افسانچہ۔ - حور کا چکر - از قلم : محمود علی لیکچرر۔


افسانچہ۔ - حور کا چکر - 
از قلم : محمود علی لیکچرر۔

مولوی نعمت اللہ صاحب جنت کے موضوع پر تقریر فرما رہے تھے۔
سامنے بیٹھے نوجوانوں کی آنکھوں میں چمک تھی، اور بوڑھے بھی داڑھیوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے خاموشی سے سن رہے تھے۔
“جنت میں ایسی حوریں ہوں گی کہ اگر دنیا میں جھانک لیں تو سورج کی روشنی ماند پڑ جائے
پچھلی صف میں بیٹھا بشیر یہ سنتے ہی سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔
اس کی زندگی میں نہ اچھی نوکری تھی، نہ اچھا گھر، نہ شادی۔
دنیا نے اسے ہمیشہ دھکے دیے تھے، اس لیے اس نے سوچ لیا تھا کہ اصل مزہ تو مرنے کے بعد ہی ہے۔
اُسی دن سے وہ ہر نیکی کے پیچھے ایک عجیب حساب لگانے لگا۔
نماز پڑھی؟
“چلو ایک حور تو پکی!”
روزہ رکھا؟
“دو مزید شامل!
کبھی کسی فقیر کو دس روپے دیتا تو دل میں کہتا:
“بھائی، جنت میں محل بڑا ہونا چاہیے۔”
لوگ اللہ کی رضا کے لیے عبادت کرتے تھے، مگر بشیر کا سارا زور “حوروں کے پیکج” پر تھا۔
وقت گزرتا گیا۔
ایک دن محلے میں ایک بوڑھا درویش آیا۔
سادہ کپڑے، خاموش آنکھیں، اور لہجے میں عجیب سکون
بشیر نے فوراً سوال داغ دیا:
“بابا جی، سنا ہے جنت میں حوریں بہت خوبصورت ہوں گی؟”
درویش نے مسکرا کر پوچھا:
“تم جنت چاہتے ہو یا صرف حوریں؟
بشیر ہنس پڑا۔
“دونوں! مگر اصل کشش تو وہی ہیں نا!”
درویش نے قریب پڑی ٹوٹی ہوئی چارپائی پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا:
“بیٹا، جس انسان کی ساری عبادت صرف خواہش کے گرد گھومتی ہو، وہ دنیا سے نکلا ہی کب؟
صرف جگہ بدلتی ہے، دل نہیں بدلتا۔”
بشیر خاموش ہوگیا۔
درویش بولا:
“کچھ لوگ جنت میں اللہ کی قربت ڈھونڈتے ہیں، اور کچھ صرف اپنے نفس کی نئی رہائش۔”
یہ جملہ سیدھا بشیر کے دل میں اتر گیا۔
اس رات پہلی بار اُس نے حساب لگائے بغیر نماز پڑھی۔
پہلی بار دعا میں حوروں کا تصور نہیں آیا۔
پہلی بار وہ خاموش بیٹھا صرف یہ سوچتا رہا کہ اگر جنت واقعی اللہ کی رضا کا نام ہے، تو شاید وہاں پہنچنے والوں کے دل بھی بدل چکے ہوں گے۔
صبح محلے والوں نے دیکھا، بشیر مسجد کے باہر بیٹھا مسکرا رہا تھا۔
کسی نے پوچھا:
“کیا بات ہے؟ آج بڑے خوش لگ رہے ہو!
بشیر نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ جواب دیا
“بس بھائی
حور کا چکر کچھ کم ہوگیا ہے،
اب ذرا جنت سمجھنے کی کوشش کررہا ہوں۔”
“اب مجھے جنت میں اللہ کے سائے میں اطمینان سے رہنا ہے،
وہاں حوروں کے سائے میں نہیں
بشیر نے یہ جملہ آہستہ سے کہا تو درویش کی آنکھوں میں نمی سی آگئی
وہ بولا
“بیٹا، انسان کی عبادت کا سفر بھی عجیب ہے۔
شروع میں وہ نعمتوں کے لیے سجدہ کرتا ہے،
پھر خوف سے کرتا ہے،
اور آخر میں صرف اُس ذات کے لیے جھکتا ہے
جس کے سامنے دل کو سکون ملتا ہے۔
ہوا میں عصر کی اذان تیر رہی تھی۔
بشیر نے آسمان کی طرف دیکھا۔
پہلی بار اسے جنت ایک باغ، محل یا حور کا نام نہیں لگی؛
بلکہ ایک ایسی جگہ محسوس ہوئی
جہاں دل کے سارے شور ختم ہوجائیں
اور انسان اپنے رب کی رحمت میں خاموشی سے ٹھہر جائے۔
وہ مسکرایا اور بولا اچانک خاموش ہو گیا ایسا لگا کے وہ ماضی کے جھروکے اس کچھ سوچنے پر مجبور کر رہیے ہیں اس نے انجیل بھی پڑھی تھی اس کو کچھ عیسائی عقیدے کے مطابق جنت اصل میں خدا کے قرب، محبت اور دائمی سکون کی جگہ ہے۔
یعنی انسان کی سب سے بڑی نعمت “خدا کے ساتھ ہونا” ہے، نہ کہ جسمانی لذتیں
اسی رات بشیر نے ایک خواب دیکھا اسی رات بڑے بڑے صوفیا اکرام جن میں 
 حسن بصری با ایزید بسطامیؒ جنید بغدادیؒ 
مولانا جلال الدین رومیؒ
فرید الدین عطارؒ
عبدالقادر جیلانیؒ
نظام الدین اولیاؒ
 بلھے شاہؒ شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ
خواجہ معین الدین چشتیؒ
اور بھی کئی صوفیا اور اپس میں محوے گفتگو ہیں صبح کو جب وہ نیند سے جاگا تو اسکو کافی مشقت کے بعد خواب یاد ایا گویا وہ تمام کا مطمحِ نظر ایک تھا ان صوفیوں میں ایک مشترک بات یہ تھی کہ “عبادت کا اعلیٰ درجہ وہ ہے جہاں بندہ انعام سے زیادہ ‘منعم’ یعنی اللہ کو چاہنے لگے
ایسے بہت سے صوفیا گزرے ہیں جنہوں نے عبادت کو صرف جنت، حور یا دنیاوی و اخروی لذتوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ “قربِ الٰہی” کو اصل مقصد کہا۔
“دنیا میں خواہشیں بہت تھکا دیتی ہیں بابا جی
اب بس ایسی جنت چاہیے
جہاں دل کو خدا مل جائے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔