حج، قربانی اور ملک کے حالات — ایک سنجیدہ سوال۔ - سید فاروق احمد قادری۔
حج، قربانی اور ملک کے حالات — ایک سنجیدہ سوال۔ -
سید فاروق احمد قادری۔
فجر کے بعد لاکھوں حاجی میدانِ عرفات کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بندہ اپنے رب کے سامنے کھڑا ہو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے۔ ظہر و عصر کی نمازیں ادا ہوتی ہیں، دعائیں مانگی جاتی ہیں، آنسو بہتے ہیں اور رحمتِ الٰہی جوش میں ہوتی ہے۔ پھر مزدلفہ اور منیٰ کا سفر، شیطان کو کنکریاں مارنا، قربانی کرنا اور احرام کھولنا — یہ سب حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی عظیم سنت کی یاد دلاتے ہیں۔
حاجی جب یہ مناسک مکمل کرتا ہے تو گویا گناہوں سے پاک ہو کر نئی زندگی حاصل کرتا ہے۔
تقریباً ایک کروڑ کے قریب انسانوں کا عرفات میں جمع ہونا قیامت کے دن کی یاد دلاتا ہے جب پوری انسانیت اللہ کے سامنے حساب کے لیے کھڑی ہوگی۔
اللہ تعالیٰ تمام حاجیوں کا حج قبول فرمائے، ان کے گناہوں کو معاف فرمائے اور امتِ مسلمہ پر رحم فرمائے۔ آمین۔
دوسری طرف قربانی اسلام کی ایک جائز، مقدس اور سنتِ ابراہیمی عبادت ہے۔ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، کھانے پینے اور اپنی تہذیب کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی حاصل ہے۔ مگر افسوس کہ آج قربانی کے مسئلہ کو سیاسی رنگ دے کر خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
وزیراعظم کی جانب سے “سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس” کا نعرہ دیا گیا تھا، مگر آج مسلمان یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہیں کہ کیا واقعی ان کے جذبات، مذہبی آزادی اور احساسات کا احترام کیا جا رہا ہے؟ اگر ملک سب کا ہے تو پھر صرف ایک طبقہ کو بار بار شک و شبہ کی نگاہ سے کیوں دیکھا جا رہا ہے؟
2014 کے بعد سے ملک میں نفرت، مذہبی کشیدگی اور تقسیم کی سیاست میں اضافہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ “سب کا وکاس” کے بجائے ایک مخصوص طبقہ کو خوف، دباؤ اور نفرت کا شکار بنایا جا رہا ہے۔ حالانکہ ہندوستان کی اصل طاقت اس کی بھائی چارہ، گنگا جمنی تہذیب اور آئینی مساوات میں ہے۔
منی پور کے جلتے ہوئے حالات، یوپی میں کارروائیاں، مہاراشٹر کے بعض علاقوں میں کشیدگی اور بنگلہ دیش کے مناظر — یہ سب سوال کھڑے کرتے ہیں کہ آخر ملک کس سمت جا رہا ہے؟
اصل مسائل بے روزگاری، مہنگائی، تعلیم اور امن کے ہیں، مگر عوام کی توجہ مذہبی معاملات میں الجھا دی جاتی ہے۔
کئی ریاستوں میں قربانی پر سخت پابندیاں، جانوروں کی عمر کے قوانین، گوشت کی دکانوں پر چھاپے، گاڑیوں کی چیکنگ اور پولیس کی سختیاں یہ سوال پیدا کرتی ہیں کہ کیا قانون صرف ایک طبقہ کے لیے ہے؟
جبکہ بعض ریاستوں میں کھلے عام گوشت فروخت ہوتا ہے اور بیرونِ ملک گوشت کی تجارت سے کروڑوں کا منافع حاصل کیا جاتا ہے، تو پھر صرف مسلمانملکوں کی عبادت پر اعتراض کیوں؟
حقیقت یہ ہے کہ قربانی صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ اس سے ہزاروں غریب خاندان، چرواہے، کسان، چمڑے کے مزدور اور جانور پالنے والے ہندو و مسلم سب وابستہ ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک میں نفرت نہیں بلکہ انصاف، بھائی چارہ اور آئین کی بالادستی قائم ہو۔
اللہ تعالیٰ ہمارے ملک میں امن، بھائی چارہ اور محبت قائم فرمائے۔ آمین۔
Comments
Post a Comment