ایک تازہ غزل - از ابوذر صفدر نریاؤں امبیڈکر نگر۔
ایک تازہ غزل -
از ابوذر صفدر نریاؤں امبیڈکر نگر۔
کھنکتی شور کرتی چوڑیاں غزلیں سناتی ہیں
کسی زہرہ جبیں کی شوخیاں غزلیں سناتی ہیں
تمناؤں بھری شب میں مجھے خاموش لہجے میں
کسی کے آنکھ کی مخموریاں غزلیں سناتی ہیں
وہ لمحہ خلد سے کچھ کم نہیں سسرال میں جس دم
کسی جیجا کو اس کی سالیاں غزلیں سناتی ہیں
بوقت صبح خوش رنگ و ادا پھولوں کے محفل میں
مچل کر رقص کرکے تتلیاں غزلیں سناتی ہیں
سمندر میں نہانے کے لیے جب وہ اترتی ہے
مسرت سے اچھل کر مچھلیاں غزلیں سناتی ہیں
کھلے سر چھت پہ بھیگے بال سے جس وقت آتی ہے
گھٹائیں رقص کرتی بدلیاں غزلیں سناتی ہیں
بڑے افسوس کی ہے بات اس دورِ جہالت میں
پکڑ کے عقل کو نادانیاں غزلیں سناتی ہیں
جہاں سچ بولنے پر لب سئے جاتے ہوں اے صفدر
وہاں مظلوم کی خاموشیاں غزلیں سناتی ہیں
Comments
Post a Comment