مہاراشٹر میں خاکہ نگاری کی روایت کا جائزہ۔ ازقلم : ڈاکٹر تبسم آرا۔


مہاراشٹر میں خاکہ نگاری کی روایت کا جائزہ۔ 
ازقلم :  ڈاکٹر تبسم آرا۔

مہاراشٹر میں خاکہ نگاری کی روایت نہ صرف مقامی عوام کے لئے تفریح کا ذریعہ رہی ہے۔بلکہ سماجی شعور پَیدا کرنے اور سیاسی جدو جہد کو تقویت دینے میں بھی نمایاں رہی ہیں۔خاکہ نگاری انگریزی ادب کی دین ہے۔خاکہ کو انگریزی میں پروفائل۔ پین اسکیچ اور پین پورٹریٹ کہتے ہیں۔خاکہ میں سراپا نگاری کے ساتھ ساتھ شخصیت کی چلتی فرتی تصویر کشی کی جاتی ہے جسے پڑ کر قاری کے ذہن میں شخصیت پوری طرح اُبھر کر آئے۔ مصنف کو خاکہ نگاری کے لئے شخصی وابستگی ضروری ہے۔صِرف شخصی تعارف اور دو ایک ملاقات یا سنی سنائی باتوں اور فنکاروں کی مدد سے آدمی کی شخصیت واضح نہیں ہوتی۔اِس لئے خاکہ نگاری بھی نہیں کی جا سکتی ہے۔ بقول شاعر 
جب بھی دیکھا عالم نو میں دیکھا، فاصلہ طئ نہ ہوا تیری شناسائی کا* ۔نثار احمد فاروقی نے اپنے مضمون اُردو خاکہ نگاری میں خاکہ کی تعریف یوں کی ہے خاکہ کسی شَخص کا تعروف نہیں ہے۔چنانچہ خاکہ نگاری ایک ایسا فن ہے جو تاثرات،احساسات،اور واقعات کی مدد سے کھینچیں جانے والی وہ لفظی تفسیر ہے جو جیتی جاگتی چلتی پھرتی نظر آتی ہے۔شخصیت کی عکاسی میں سراپا نگاری،حلیہ نگاری کو بھی خصوصیات حاصل ہے۔خاکہ نگاری اِس کے ذریعے کم سے کم الفاظ میں موضوع کی قامت قد و قامت رنگ لباس اور وضع قطع کو اس طرح پیش کرتا ہے کہ ساری شخصیت نمایا ہو جاتی ہے۔ڈاکٹر خلیق انجم کا ماننا ہے کہ خاکہ کا فن بہت مُشکِل اور کٹھن فن ہے۔اسے اگر نثر غزل کا فن کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔جِس طرح غزل میں طویل مطالب مختصراً بیان کرنے پڑتے ہیں۔ٹھیک اسی طرح خاکہ میں مختصر الفاظ میں پوری طرح شخصیت پر روشنی ڈالنی پڑتی ہے۔یعنی خاکہ مختصر ہوتا ہے اور جامع بھی اور ان مذکورہ بالا الفاظ کی روشنی میں خاک نگاری کسی شخصیت کی عکاسی کا نام ہے۔اِس کا موضوع اِنسان ہے۔اور یہ نہایت سنجیدہ اور نازل موضوع ہے۔کیوں کے انسان کی شخصیت کے خاکہ میں اس کی سیرت کے بُنیادی عناصر اِس کے مزاح، افکار، و خیالات کا مطالعہ نا گزیر ہے۔

خطوط چہرے بھی کہاں سناتے ہیں
ہر نقش کے پیچھے کئی راز چھپاتے ہیں

مہاراشٹر جو ہندوستان کی ایک اہم ریاست ہے۔یہاں پر خاکہ نگاری کی ابتداء روایتی فنون سے ہوتی ہے۔فنون اورثقافت کی ایک بھر پور روایت پائی جاتی ہے۔مہاراشٹر میں خاکہ نگاری کی روایت کا آغاز مراٹھی ادب سے ہُوا۔ ١٩ ویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں مراٹھی ادیبوں نے اِس صنف کو فروغ دیا۔جِس میں مہاراشٹر کے اُردو ادیبوں نے خاکہ نگاری کے فنی روایت کو فروغ دیا ہے۔جیسے واکڑی تحریک اور ديہی ثقافتی مظاہر ہے۔ واڑ کڑی تحریک یعنی یہ ایک روحانی اور سماجی تحریک سے منسلک ہے۔عام طور پر یہ تحریک جد جہد یا عوامی بیداری کی کسی خاص شکل کو بیان کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔اور یہ تحریک مہاراشٹر اور قریبی علاقوں میں صدیوں سے موجود ہے۔اور بھگوان وٹھل (وٹھوبا) کی عبادت اور اُن کے لئے عقیدت کے اظہار پر مبنی ہے۔واکڑی تحریک میں مذھبی موضوعات پر مبنی خاکہ اور پینٹنگ شامل تھی۔جو ہیکتی تحریک کے دوران وٹھل (وٹھوبا) اور کرشنا کی عقیدت کے لئے بنائی گئی۔خاکہ نگاری کے sketch بھی اُن اہم فنون میں شامل ہے۔جو صدیوں پرانی تہذیبیں اور تخلیقی تاریخ کا حصہ ہے۔مہاراشٹر کے دیہی علاقوں میں اور قبائلی فنکاروں نے دیواروں، برتنوں اور مٹی کے status پر خاکہ بنائے۔یہ آرٹ عام طور پر فطرت، فعلوں اور دیوی دیوتاؤں سے لیکر متاثر تھا اور یہاں کے سب سے مشہور خاکہ نگاری کی مثالیں اجنتا ایلورا کی غاروں میں موجود ہے۔غاروں میں بدھ مت کی تصویریں،کہانیاں پر مبنی یہ تصویریں باریک بینی، قدرتی تاثر، عمدہ نقوش بولتی تصویریں ہیں۔مہاراشٹر کے قبائلی علاقے خصوصاً تھانے اور ناسک میں وارلی آرٹ یعنی (سفید رنگ سے مٹّی کی دیواروں پر نقش کرنا) روایتی خاکہ نگاری کا منفرد انداز پیش کرتی ہے۔اِس میں فطرت روز مره کی زِندگی اور تہواروں کے مناظر کو خاکوں کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے اور یہاں خاکہ نگاری caricature کی روایت ایک مضبوط اور منفرد ثقافتی پہلو رکھتی ہے۔یہ روایت سماجی، سیاسی اور ثقافتی تنقید کے ساتھ مزاحیہ اندام کو یکجا کرتی ہے۔خاکہ نگاری نے مہاراشٹر کی صحافتی اور فنکارانہ تاریخ میں اہم مقام حاصل کیا ہے۔خاص طور پر ۱۹ ویں صدی کے اواخر اور ۲۰ ویں صدی میں۔
مہاراشٹر کی تاریخی پس منظر۔مہاراشٹر میں خاکہ نگاری کی بُنیاد اُس وقت رکھی گئی جب پرنٹ میڈیا خاص طور پر اخبارات اور مسائل نے عوامی شعور پَیدا کرنے کے لئے خاکوں کا استعمال شروع کیا۔ ۱۹ ویں صدی کے مشہور مراٹھی اخبار "کیسری" جسے بال گنگا دھر تلک نے شائع کیا اور اس میں سیاسی و سماجی خاکہ پیش کئے گئے۔جو عوام کے لئے بیداری کا ذریعہ ہے۔مشہور خاکہ نگاری بال ٹھاکرے جو بعد میں شیوسینا کے بانی بنے۔مہاراشٹر میں سیاسی اور سماجی مسائل کو خاکوں کے ذریعے عوام کے سامنے پیش کیا۔اِن میں خاکہ خاص طور پر مارننگ ٹائمز اور دیگر اخبارات میں شائع ہونے والے عوام میں بےحد مقبول ہوئے۔ بال ٹھاکرے نے خاکہ نگاری کو "عوامی شعور کا آئینہ" قرار دیا۔وہ کہتے تھے خاکہ نگاری کا مقصد صرف تفریح نہیں بلکہ عوام کو سوچنے پر مجبور کرنا ہے۔آر کے لکشمن جن کا تعلق اگر چہ جنوبی ہندستان سے تھا لیکن اُن کے مشہور کردار common man عام آدمی نے مہاراشٹر کی شہری زِندگی کی مشکلات کو اُجاگر کیا۔انہوں نے کہا ہے کہ خاکہ ایک ایسی زُبان ہے جو الفاظ کے بعید بھی دِل پر اثر کرتی ہے۔ حقیقتوں کو جو آئینہ میں دیکھا دیا
وہ فن وہ خاکہ دلوں کو سما گیا۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔