سفرنامہ: عمرکھیڑ سے کوکم ٹھان (تعلقہ کوپر گاؤں)تربیت، تگ و دو اور توبہ استغفار کا ایک یادگار سفر۔۔ از قلم: عثمان احمد(مدرس ڈاکٹر اقبال نگر پریشد اردو گرلز مڈل اسکول عمر کھیڑ ضلع ایوت محل)
سفرنامہ: عمرکھیڑ سے کوکم ٹھان (تعلقہ کوپر گاؤں)
تربیت، تگ و دو اور توبہ استغفار کا ایک یادگار سفر۔
از قلم: عثمان احمد(مدرس ڈاکٹر اقبال نگر پریشد اردو گرلز مڈل اسکول عمر کھیڑ ضلع ایوت محل)
7 مئی 2026 کو جب سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا، عمرکھیڑ (ضلع ایوت محل) میں گرمی کی چھٹیاں صرف نام کی تھیں۔ ایک طرف ڈاکٹر اقبال نگر پریشد اردو گرلز مڈل اسکول میں جماعت ہفتم کی معلمی کی ذمہ داریاں، تو دوسری طرف اپنے صدر مدرس اور کیندر پرمکھ راحت روشن انصاری صاحب کے ساتھ دفتری کاموں میں ہاتھ بٹانا۔ SIR میپنگ، الیکشن ڈیوٹی اور مردم شماری جیسے اہم سرکاری کاموں کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے کہ اچانک دوسری، تیسری اور چوتھی جماعت کی نصابی تبدیلی کی تربیت کا بلاوا آ گیا۔
سفر کا آغاز: ناندیڑ سے اورنگ آباد
سفر کا آغاز عمرکھیڑ سے ناندیڑ تک بس کے ذریعے ہوا۔ ناندیڑ پہنچے تو ریلوے اسٹیشن پر انسانی سروں کا ایک سمندر یعنی 'جم غفیر' ہمارا منتظر تھا۔ جیسے تیسے اورنگ آباد پہنچے اور وہاں سے شرڈی کے لیے بس پکڑی۔ نقشے پر 100 کلومیٹر کا فاصلہ دیکھ کر گمان ہوا کہ ڈیڑھ گھنٹے میں منزل مقصود پر ہوں گے، لیکن جب بس کا ٹکٹ ہاتھ میں آیا تو ہوش ٹھکانے لگ گئے؛ پورے 22 اسٹاپس! میں نے دل ہی دل میں خود کو 'وظیفہ' پر مامور سمجھا اور صبر و شکر کے ساتھ دورانِ سفر نیکیوں کا ذخیرہ جمع کرنا شروع کر دیا۔
شرڈی کی رونق اور 'جنگلی مہاراج' کا معمہ
رات کے ساڑھے نو بجے، خدا خدا کر کے شرڈی بس اسٹینڈ پہنچے۔ شہر کی چکا چوند روشنیاں آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھیں۔ معلوم ہوا کہ آگے ٹریفک جام ہے، لہذا ایک پرائیویٹ کیب (ٹیکسی) کا سہارا لیا۔ کیب میں سواریاں اس طرح بھری گئی تھیں جیسے کوئی گنجائش باقی نہ ہو۔ اسی اثناء میں ایک ضروری فون کال آ گئی، جس کی گفتگو میں ایسا محو ہوا کہ اپنا اسٹاپ 'کوکم ٹھان' پیچھے رہ گیا۔
جب گاڑی رکی اور میں نے اپنے اسٹاپ کا پوچھا تو ڈرائیور نے کمالِ بے نیازی سے کہا:
"صاحب! وہ تو پیچھے رہ گیا۔ میں نے چیخ کر کہا تھا کہ 'جنگلی مہاراج' آ گیا، وہی آپ کا اسٹاپ تھا۔"
مجھے کیا معلوم تھا کہ عظیم الشان اتما ملک تعلیمی ادارے کو مقامی طور پر اس نام سے پکارا جاتا ہے! خیر، توبہ استغفار کا ورد کرتے ہوئے دوسری سواری پکڑی اور بالآخر پیاس سے نڈھال حالت میں 'اتما ملک تعلیمی ادارہ' کی دہلیز پر قدم رکھا۔
اتما ملک ادارہ: قیام و طعام کا احوال
وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ میں رات کا کھانا کھانے والا آخری خوش نصیب (یا بد نصیب) فرد ہوں۔ دوڑے بھاگے میس پہنچے اور جو کچھ بچا کھچا تھا اسے غنیمت جان کر پیٹ کی آگ بجھائی اور خدا کا شکر ادا کیا۔
رہائش کا حال یہ تھا کہ ایک کمرے میں 8 سے 10 اصحاب مقیم تھے۔ چونکہ یہ ایک رہائشی ادارہ ہے، اس لیے سہولیات بچوں کے معیار کے مطابق تھیں۔ کمرے میں ایک عدد سیلنگ فین (پنکھا) تھا، جو باری باری سب کو ہوا فراہم کرنے کی 'ناکام' کوشش کر رہا تھا۔ جب تک پنکھے کا رخ میری طرف ہوتا، مچھر میرا حال احوال پوچھ کر رخصت ہو چکے ہوتے۔ غسل خانے اور دیگر ضروریات کے لیے ایک دوسرے کا لحاظ کرنا اخلاقیات کا سب سے بڑا امتحان تھا۔
تعلیمی کیمپس اور تربیتی سیشن
یہ ادارہ اپنی وسعت اور صفائی کے لحاظ سے بے مثال ہے۔ 8 سے 10 ایکڑ پر پھیلا ہوا کیمپس، چار منزلہ عمارت، ڈیجیٹل کلاس رومز اور کھیلوں کے وسیع میدان دیکھ کر خوشی ہوئی۔ یہاں پہلی سے بارہویں تک تقریباً 10 ہزار بچے زیر تعلیم ہیں۔
تربیت کا شیڈول کافی سخت تھا:
صبح 8-9 بجے: ناشتہ
صبح 9 سے شام 7 بجے: تربیتی سیشن (ماہر اساتذہ کی زیر نگرانی)
دوپہر 2-3 بجے: طعامِ ظہرانہ
شام 4 بجے: چائے (جو تھکاوٹ دور کرنے کا واحد سہارا تھی)
الوداع کوکم ٹھان: واپسی کی راہ
11 مئی 2026 کو تربیت مکمل ہوئی اور مجھے اس دعا اور نیک خواہشات کے ساتھ روانہ کیا گیا کہ اب میں ضلعی سطح پر دوسروں کو تربیت دوں۔ رخصت ہوتے وقت انتظامیہ نے کہا: "ضرورت پڑی تو پھر ملیں گے"، مگر میرے دل سے بے اختیار دعا نکلی کہ "یا اللہ! اب یہاں دوبارہ نہ لانا"، کیونکہ وہاں عمرکھیڑ میں 'مردم شماری' کے ادھورے کام میرا بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔
یہ سفر تھکا دینے والا ضرور تھا، لیکن اپنے ساتھ تجربات کا ایک نیا جہاں اور یادوں کا ایک وسیع ذخیرہ لے کر آیا۔دوران چار روزہ تربیت 8 مئی 2026 سے 11 مئ 2026 کو نئے تجربات سیکھنے کو ملے ، ماہر اساتذہ اکرام باری باری آ کر PPT پر بہترین انداز میں پیش کرتے اور تمام ہی مضمون کا باریک بینی سے جائزہ لے کر تعلیمی میدان میں وقوع پزیر تبدیلیوں کو بیان کرتے ، 1968 سے لے کر ابھی تک تینوں قومی پالیسیوں کا موازنہ کرتے اور نیا نصاب کس طرح نئ سوچ و فکر کے ساتھ تمام مضامین کا ادراک تمام بچوں کے لیے مفید اور کارگر ثابت ہو سکتا ہے اس پر نئے تدریسی تجربات کر کے بتائے گئے ۔
اختتامیہ تقریب میں SCERT PUNE کے عزت مآب عالی جناب ڈاکٹر ہیمنت وسیکر صاحب نے نئ تعلیمی پالیسی کے بدلاؤ کے ساتھ اساتذہ کے طریقہ تدریس میں بدلاؤ کو وقت کی اشد ضرورت قرار دیا اور سب ہی کو نیک خواہشات کے ساتھ الوداع کہا ۔
وہ تو خدا خیر کرے ہمارے رفیق عبدالرحمن کو اطلاع ملی کے میں ناندیڑ تک سواری کا متلاشی ہوں ۔ انھوں نے فون کر مجھے اپنے ہمراہ انے کی دعوت دی ۔ پھر کیا اندھے کو کیا چاہیے دو آنکھیں ۔ پھر ہمارا واپسی کا سفر شروع ہوا اور آن کی آن میں ہم اپنی منزل مقصود تک پہنچ گئے اور
بالآخر 12 مئی 2026 کی شب ہمیں اپنے شہر عمرکھیڑ میں نصیب ہوئی۔ گھر پر اپنے بچوں کو کے بیچ خود کو پا کر خداوند کا شکر ادا کیا ۔
از قلم: عثمان احمد ڈاکٹر اقبال نگر پریشد اردو گرلز مڈل اسکول عمر کھیڑ ضلع ایوت محل
Comments
Post a Comment