موجودہ نسل کی بے حیائی — اصل بحران تربیت کا ہے - ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔


موجودہ نسل کی بے حیائی — اصل بحران تربیت کا ہے - 
ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔ 
M A M Ed 
8904317986
آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، وہاں اکثر زبانوں پر ایک ہی شکوہ سنائی دیتا ہے کہ “نئی نسل بے راہ روی اور بے حیائی کا شکار ہو گئی ہے۔”
مگر اگر اس مسئلے کو صرف ظاہری رویّوں تک محدود کر کے دیکھا جائے تو شاید ہم اصل بیماری کو سمجھ ہی نہ پائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ نسل کی بے حیائی کوئی اچانک پیدا ہونے والا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ہماری اجتماعی غفلت، کمزور تربیت، بدلتی ترجیحات اور بگڑے ہوئے ماحول کا نتیجہ ہے۔
پہلے گھروں میں اولاد کی تربیت کو سب سے بڑی ذمہ داری سمجھا جاتا تھا۔ والدین صرف یہ فکر نہیں کرتے تھے کہ بچہ کھا پی رہا ہے یا نہیں، بلکہ یہ بھی سوچتے تھے کہ اس کے دل میں اللہ کا خوف، بڑوں کا ادب اور حیا کی روشنی پیدا ہو رہی ہے یا نہیں۔
آج صورتِ حال بدل چکی ہے۔
اب والدین کی دوڑ زیادہ تر اچھی نوکری، اعلیٰ ڈگری، مہنگے موبائل، جدید اسکول اور دنیاوی کامیابیوں تک محدود ہو گئی ہے۔ کردار سازی، اخلاق اور دینی شعور پیچھے رہ گئے ہیں۔
نتیجہ یہ نکلا کہ:
بچے تعلیم یافتہ تو ہو گئے، مگر باادب نہیں۔
ذہین تو بن گئے، مگر باحیا نہیں۔
معلومات (Information) تو بہت حاصل کر لیں، مگر حکمت اور شعور سے محروم رہ گئے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا”
“اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔”
— سورۃ التحریم: 6
یہ آیت اس بات کی واضح یاد دہانی ہے کہ اولاد کی تربیت صرف دنیاوی کامیابی تک محدود نہیں بلکہ ان کے ایمان، اخلاق اور کردار کی حفاظت بھی والدین کی ذمہ داری ہے۔
اصل مسئلہ کیا ہے؟
اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ بچے بگڑ رہے ہیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ:
بچوں کے پاس آزادی بہت ہے، مگر حدود واضح نہیں۔
سہولیات بہت ہیں، مگر نگرانی کم ہے۔
سوشل میڈیا بہت ہے، مگر حقیقی رہنمائی نہیں۔
دوستوں کی محفلیں ہیں، مگر والدین کی صحبت نہیں۔
آج کا بچہ موبائل سے دنیا بھر کی معلومات تو حاصل کر لیتا ہے، مگر یہ نہیں جان پاتا کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے ہاتھ میں اسمارٹ فون تو دے دیا گیا، مگر دل میں خوفِ خدا اور حیا نہیں ڈالی گئی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ”
“تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔”
— صحیح بخاری
یہ حدیث والدین کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے کہ اولاد صرف ایک نعمت نہیں بلکہ ایک امانت بھی ہے۔
بے حیائی کیوں بڑھ رہی ہے؟
آج میڈیا، فلمیں، ڈرامے اور سوشل میڈیا ایسی فضا بنا رہے ہیں جہاں بے حیائی کو “ماڈرن ازم” اور بے باکی کو “اعتماد” سمجھ لیا گیا ہے۔
حیا، پردہ، شرم اور سادگی جیسی خوبیاں بعض لوگوں کی نظر میں “پرانے خیالات” بن چکی ہیں۔
حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“إِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الْإِيمَانِ”
“بے شک حیا ایمان کا حصہ ہے۔”
— صحیح مسلم
جب حیا ختم ہوتی ہے تو پھر آہستہ آہستہ انسان کے اندر سے نیکی کی حساسیت بھی ختم ہونے لگتی ہے۔
اسی لیے آج برائی کو برائی سمجھنے کا احساس کمزور پڑتا جا رہا ہے۔
والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری
آج والدین کو صرف “خرچ کرنے والے” نہیں بلکہ “رہنمائی کرنے والے” بننے کی ضرورت ہے۔
والدین کو چاہیے کہ:
بچوں کے ساتھ وقت گزاریں۔
ان کے دوستوں اور عادات پر نظر رکھیں۔
ان کے سوالات کو سنیں۔
سختی کے بجائے حکمت سے سمجھائیں۔
گھر میں نماز، قرآن اور دینی ماحول قائم کریں۔
خود اپنی زندگی کو بچوں کے لیے عملی نمونہ بنائیں۔
کیونکہ:
بچے نصیحت سے کم، کردار سے زیادہ سیکھتے ہیں۔
اگر باپ خود جھوٹ بولے اور بچے کو سچائی سکھائے،
یا ماں خود بے پردگی کرے اور بیٹی کو حیا کا درس دے —
تو ایسی نصیحت دل میں اثر پیدا نہیں کرتی۔
اصلاح کا راستہ
صرف تنقید سے معاشرہ نہیں بدلتا، اصلاح سے بدلتا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ:
گھروں کو دینی تربیت کا مرکز بنائیں۔
بچوں کے دل میں اللہ کی محبت پیدا کریں۔
موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال میں اعتدال پیدا کریں۔
بچوں کو اچھا ماحول اور نیک صحبت فراہم کریں۔
اور سب سے بڑھ کر ان کے لیے دعا کریں۔
حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
“يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنكَرِ”
“اے میرے بیٹے! نماز قائم کرو، نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو۔”
— سورۃ لقمان: 17
یہی ایک صالح باپ کا اندازِ تربیت ہے۔
آخری بات
یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ:
اگر ہم نے اپنی اولاد کی صحیح تربیت نہیں کی،
تو دنیا خود انہیں اپنے انداز میں تربیت دے دے گی۔
اور دنیا کی وہ تربیت شاید ہمارے ایمان، تہذیب اور اقدار کے لیے نقصان دہ ہو۔
لہٰذا آج وقت کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی نسلوں کو صرف ڈگریاں نہیں بلکہ کردار دیں، صرف کامیابی نہیں بلکہ حیا دیں، صرف سہولتیں نہیں بلکہ صحیح سمت بھی دیں۔
کیونکہ:
والدین سنور جائیں تو نسلیں سنور جاتی ہیں۔
اور گھر مضبوط ہو تو معاشرہ خود بخود مضبوط ہو جاتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔