مرثیۂ بشیر بدر۔ ازقلم : سلیمان ، مشفق سولاپوری۔
مرثیۂ بشیر بدر۔
ازقلم : سلیمان ، مشفق سولاپوری۔
چراغِ بزمِ سخن، آفتابِ ذوقِ جمال
بجھا تو رو پڑے اربابِ فکر و اہلِ خیال
فروغِ نغمۂ جاں، عندلیبِ شہرِ سخن
ہوا ہے آج سرِ بزمِ آرزو پامال
لبوں پہ نرمیِ باراں، نگاہ میں شبنم
مزاج اُس کا سراپا وقار و حسنِ خصال
وہ اپنے درد کو تہذیب دے کے لکھتا تھا
وہ اپنے غم کو بناتا تھا باعثِ اجلال
کبھی شبِ غمِ ہستی کا تذکرہ ایسا
کہ اشک پڑھتے تھے خود اپنی داستانِ ملال
عجیب طرزِ تکلّم، عجب ادا اُس کی
کلام جیسے دعائے سحر، نوائے بلال
وہ اپنے عہد کی تنہائیوں کا محرم تھا
وہ دل شکستہ زمانوں کا آخری ہم حال
اب اُس کے بعد کہاں وہ لطافتِ گفتار
کہاں وہ سادگیِ دل، کہاں وہ حسنِ مقال
خدا کرے کہ ملے اُس کو سایۂ رحمت
کہ جس نے بانٹے تھے دنیا میں خوابِ حسن و وصال
رہے گا زندہ وہی اپنے دلنشیں فن میں
بشیرؔ مر نہیں سکتا، یہ ہے محال، محال
Comments
Post a Comment