اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ اس کا حق ہے - ظہیرآباد مسجد اشاعت اسلام میں "حقیقت قربانی اور امت مسلمہ"مولانا اعجاز محی الدین وسیم صدر وخطیب عزیزیہ مہدی پٹنم حیدر آباد کا خطاب۔
ظہیرآباد -17/مئی(نمائندہ)جماعت اسلامی ہند ظہیرآباد نارتھ کےزیر اہتمام مسجد اشاعت اسلام راشدہ اسد متصل اسلامک سنٹر لطیف روڈ ظہیرآباد میں کل شام بعد نماز مغرب ایک خطاب عام انتہائی اہم عنوان پر "حقیقت قربانی اور امت مسلمہ" منعقد ہوا جس میں حیدرآباد کے مشہور ومعروف اسکالر و مقرر مولانا اعجاز محی الدین وسیم صدر وخطیب مسجد عزیزیہ مہدی پٹنم نے اپنے خصوصی خطاب میں کہا کہ ہمیں اپنے باپ حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی ان قربانیوں کو یاد کر نا چاہیے جو اللہ کو مطلوب تھیں جو انتہائی آزمائشیں تھیں وہ کھرے اترے جو ہمارے لئے نمونہ ہیں ہمیں وہ قربانی یاد کرنی ہے جو باپ ابراہیم نے دی ماں ہاجرہ نے دی اور بیٹے اسماعیل نے دی یہ سب اللہ کو پسند تھیں ہمیں صرف بکرے کی قربانی دینی نہیں ہے بلکہ اللہ کا حق ادا کرنا ہے اللہ کی راہ میں جہاد کرنا جیسے اس کا حق ہے ہمیں انتہائی کوشیش کرنا ہے سرسری نہیں نتائج کے حصول کےلئے جان توڑ محنت وکوشیش کرنا ہے چاہے کتنی ہی مشکلات آئیں دعوت دین اور اقامت دین امت مسلمہ کا فرض عین ہے انصاف کے علمبردار بننا لوگوں کے کام آنا یہ انتہائی ضروری ہے اللہ کے راہ میں کام کرنے والے سستی نہیں کرسکتے انہیں تو چاق وچوبند ہوجانا چاہئے فی زمانہ ہماری حالت بڑی کمزور ہوگئی اور ہم غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں جو مومن کا شیوہ نہیں ہے انتہائی کوشیش ہی ہمیں اللہ کا مقرب بناسکتی ہے آج کے اجتماع کا آغاز قاری فیض الدین غوری استاذ مدرسہ عزیزیہ مہدی پٹنم کے خوش الحان قراءت قرآن سے ہوا امیر مقامی محمد قیصر غوری نے مہمانان کا خیر مقدم کیا معاون ناظم ضلع سنگاریڈی مغرب محمد معین الدین نےنظامت کے فرائض بہحسن خوبی نبھائے تنظیمی سیکریٹری ظہیر آباد نارتھ سید امتیاز نے اظہار تشکر پیش کیااس موقع پر ناظم ضلع سنگاریڈی مغرب محمد ناظم الدین غوری سیکریٹری آئیٹا ضلع سنگاریڈی خواجہ نظام الدین ضلعی صدر ایم پی جے سنگاریڈی انجنیئر شہبازالدین صدرمسجد رقیہ عمر فاروق امیر مقامی ظہیر آباد ساوتھ سید عبدالروف مقامی آئیٹا صدر عمران احمد خان خطیب وامام مسجد عمر فاروق مولانا محمد عرفان ندوی ودیگر معززین شہر کے علاوہ خواتین کےلئے مختص مسجد سیلار میں معزز خواتین کی بھی قابل لحاظ تعداد موجود تھی۔۔۔۔
Comments
Post a Comment