ایندھن کی بچت بنی سیاسی سرکس۔ - ازقلم : وسیم رضا خان۔


ایندھن کی بچت بنی سیاسی سرکس۔
ازقلم : وسیم رضا خان۔

بھارتی سیاست میں اپیل اور عمل کے درمیان کی خلیج ہمیشہ سے ہی بحث کا موضوع رہی ہے۔ حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ایندھن بچانے کی اپیل کے بعد ملک نے جو منظر دیکھا، وہ سنجیدگی سے زیادہ کسی مزاحیہ ڈرامے جیسا معلوم ہوا۔ ایک طرف ملک کے مفاد میں وسائل کے تحفظ کی پکار تھی، تو دوسری طرف سڑکوں پر وی آئی پی کلچر اور دکھاوے کی وہ انتہا نظر آئی، جس نے اصل مقصد کی دھجیاں اڑا دیں۔
خود ساختہ رہنماؤں کے ایثار و قربانی کی تصاویر سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئیں، لیکن ان تصویروں کے پیچھے کی حقیقت مضحکہ خیز اور تشویشناک دونوں ہے۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس جب بائیک پر سوار ہو کر ودھان بھون پہنچے، تو شاید ان کا ارادہ سادگی کا پیغام دینا تھا۔ لیکن ستم ظریفی دیکھیے، اس ایک بائیک کے پیچھے درجنوں سیکورٹی اہلکاروں اور حامیوں کی پیٹرول سے چلنے والی موٹر سائیکلیں قطار در قطار تھیں۔ کیا ایک وزیر اعلیٰ کی بائیک سے بچایا گیا 500 ملی لیٹر پیٹرول، ان پیچھے چلنے والی 50 گاڑیوں کے ذریعے پھونکے گئے درجنوں لیٹر ایندھن کی تلافی کر سکتا ہے؟
نتن گڈکری کا بس میں سفر کرنا ایک اچھی سرخی تو بنا، لیکن بس کے آگے پیچھے دوڑتی افسران اور سیکورٹی فورسز کی گاڑیوں کی لمبی فوج نے اس ایکو فرینڈلی سفر کو ایک مہنگے انتظامی ڈرامے میں تبدیل کر دیا۔ ایک لیڈر کو الیکٹرک کار میں بیٹھتے دیکھا گیا، جو ماحول دوستی کی علامت مانی جاتی ہے۔ مگر ان کے پیچھے سیکورٹی کے نام پر چلنے والی 20 روایتی ایندھن والی گاڑیاں اس دعوے کا مذاق اڑا رہی تھیں۔
سب سے تلخ پہلو یہ ہے کہ یہ پورا واقعہ محض ایک دن کی نمائش بن کر رہ گیا۔ وزیر اعظم کی اپیل پر عمل کرنے کا یہ طریقہ صرف کیمروں کی چمک تک محدود رہا۔ جب تحفظ کا عزم صرف فوٹو شوٹ تک محدود ہو جائے، تو وہ قومی پالیسی نہیں بلکہ سیاست بن جاتا ہے۔ کیا واقعی ایک دن کی اس علامتی قربانی سے ملک کی معیشت کا گراف اوپر چڑھ سکتا ہے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ان علامتی دوروں کے انعقاد میں جتنا سرکاری عملہ، حفاظتی انتظامات اور وسائل خرچ ہوئے، اس نے بچائے گئے ایندھن کے مقابلے ملکی خزانے پر کہیں زیادہ بوجھ ڈالا ہوگا۔
ملک کی عوام اب اتنی ناسمجھ نہیں ہے کہ وہ سادگی کے ڈھونگ اور حقیقی اصلاحات کے درمیان فرق نہ سمجھ سکے۔ اگر وزیر اعظم کی اپیل کے تئیں رہنما سنجیدہ ہوتے، تو وہ تام جھام کم کرنے کی شروعات کرتے، نہ کہ سائیکل یا بس کو ایک ایونٹ کی طرح استعمال کرتے۔ ایندھن بچانا قومی مفاد کا معاملہ ہے، لیکن اسے ایک سماجی اور سیاسی ڈرامے میں بدل کر لیڈروں نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کے لیے عوامی مفاد سے بڑا 'دکھاوا' ہے۔ جب تک پالیسی سازوں کے طرز عمل میں تسلسل اور ایمانداری نہیں آئے گی، تب تک ایسی اپیلیں صرف انتخابی تقریروں اور ایک دن کے تماشے تک ہی محدود رہیں گی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔