شیخاپور میں عید الاضحیٰ کی نماز عقیدت و احترام سے ادا کی گئی۔ - قربانی کے ساتھ نفس کو پائمال کریں، حقوق العباد اور حقوقِ حیوان کا خاص خیال رکھیں: علماء کرام کا خطاب۔
ظہیرآباد 29/مئی( نمائندہ) شیخاپور میں عید الاضحیٰ کا تہوار روایتی مذہبی جوش و جذبے، اخوت اور امن و امان کے ساتھ منایا گیا۔ عید کی نماز صبح ٹھیک 8:00 بجے ادا کی گئی، جس میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کر کے بارگاہِ الٰہی میں ملک و ملت کی ترقی، امن و سلامتی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں مانگیں۔
عید کی نماز کی امامت کے فرائض حافظ محمد حاجی مولوی صاحب خیری نے انجام دیے، جبکہ عید کا رقت انگیز خطبہ جناب محمد حامد نوری صاحب نے دیا۔
نماز سے قبل جناب محمد ایوب مولوی صاحب نے ایک انتہائی فکر انگیز اور تربیتی خطاب کیا۔ انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی کا تذکرہ کرتے ہوئے موجودہ دور میں اس کے عملی تقاضوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں درج ذیل اہم باتوں پر خصوصی زور دیا۔
جانور کی قربانی کے ساتھ ساتھ انسان اپنے نفس کی قربانی دے، اپنی نیند کو قربان کر کے پنج وقتہ نمازی بنے اور نفسِ امارہ کو پائمال کر کے اسوۂ ابراہیمی کا سچا پیکر بنے۔
مزید خطاب میں کہا کہ قربانی کے گوشت میں غریبوں اور ضرورت مندوں کا خاص خیال رکھا جائے اور اصرار و احترام کے ساتھ گوشت ان کے گھروں تک پہنچایا جائے، تاکہ کوئی بھی اس خوشی سے محروم نہ رہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسلام ہمیں جانوروں کے ساتھ بھی رحم دلی کا درس دیتا ہے۔ قربانی کے وقت ایک جانور کے سامنے دوسرے جانور کو ذبح نہ کیا جائے، اور نہ ہی جانور کے سامنے چھری یا ہتھیار تیز کیا جائے، بلکہ بازو لے جا کر تیز کریں۔ جانور کے احساسات کا بھی پورا احترام کیا جائے۔
اسی طرح سے ایامِ قربانی میں دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے جذبات اور احترام کا پورا خیال رکھا جائے۔ نیز، پردے کا معقول انتظام کیا جائے تاکہ کسی قسم کی بے پردگی نہ ہو۔
ذبح کے بعد صاف صفائی کا مثالی انتظام رکھا جائے، گندگی کو فوری صاف کیا جائے تاکہ محلے اور دیہات کا ماحول خوشگوار رہے اور کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔
عید کی نماز کی ادائیگی کے بعد شیخاپور میں محبت اور یکجہتی کا ایک بے مثال منظر دیکھنے کو ملا۔ بلا لحاظِ مذہب و ملت، دیگر تمام مذاہب کے ماننے والے بشمول ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی بھائیوں نے ایک جگہ جمع ہو کر ایک دوسرے سے ملاقاتیں کیں، گلے ملے (بغل گیر ہوئے) اور عید کی مبارکباد پیش کی۔ دیہات کے اس پُرخلوص ماحول نے ثابت کر دیا کہ شیخاپور امن، محبت اور باہمی رواداری کا ایک گہوارہ ہے۔
واضح رہے کہ عید کے اس مقدس موقع پر دیہات کے راستوں اور گلیوں کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے گرام پنچایت کی جانب سے غیر معمولی انتظامات دیکھے گئے۔ گاؤں کے سرپنچ جناب محمد چشم الدین صاحب اور تمام حالیہ وارڈ ممبران کی خصوصی نگرانی میں پورے گاؤں اور عیدگاہ مسجد کی طرف جانے والے تمام راستوں کی مکمل صفائی و ستھرائی کا بہترین انتظام کیا گیا، جس کی وجہ سے مصلیان کو آمد و رفت میں بڑی سہولت ہوئی۔
عید کی نماز کو خوشگوار اور پرسکون ماحول میں پائے تکمیل تک پہنچانے کے لیے اندرونی انتظامات بھی شاندار تھے۔ مسجد العزیز کے موذن جناب محمد عبدالوحید صاحب اور جامع مسجد کے موذن جناب محمد غوث الدین صاحب نے مشترکہ طور پر صاف صفائی اور مصلیان کے لیے صفیں بچھانے کی بہترین خدمات انجام دیں۔
یہ تمام تر انتظامات عید گاہ/مسجد کمیٹی کے صدر جناب محمد عظیم الدین صاحب اور پوری کمیٹی کی سخت نگرانی و حسنِ تدبیر کے ساتھ عمل میں آئے۔ تمام مصلیان نے انتہائی پرامن اور پرمسرت ماحول میں عید کی نماز ادا کی اور ایک دوسرے کو گلے مل کر عید کی خوشیاں بانٹیں۔۔۔۔
Comments
Post a Comment