مزدوروں کی بستی شاہونگر میں اردو کی شمع روشن رہے گی - "کارپوریٹر ارشین کھاٹک کے عزم کو “ایکتا” تنظیم کا تعاون" عقیل خان بیاولی جلگاؤں
مزدوروں کی بستی شاہونگر میں اردو کی شمع روشن رہے گی -
"کارپوریٹر ارشین کھاٹک کے عزم کو “ایکتا” تنظیم کا تعاون"
عقیل خان بیاولی جلگاؤں
“علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب…”
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، تہذیب اور شناخت کی بنیاد ہوتی ہے۔ مگر افسوس کہ آج بھی ہمارے معاشرے کی کئی غریب اور محنت کش بستیاں ایسی ہیں جہاں تعلیم کا چراغ پوری روشنی کے ساتھ نہیں جل پا رہا۔ شاہونگر کی مزدور بستی بھی انہی علاقوں میں شمار کی جاتی ہے جو سماجی، معاشی اور تعلیمی اعتبار سے پسماندگی کا شکار رہی ہے۔
اگرچہ یہاں میونسپل کارپوریشن کی اردو میڈیم اسکول کی ایک شاندار عمارت موجود ہے، مگر بدلتے وقت کے ساتھ سرکاری اسکولوں سے عوام کی دوری ایک سنجیدہ مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ صاحبِ حیثیت افراد اپنے بچوں کو نجی تعلیمی اداروں میں داخل کرا لیتے ہیں، لیکن غریب اور متوسط طبقے کے بے شمار بچے معیاری تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہی وہ تشویشناک صورتحال ہے جس نے سماجی ذمہ داران کو غور و فکر پر مجبور کیا ہے۔ اسی احساسِ ذمہ داری کے تحت وارڈ کی کارپوریٹر ارشین کھاٹک نے حال ہی میں مقامی اردو میڈیم اسکول میں ایک خصوصی اجلاس اور تعلیمی بیداری پروگرام کا انعقاد کیا، جس کا بنیادی مقصد میونسپل اردو اسکولوں میں طلبہ کی تعداد میں اضافہ اور اردو تعلیم کو فروغ دینا تھا۔ اس موقع پر میونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی کمشنر پنکج گوساوی، اسکول بورڈ کے انتظامی افسر خلیل شیخ، ایکتا تنظیم کے کوآرڈینیٹر فاروق شیخ، رکن نجم الدین شیخ، ہیڈماسٹر آصف سر، حافظ سر، سماجی کارکن ہتیندر ٹیکوڈے، گنیش جادھو، نورانی مسجد کے یعقوب خان، یاسین بھائی سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ متعدد ذمہ دار شخصیات موجود تھیں۔
اجلاس میں اس بات پر گہری تشویش ظاہر کی گئی کہ اردو میڈیم اسکولوں میں بچوں کی تعداد مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ مقررین نے کہا کہ اگر آج تعلیم کی فکر نہ کی گئی تو آنے والی نسلیں اپنی زبان، تہذیب اور شناخت سے دور ہو جائیں گی۔
اجلاس میں خاص طور پر اس موضوع پر تفصیلی گفتگو کی گئی کہ “اسکولوں میں بچوں کی تعداد کیسے بڑھائی جائے؟” اس سلسلے میں فیصلہ لیا گیا کہ گھر گھر جاکر والدین سے ملاقات کی جائے گی، انہیں اردو تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے گا اور میونسپل اردو اسکولوں میں دستیاب سہولیات، بہتر تعلیمی ماحول اور معیاری تدریس کے تعلق سے عوام کا اعتماد بحال کیا جائے گا۔ ذمہ داران نے اس بات پر زور دیا کہ صرف عمارتیں تعمیر کر دینے سے قومیں ترقی نہیں کرتیں، بلکہ جب اسکولوں میں بچوں کی آوازیں گونجتی ہیں، تعلیم کا چرچا عام ہوتا ہے اور علم کی روشنی ہر گھر تک پہنچتی ہے، تبھی حقیقی ترقی ممکن ہوتی ہے۔اس موقع پر ایکتا تنظیم کے کوآرڈینیٹر فاروق شیخ نے اپنے خطاب میں کہا: “اردو اسکولیں صرف تعلیم کے مراکز نہیں بلکہ ہماری تہذیب، ادب اور شناخت کی امانت ہیں۔ اگر آج سماج نے ان اسکولوں کی فکر نہ کی تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔”
انہوں نے اعلان کیا کہ جلد ہی خصوصی عوامی بیداری مہم شروع کی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کا داخلہ میونسپل اردو اسکولوں میں یقینی بنایا جا سکے۔ اسکول بورڈ کے انتظامی افسر اور گٹ شکشن ادھیکاری خلیل شیخ اور ڈپٹی کمشنر پنکج گوساوی نے یقین دہانی کرائی کہ میونسپل کارپوریشن تعلیم کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔ انہوں نے اس بات کو خوش آئند قرار دیا کہ نئے تعلیمی سال اور داخلہ مہم سے قبل ہی “مشن ایڈمیشن” کے تحت اس طرح کی بیداری میٹنگ کا انعقاد عمل میں آیا، جو یقیناً مثبت نتائج کا سبب بنے گا۔ آج کے دور میں جب تعلیم محض ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ بنتی جا رہی ہے، شاہونگر سے اٹھی یہ آواز معاشرے کے لیے امید کی نئی کرن ہے۔ یہ صرف اردو اسکولوں کو بچانے کی کوشش نہیں بلکہ غریب اور محروم بچوں کے مستقبل کو روشن کرنے کی ایک سنجیدہ اور اجتماعی تحریک ہے۔
اجلاس کے اختتام پر تمام ذمہ داران نے اس عزم کا اعادہ کیا: “علم کی روشنی ہر گھر تک پہنچانی ہے،
اردو تعلیم کی شمع ہر حال میں جلانی ہے…”
واقعی یہ اقدام قابلِ ستائش ہے اور اس مشن سے وابستہ تمام سماجی تنظیمیں، تعلیمی ادارے اور کارکنان مبارکباد کے مستحق ہیں کہ وہ آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے عملی میدان میں سرگرمِ عمل ہیں۔
Comments
Post a Comment