مراسلہ - جامعہ ملیہ اسلامیہ توجہ دے۔ ٹی این بھارتیی، سینئر جرنلسٹ ، نئ دہلی۔
مراسلہ -
جامعہ ملیہ اسلامیہ توجہ دے۔
ٹی این بھارتیی، سینئر جرنلسٹ ، نئ دہلی۔
مکرمی
اسکول کا زمانہ ختم ہوتے ہی طلبہ اعلی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے ہندوستان کی مختلف یونیورسٹیوں میں مقابلہ جاتی امتحانات میں حصہ لیتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں بلند مرتبہ جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں مقا بلہ جاتی امتحانات میں شرکت کے لئے اندرون ملک اور بیر ون ملک سے لاکھوں طلبہ جامعہ نگر اوکھلا میں قائم شدہ جامعہ سینئر سیکنڈری اسکول امتحان میں شرکت کے لئے جامعہ آتے ہیں تو طلبہ و طالبات اپنے والدین کی سر پرستی میں امتحان گاہ تک جاتے ہیں لیکن والدین کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے اور بزرگ والدین چلچلاتی دھوپ میں سڑک پر ہی اپنے نونہالو ں کا انتظار کرتے ہیں ۔
قابل فکر امر ہے کہ داخلہ جاتی امتحان میں لاکھوں روپیہ فیس جمع کرنے کے عوض بچوں کے بزرگ والدین کے لئے بیٹھنے کا معقول انتظام نہیں کیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ سینئر سیکنڈری اسکول کے باہر ریڑھی ٹھیلہ دکان دار کے سامان کی خرید و فروخت کرنے کے باعث سڑک پر ٹریفک جام ہو جاتا ہے ۔ عین اسی وقت دیگر اسکولوں کی چھٹی ہو تی ہے پرائیویٹ اسکولوں کی بسوں کو اور ڈی ٹی سی بس کے مسافروں کو دشواری ہوتی ہے بار ہا تو ایمبولینس کو ہی راستہ نہیں ملتا ہے ۔ باہر سڑک پر والدین شدت پیاس سے بے حال نظر آتے ہیں ۔ دہلی کے مختلف علاقوں اور بیرون دہلی سے تشریف لانے والے بچوں اور والدین کو پانی اور بیت الخلا کے لیے بھاگ دوڑ کر نا مشکل مرحلہ ہے ۔ لہذا جامعہ ملیہ اسلامیہ انتظامیہ سے مودبانہ گزارش ہے کہ والدین کے لئے اسکول کے گر او نڈ میں شامیانہ لگا کر دری کے ساتھ پانی کی سہولت مہیا کرے لیڈیز کے لئے ٹوائلٹ کا انتظام اشد ضروری ہے مرد حضرات تو کہیں بھی کھڑے ہو کر اپنی حاجت پوری کر لیتے ہیں خواتین کہاں جائیں؟ یا پھر انصاری آڈیٹوریم کو تین گھنٹے کے لیے کھول دیا جائے جہاں بزرگ والدین راحت کی سانس لے سکیں ریڑھی ٹھیلہ دکا نداروں کے لئے اسکول گیٹ سے الگ انصاری آڈیٹوریم کے گراونڈ میں جگہ کا انتظام کرنا چاہیے ۔ کیونکہ جامعہ کی تقریبات میں بھی گراونڈ میں اکثر دکان دار اپنا سامان فروخت کرتے ہیں دکانداروں کو اسٹال لگانے کی اجازت د ینا ضروری ہے بھوک پیاس سے بد حال والدین اور بچوں کے لئے کھانے کا انتظام کرنا جامعہ ملیہ اسلامیہ انتظامیہ کی ذمے داری ہے ۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کا سالانہ بجٹ 16. 538 کروڑ روپیہ خرچ کرتے وقت کچھ روپیہ بچوں اور ان کے والدین کے لئے بھی مختص کرنا چاہیے ۔ بچوں کو موسمی پھل ، ناریل پانی ، بسکٹ ، تقسیم کرنے کی جانب توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ بلا شبہ نسل نو کے کندھوں پر ہی ملک کا مستقبل منحصر ہے ۔ چنانچہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے چا نسلر اور وا ئس چا نسلر سے التماس ہے کہ اس جانب فوری طور پر کارگر قدم بڑھا کر شکریہ کا موقع دیں۔ عین نوازش ہوگی۔
خیر اندیش
ٹی این بھارتی
سینئر جرنلسٹ
نئ دہلی
رابطہ :
88022 54915
Comments
Post a Comment