کہانی۔ - غریب کی بے بسی، قصور کس کا؟۔ از قلم: رہبر تماپوری۔


 کہانی۔ -  غریب کی بے بسی، قصور کس کا؟
از قلم: رہبر تماپوری۔

ریاض ایک بڑے شہر میں رہتا تھا۔ اچھی ملازمت تھی، پکا مکان تھا، اور ہر سہولت میسر تھی — مگر دل تھا کہ بار بار اپنے چھوٹے سے گاؤں کی گلیوں میں بھٹکتا رہتا تھا۔ اسی گاؤں میں اس کا بچپن کا دوست اظہر رہتا تھا، جس کے گھر میں غربت نے ڈیرہ ڈال رکھا تھا۔

ایک دن اظہر نے فیصلہ کیا کہ اب گاؤں میں بیٹھ کر تقدیر کا رونا رونے سے کچھ نہیں ہوگا۔ وہ اپنے بوڑھے والدین کی خاطر شہر کی طرف چل پڑا، آنکھوں میں امید لیے اور دل میں ڈر چھپائے۔

جب اظہر شہر پہنچا تو ریاض کام کی مصروفیت میں ڈوبا ہوا تھا۔ دنوں میں ملاقات ہوئی، مگر وہ ملاقات نہ تھی — محض چند الفاظ کا تبادلہ تھا۔ اظہر اکیلا کمرے میں بیٹھا رہتا، تنہائی اسے کھائے جاتی۔ ہر مہینے گاؤں پیسے بھیجتا، مگر خود بھوکا رہتا — نہ پیٹ کی بھوک، بلکہ اپنائیت کی بھوک۔

پھر ایک شام ریاض نے اظہر کا چہرہ غور سے دیکھا۔ آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی، ہونٹوں پر جھوٹی مسکراہٹ، اور کندھے جھکے ہوئے — جیسے کوئی بوجھ اٹھاتے اٹھاتے تھک گیا ہو۔

ریاض نے پوچھا: "یار، سچ بتاؤ، کیا ہوا ہے؟"

اظہر کی آنکھیں بھر آئیں۔ بولا: "ریاض، گاؤں میں غربت تھی، مگر سکون تھا۔ یہاں روٹی ہے، مگر چین نہیں۔ لگتا ہے اس شہر میں سب کچھ ہے — بس انسان نہیں۔"

یہ الفاظ ریاض کے دل میں اتر گئے۔ اسے احساس ہوا کہ وہ خود بھی اسی بھیڑ کا حصہ بن گیا تھا جو سب کچھ دیکھتی ہے مگر محسوس کچھ نہیں کرتی۔

اگلے دن ریاض نے اظہر کو ڈاکٹر کے پاس لے گیا، اس کی دوا کا بندوبست کیا، اور اسے اپنے گھر میں جگہ دی۔ اظہر نے کہا: "قصور غربت کا نہیں تھا — قصور اس بے حسی کا تھا جو ہمیں ایک دوسرے سے دور کر دیتی ہے۔"

ریاض نے مسکرا کر جواب دیا: "اور اصل امیری وہ ہے جو کسی کو تنہا نہ چھوڑے۔"
---
شہر کی چمک دمک اور دولت سکون نہیں دیتی۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم اپنے آس پاس کے لوگوں کا درد پہچانیں، اور بروقت ان کے کام آئیں — کیونکہ انسانیت سب سے بڑی دولت ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔