تربیتِ اولاد: نصیحت نہیں، نمونۂ عمل” - ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔
تربیتِ اولاد: نصیحت نہیں، نمونۂ عمل” -
ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔
M A M Ed
8904317986
آج بجاپور کی گلیوں میں جب مجھے تانگے میں بیٹھنے کا موقع ملا، تو یہ ایک معمولی سا سفر نہیں رہا… بلکہ ایک خاموش سبق بن گیا۔ میں اُس گھوڑے کو دیر تک دیکھتی رہی—وہ بے زبان جانور، جس کے پاس نہ اپنی بات منوانے کی طاقت، نہ انکار کا کوئی انداز… مگر پھر بھی وہ اپنے مالک کے اشاروں پر اس قدر متوازن، مہذب اور ترتیب کے ساتھ چل رہا تھا، جیسے اس کی پوری زندگی اسی نظم کی عادی بنا دی گئی ہو۔
اُس کی ہر چال میں ایک سیکھا ہوا سلیقہ تھا، ہر موڑ پر ایک مانوس اطاعت… اور یہ سب کسی ایک دن کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ مسلسل تربیت، توجہ اور صبر کا ثمر تھا۔
اسی منظر نے میرے دل میں ایک گہری ہلچل پیدا کی۔ میں نے خود سے سوال کیا:
جب ایک جانور، جو نہ عقل رکھتا ہے نہ شعور، صرف تربیت کے ذریعے اس قدر سنور سکتا ہے… تو ہم انسان، جنہیں اللہ نے عقل، فہم، جذبات اور پہچان جیسی بیش بہا نعمتوں سے نوازا ہے—ہم اپنی اولاد کو کیوں نہ ایک اعلیٰ کردار کا پیکر بنا سکیں؟
یہیں آ کر خیال نے ایک اور رخ لیا…
شاید مسئلہ بچوں میں نہیں ہوتا، بلکہ ہمارے اندازِ تربیت میں کہیں نہ کہیں کمی رہ جاتی ہے۔ ہم اکثر چاہتے ہیں کہ بچے فوراً ہماری بات مان لیں، فوراً بدل جائیں، فوراً کامل بن جائیں… مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ تربیت ایک مسلسل عمل ہے، جس میں وقت، محبت، برداشت اور حکمت سب شامل ہوتے ہیں۔
مجھے یوں محسوس ہوا کہ اگر والدین اپنی اولاد کے ساتھ صرف حکم دینے والے نہیں، بلکہ سمجھانے والے بن جائیں…
اگر وہ صرف غلطی پر ڈانٹنے کے بجائے صحیح راستہ دکھانے والے بن جائیں…
اگر وہ بچوں کے سامنے صرف نصیحتیں نہ کریں، بلکہ اپنی زندگی کو ایک جیتی جاگتی مثال بنا دیں…
تو یہی بچے نہ صرف سنور سکتے ہیں، بلکہ معاشرے میں روشنی کا سبب بن سکتے ہیں۔
کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ:
بچے مٹی کی طرح ہوتے ہیں… جس سانچے میں ڈھالو، ویسے ہی بن جاتے ہیں۔
لیکن وہ سانچہ الفاظ سے نہیں، بلکہ ہمارے رویّوں، ہمارے انداز، اور ہمارے کردار سے بنتا ہے۔
آج کے اس مختصر سفر نے مجھے یہ سکھایا کہ:
تربیت صرف سکھانے کا نام نہیں، بلکہ خود کو بدلنے کا عمل بھی ہے۔
اور یہ کہ:
ہماری اولاد ہماری باتوں کا نہیں، بلکہ ہماری زندگی کا عکس بن جاتی ہے۔
اب دل کے کسی کونے سے یہ آواز آتی ہے کہ اگر میں واقعی اپنی آنے والی نسل کو بہتر دیکھنا چاہتی ہوں، تو مجھے اپنے آج کو بہتر بنانا ہوگا…
اپنے کردار کو سنوارنا ہوگا… اپنے رویّوں کو درست کرنا ہوگا…
کیونکہ ایک اچھا باغبان صرف پودوں کو پانی نہیں دیتا، بلکہ خود بھی موسموں کا مقابلہ کرنا سیکھتا ہے—تب جا کر کہیں ایک خوبصورت، مہکتا ہوا باغ وجود میں آتا ہے۔
Comments
Post a Comment