، اپنے مورخ ،اور اپنی زریں تاریخ کو فراموش کرتی ہے وہ تنزلی اور زوال کا شکار ہوتی ہے۔ میں نے ایک حدجث کا ذکر کیا ہے، کہ تم میں ہر شخص ایک ذمہدار ،رہنما ،اور قائد کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور بروز حشر اس سے متعلق جواب دہ رہیگا۔ قوم کا ہر فرد اپنے معاشرے ، سوسائٹی اور ملک کے قوانین کا پاسدار ہوتا ہے۔ (Nelson Mondela) نیلسن منڈیلا پیدائش 1918 جنوبی افریقہ میں پیدا ہوے۔ انہوں نے اپنی قوم کے خاطر اور ( Racial Discrimination) نسلی امتیاز کے سد باب اور عدل ومساوات اور جمہوری حکومت کو قائم کرنے کے لیے جد وجہد کی ۔جس کی پاداش میں وہ کم و بیش 27 سال جیل میں قید رہے۔نیلسن منڈیلا کو عظیم قائد کی روپ میں جانا اور پہچھانا جاتا ہے۔ جب وہ 11فروری 1990 کو جیل سے رہا ہوے تو پوری قوم اپنے قومی جھنڈے ہاتھوں میں تھامے ہوے اپنے انقلابی ہیرو کے استقبال میں کھڑی تھی۔ علم،اخلاق،اور تہذیب یہ تینوں عناصر کے وجود سے ہی قومیں عروج اور ترقی کے راستہ پر گامزن ہوتی ہے۔ اگر یہ تینوں بنیادی چیزیں نہ ہو تو زوال اور تنزلی (Demotion ) لازمی ہے۔ ویسے تو تاریخ میں کئ ایسی اہم شخصیات ہیں جنہوں نے علم،ادب،اخلاق،اور تہذہب سے اپنی اپنی قوموں کو عروج اور کامیابی بخشی۔لیکن زندہ تاریخ کے سنہری پنوں پر دنیا کی اولین شخصیت آپ صلی اللہ وعلیہ سلم پیدائش 12 ربیع الاول ( 571) مکہ مکرمہ کی سنہری تاریخ رقم ہے۔ جنہیں خداے برتر نے ساری دنیا کے لیے ،عدل و انصاف، محبت واخوت، بھائ چارگی، انسانیت نوازی ،غمخواری ،ہمدردی ،اور رحمت بناکر بھیجا ہے۔ اور آپ کی یہ تعلیم سب سے پہلے اس دنیا پر آشکارہ ہوئ۔ اخلاق کو اسلام میں اتنی اہمیت اور افادیت حاصل ہے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں معلم بناکر بھیجا گیا ہوں۔ اور دوسری جگہ ہے۔ آپ نے فرمایا۔ میں اعلی اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہوں۔ اور سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی علم ، تہذیب ،اور اخلاق سے دین الہی اور مسلمانوں کو عروج تک پہونچایا۔ یہ بات طے ہے کہ کسی بھی قوم کے عروج کا سبب اخلاق حسنہ اور ادب تہذیب پر منحصر ہے۔ اگر یہ عناصر کا فقدان ہو تو کوئ بھی کسی قوم کے زوال کو روک نہیں سکتا۔ تاریخ گواہ ہے، ماضی میں جو بھی قومیں زوال پذیر ہوئ ہیں،اس کا سبب محض اخلاق کی پامالی اور تہذیب و تمدن کو مکدر کرنا۔ یہی ان کے ناکامی اور نامرادی کی وجہ اور سبب بنا۔ چنانچہ قرآن کریم میں ہے ۔اگر اللہ کے پاس کوئ دین محبوب ترین ہے تو وہ مذہب اسلام ہے۔ اور مزید ارشاد ہے، خداے برتر نے فرمایا ،تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے نفع رسانی کے لیے بنائ گئ ہے تاکہ بھلائ کا جس میں اخلاق حسنہ شامل ہے حکم دیں، اور برائ سے اجتناب کا حکم دیں۔
Comments
Post a Comment