چنئی سے کولکاتا تک - نئی سیاسی کائنات کی نوید۔۔ ازقلم : جمیل احمد ملنسار - بنگلورو۔


چنئی سے کولکاتا تک - نئی سیاسی کائنات کی نوید۔
ازقلم : جمیل احمد ملنسار - بنگلورو۔
موبائل: 9845498354

سیاست کا میدانِ جنگ کبھی کبھار ایسا لمحہ جھلکی دیتا ہے جو نہ صرف ناظرین کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتا ہے بلکہ طاقت کے قدیم ضابطوں کو چیر پھاڑ کر رکھ دیتا ہے۔ آج تمل ناڈو سے مغربی بنگال تک پھیلا ہوا یہ منظرِ عجیب و غریب، کوئی معمولی انتخابی موج نہیں—یہ تو سیاسی تاریخ کا زلزلہ ہے، جو پرانی بنیادیں ہلا رہا ہے۔
تمل ناڈو میں ویجے کی آمد محض ایک فلمی ہیرو کا سیاسی شوق نہیں، بلکہ دراوڑی سلطنتوں کی صدیوں پرانی سلطنتِ اقتدار میں ایک شاہی بغاوت ہے۔ برسوں سے یہاں سیاست دو بڑے دراوڑی ستونوں—DMK اور AIADMK—کے گرد ایک مضبوط رسم کی مانند گھومتی رہی۔ اقتدار کا تخت بدلتا رہا، مگر تخت‌نشینی کا طریقہ وہی رہا: وراثت، فلاح، اور مقامی شناخت۔  
لیکن اس بار، ایک نئی جماعت کا پہلی ہی بار میں سیدھے حکومت میں آ جانا، وہ بھی قابلِ غور حد تک، ایک خاموش اعلان ہے: عوام کی وفا اب تاج و تخت کی میراث نہیں، بلکہ ہر بار نئی جنگیں لڑ کر حاصل کرنے والی چیز ہے۔
مگر ایک فلمی ستارہ، اپنی شہرت اور چمک سے ایک ریاست کی انتظامیہ کا قلعہ نہیں بنا سکتا۔ تمل ناڈو کی مٹی نے کئی ناکام ستاروں کو نگل لیا ہے—MGR اور جے للتا جیسی استثنائیں تو ہیں، مگر وہ استثناء نہیں، بلکہ منظم محنت کی نشانی تھیں۔ اصل امتحان تو تنظیم ہے: کارکنوں کی فوج، ذات پات کی پہیلی کو سلجھانے والی دانش، مقامی درباروں میں جوڑ توڑ، اور فلاحی خوابوں کی مضبوط بنیاد۔ اگر ویجے یہ نامعلوم مشینری کھڑی کر لیتا ہے تو یہ لمحہ ایک نئی سیاسی سلطنت کا آغاز ہوگا۔ ورنہ؟ بس ایک آتش بازی، جو آسمان کو روشن کر کے بجھ جائے گی۔
اب مغربی بنگال کی طرف متوجہ ہو جائیے—وہاں کی کہانی ایک سرد، حساب کتاب والی شطرنج ہے، جہاں غصہ محض بھڑک نہ سکا، بلکہ ہتھیار بن گیا۔ TMC کی حکومت مخالف ناراضی کوئی نئی بات نہ تھی، مگر BJP نے اسے ایک شاہانہ بیانیے میں ڈھال دیا: بدعنوانی کی سیاہ سلطنت، انتظامی تھکن کی زنجیریں، مقامی زخموں کی فریاد—سب کو شناخت کی آگ میں جلا کر ایک نظریاتی تلوار بنا دی۔ یہ محض ووٹوں کی لڑائی نہ تھی، بلکہ ایک فلسفۂ حیات کا تصادم تھا۔
اور سب سے بڑا کمال؟ مقامی لہجے کا جادو۔ جو پارٹی پہلے “باہر کی” لگتی تھی، وہ اب بنگال کی اپنی آواز بن گئی۔ نعرہ بدل گیا: “تمہیں بدلنا ہوگا” سے “اپنا حق واپس لو” تک۔ یہ لفظوں کی وہ گھٹ بندی تھی جس نے سیاسی ہوا کا رخ موڑ دیا۔
مگر اس شطرنج بورڈ پر ایک پوشیدہ چال اور بھی تھی: انتخابی میدان کا جادو۔ ووٹر لسٹوں کی بھاری بھرکم تبدیلیاں، اداروں پر لگنے والے سوالیہ نشان، اعتماد کی نازک ریشم—یہ سب اعداد سے زیادہ نفسیات بدلتے ہیں۔ جب ووٹر کو جیت کی مہک آ جائے تو وہ بہاؤ میں شامل ہو جاتا ہے۔ انتخابات ووٹوں کا محاسبہ نہیں، عقائد کی جنگ ہیں۔
چنئی سے کولکاتا تک ایک ہی سچ سامنے آ رہا ہے: سیاسی یقین کی دیواریں گر رہی ہیں۔ وراثت، فلاح، شناخت—یہ پرانے ستون اب خود کھڑے نہ رہیں گے۔ عوام کا سمندر اب زیادہ بے لگام، زیادہ بے صبر، اور جماعتوں کے پرانے خوابوں سے آزاد ہو چکا ہے۔
یہ افراتفری نہیں، بلکہ ایک نئی کائنات کی پرچھائیاں ابھر رہی ہیں—جہاں ستارے نئے تختوں پر چڑھتے ہیں اور پرانے سلاطین مٹی میں مل جاتے ہیں۔  
پیغام تو صاف ہے جیسے کوئی قدیم حکیم کا آخری فتوٰی: بدلو، یا مٹ جاؤ—کیونکہ تاریخ نہ تو معاف کرتی ہے، نہ بھولتی ہے؛ وہ تو بس نئے ابدیوں کو جنم دیتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔