دل،زبان ،اور عمل - تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی۔
دل،زبان ،اور عمل -
تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی۔
9881836729
ایک حدیث شریف میں ہے، صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، کہ جنت کتنی دور ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جنت صرف دو قدم دور ہے۔ یعنی ایک قدم آپ اپنے نفس پر رکھیے، اور دوسرا قدم جنت میں، خداے برتر کا ارشاد ہے، اے اطمینان پاجانے والے نفس تو اپنے رب کی طرف اس حال میں لوٹ،کہ تو اسکی خشنودی اور رضا کا طالب بھی ہو اور مطلوب بھی۔ گویا اسکی رضا تیری مطلوب ہو،اورتیری رضا اسکی مطلوب۔ کامل بندوں میں شریک ہوکر جنت کا قرابت دار بن جا۔ لیکن انسان کو نفس کی خواہشات ستاتے رہتی ہے۔ جس سے وہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ اسی لیے حدیث میں کہا گیا کہ پہلے اپنے نفسانی خواہشات پر کنٹرول کریں۔ چناں چہ اسی ضمن میں نفس کی قسمیں بتائ گئ ہے جو سات ہیں ۔ اولا نفس امارہ کا ذکر ہے ،جو انسان کو سب سے زیادہ گناہوں کی طرف راغب کرتا ہے۔ اور دنیاوی مفادات کی طرف آمادہ کرتا ہے، جو سراب اور دھوکہ کے سوا کچھ نہیں۔ نفس امارہ انسان کو جھوٹی شان و شوکت اور ریاءکاری ،خودنمائ ،اور دنیا کے گلیمر پر توجہ کا مرکز بناتا ہے۔ جس سے عاقبت خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ نفس امارہ انسان کی عبادتوں ،اور مجاہدوں میں خلل انداز ہوتا ہے۔ چناں چہ نفس امارہ کی شرر سے اجتناب بہت ضروری ہے۔ نفس لوامہ ، سے آدمی اپنے قلب میں حساسیت اور ایک نور سا محسوس کرتا ہے۔ جس سے مجاہدات، ریاضیات اور عبادات میں شغف اور سکون سا محسوس کرتا ہے۔ اگر آدمی سے کوئ غلطی سرزد ہوجاے، تو نفس لوامہ اسے ملامت کرتا ہے،اور روکتا ہے۔ اللہ نے ایمان والوں کا ذکر کیا ہے۔ کامل ترین اور نیک بندے جب اللہ کو یاد کرتے ہیں تو ان کے قلوب کانپ جاتے ہیں، اور جب قرآن کریم کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ نفس ملھمہ جب انسان پر آشکارہ ہوتا ہے ،تو انسان کی اندرونی کیفیت بدل جاتی ہے۔ وہ حق کا علمبردا اور اپنے دل و دماغ کو شفافیت والا پاتا ہے۔ جس سے اس کو اعلی مقام حاصل ہوتا ہے۔ اسی طرح نفس مطمئنہ یہ اللہ والوں کا نفس ہے،جس سے اللہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ ذیل میں مذکور ،نفس راضیہ، نفس مرضیہ ،اور نفس کاملہ ہیں جو نفس مطمئنہ ترجمانی کرتے ہیں۔ اس بات سے واضح ہوتا ہے کہ دل اور نفس مطمئنہ ایک بڑی دولت ہے۔ اور سائنسی ریسرچ کے بعد سائنس نے بھی یہ کہا ہے کہ ( Heart) دل صرف ایک لوتھڑے کا نام ہی نہیں، بلکہ وہ خون صاف کرنے کے ساتھ ایک سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اور ہم نماز میں بھی یہی دعا کرتے ہیں کہ اے رب ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدمی اور استحکام بخش۔ چناں چہ حدیث میں ہے، اللہ آپ کے مال اور صورتوں کو نہیں دیکھتا، بس وہ دل کی خالص نیتوں اور دلوں کی کیفیت کو دیکھتا ہے۔ اور زبان کو بھی فوقیت اور اہمیت حاصل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے ہر چیز کو اپنی جگہ پر ایک مقام عطا کیا ہے اور سسٹم کے تحت اپنی جگہ پر درست رکھا ہے۔ دل زبان اور عمل انسان کی زندگی کو کامیابی کی طرف راغب کرنے والے اعضاء ہیں۔ ہم پر کسی نے اگر کوئی احسان کیا ہو، تو فورا ہم اس کا دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں، اور زبان سے تشکر انہ الفاظ ادا کرتے ہیں۔ اللہ نے عقل سے کہا، کہ آپ دنیا میں انسان کے لیے بہت اہمیت اور افادیت کی حامل ہے۔ چنانچہ جب انسان کے سامنے داعی، حق کو پیش کریں تو اپنی عقل کی بنیاد پر اسے فورا قبول کریں۔ اگر انسان حق کو قبول نہ کرے، تو وہ دنیا کا سب سے بڑا مجرم ہے۔ کیونکہ حق کو قبول کرنا ہی خداے برتر کا احسان اور اس کا شکر ادا کرنے کے مترادف ہے کہ ہم پر حق ظاہر ہو تو ہم اس کو قبول کرلیں۔ انسان عقل کی بنیاد پر کیا اچھا اور کیا برا یہ محسوس کرتا ہے۔ وہ جان بوجھ کر جھلسانے والی آگ میں ہاتھ نہیں ڈالتا۔ تو پھر کیوں کر اللہ کی نافرمانی کرکے سزا کا مستحق ہوتا۔ جس چیز کے بارے میں ہمیں واقفیت نہیں ہے۔ اور جس چیز کو ہم نہیں جانتے اور نہ اس کا علم رکھتے،ایسے چیزوں کے تعاقب اور فراق میں نہیں پڑنا چاہیے۔ کیونکہ اس سے متعلق کان، سے پوچھا جائیگا ،اور آنکھ سے بھی پوچھا جائیگا کہ کیا تونے دیکھا ہے۔ اور دل سے بھی سوال ہوگا۔کہ اے دل تونے محسوس کیا تھا؟ اللہ نے قرآن میں خیرو شر کا ذکر کیا ہے۔ سب سے پہلے آپ اپنے نفس سے کیا مناسب اور کیا نامنا سب ہے دریافت کریں۔ کیونکہ اللہ نے انسان کو مکلف بنایا ہے، اور عقل سلیم اور قلب سلیم عطا کیا ہے۔ چنانچہ بخاری شریف کی پہلی حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے، اعمال کا دارومدار نیتوں پر منحصر ہے۔ اگر کوئ اس بات پر بضد ہو کہ میں رزق حلال کمانے کے بجاے حرام کی طرف راغب ہے۔ تو پھر خداے برتر بھی اس کو حرام ہی کھلاے گا۔کوئ بھی اس کو حلال کے لقمہ پر آمادہ نہیں کرسکتا۔ اور جو یہ عزم اور نیت کرلے کہ میں اہل وعیال کو خالص کسب حلال سے ہی کفالت کروں گا۔ تو دنیا میں کوئ بھی نہیں کہ اس کے پیٹ میں حرام کا لقمہ ڈالے۔ وہی سجدہ ہے لائق اہتمام کہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرام۔ کیونکہ ہم اس خالق کائنات کے آگے سجدہ ریز ہوتے، تو اوروں کی چاپلوسی اور ان کے آگے سرخم کرنا ناجائز ہے۔ نفس مطمٔنہ اور قلب سلیم اس کی نفی کرتا ہے۔ اور خالق کائنات کے آگے سرخم اور سجدہ ریز ہونے کی دعوت سخن دیتا ہے۔ اوریہی نہیں بلکہ دیگر انسانی اعضاء سے بھی اللہ سوال کریگا۔ فرمان الہی ہے۔ الیوم نختم علی افواہہم و تکلمنا ایدیھم و تشھد ارجلھم بما کانوا یکسبون۔ اور اس دن اللہ منہ پر مہر لگادیگا، جو زبان سے کچھ کہ نہیں سکے گا۔ ہاتھ اور پیر گواہی دینگے جو وہ کرتے تھے. خدا نے انسان کی تخلیق کے ساتھ اس خوبصورت کائنات کو بنایا۔ ہمیں اس کا شکر ادا کرنا چاہیے ۔ اور اللہ کے نیک بندے بننے کی کوشش کرنا چاہیے۔ اللہ ہمیں نیک و صالح اور اس کی انگنت نعمتوں کا شکر ادا کرنے والوں میں شامل فرما۔ آمین
Comments
Post a Comment